Baseerat Online News Portal

ممبئی کے فسادات نہ بھولیں

شکیل رشید
ہم ممبئی کے فسادات کو کیو ں بھول گئے ہیں ؟
یہ سوال اس لیے اٹھ رہا ہے کہ ہمیں بابری مسجد کی شہادت آج ۲۵برسوں کے بعد بھی یاد ہے، اورہر ۶؍دسمبر کو ہم بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں ’یو م سیا ہ‘ مناتے ہیں ، احتجاج کرتے اور مظاہرے کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ بابری مسجد کو ہم ہمیشہ بابری مسجد ہی سمجھتے رہیں گے (اور یہ احتجاج بجا بھی ہے) مگر ان افراد کی شہادت کو فرامو ش کر دیتے ہیں جنہو ں نے ممبئی کے دومرحلو ں کے فسادات میں بابری مسجد کی شہا دت پر رنج والم اور غم وغصے میں ڈوب کر احتجاج درج کرانے کی کو شش میںاپنے سینو ں پر گولیا ں کھائی تھیں۔
ہمیں نہ بابری مسجد کی شہادت کے رنج والم اور غم وغصے کے الائو کو فرامو ش کرنا چاہئے اور نہ ہی ممبئی کے دو مر حلوں کے فسادات کو ۔دو نوں ہی کی یا د یں لازم وملزوم ہیں۔ اگر بابری مسجد شہید نہ کی جاتی تو ممبئی کے مسلمان احتجاج درج کرانے کے لیے نہ سڑکوں پر اترتے او رنہ ہی ان کے سینے پولس کی گولیوں سے سرخ ہوتے۔ اور نہ ہی شیوسینا، بی جے پی اورکانگریس کے سیاست داںبالترتیب تشدد، نفرت اور مفاد پرستی کے گھنائونے کھیل کھیلتے۔ حیرت ہوتی ہے کہ آج وہ مسلم تنظمیں او رجماعتیں بھی ، جو ممبئی فسادات کی انکوائری کے لیے قائم کیے گئے ’جسٹس سری کرشنا کمیشن‘ میں گواہیاں دلانے کے لیے پیش پیش تھیں ممبئی کے فسادیوں کو سلاخوں کے پیچھے کرانے کے لیے سرگرم نہیں ہیں! اگر ان سے سوال دریافت کیاجائے کہ ایسا کیوں ہے تو جواب ملتا ہے کہ معاملہ چونکہ سپریم کورٹ میں ہے اس لیے مجبوری ہے۔ پر آواز تو اُٹھائی جاسکتی ہے، مطالبہ تو کیاجاسکتا ہے، انصاف کے لیے صاحبان اقتدار کو پکارا تو جاسکتا ہے۔ کچھ نہیں ہورہا ہے، مکمل خاموشی کا عالم ہے۔
یہ خاموشی ’مظلومین‘ کے حوصلوں کو پست کررہی، اور ’ظالموں ‘ کی شرپسندی کو تقویت دے رہی ہے۔ ممبئی کے دومرحلوں کے فسادات ہمیں اس لیے یاد رکھنا ضروری ہیں کہ یہ ہولناکی اور درندگی میں گجرات ۲۰۰۲ کے فسادات سے کم نہیں تھے۔ لوگ پرتکشا نگر کے اس ننھے بچے کو بھول نہیں سکتے جسے تلواروں سے کاٹ کر آگ میں جھونک دیاگیا تھایا ان افراد کو جو کار کے اندر زندہ جلادئیے گئے تھے۔ نہ ہی مضافات میں عریاں حالت میں گھومتی اس سفید پوش خاتون کو فراموش کیا جاسکتا ہے جس کے شوہر کو اس کی نظروں کے سامنے قتل کیاگیا اور اس کے بعد اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ نہ ہی ہری مسجد کے اندر نمازیوں پر کی گئی گولی باری فراموش کی جاسکتی ہے اور نہ ہی دارالعلوم امدادیہ اور سلمیان عثمان بیکری میں پولس کا متعصبانہ ایکشن ، نہ ہی کرافورڈ مارکیٹ کے اس نوجوان کو بھلایا جاسکتا ہے جسے پولس ہی نے پکڑ کر شیوسینکوں کو سونپ دیاتھا تاکہ اس کے ٹکڑے کیے جاسکیں۔ ممبئی کے فسادات سے ہی گجرات کے فسادات نے جنم لیا تھا۔ گجرات تو اس لیے یاد ہے کہ کانگریس اسے بھولنے دینانہیں چاہتی۔ پر ممبئی کیوں یاد نہیں؟ مہاراشٹر پر ان دنوں کانگریس کی حکومت تھی اورکانگریسی سرکار دو مرحلوں میں ممبئی کو جلتے دیکھتی رہی بلکہ اس نے جلانے کی مکمل آزادی دے دی تھی۔ گجرات کی مودی سرکار ، مودی او ربی جے پی ہی کی طرح اس وقت کی سدھاکر نائک سرکار اور کانگریس بھی مجرم ہے۔
یہ فسادات یاد اس لیے رکھے جائیں کہ تمام ہی مجرم جن میں پولس والے اور سرکاری افسران تو شامل ہیں ہی سیاست داں بھی شامل ہیں آج بھی آزاد ہیں بلکہ خود کو سب سے بڑا سیکولر ثابت کرتے پھر رہے ہیں۔ ان سب کے جھوٹ ان کے چہروں پر مارنے کے لیے ممبئی کے فسادات کی یاد ضروری ہے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like