ہندوستان

شیخ الہند کالج کی منظوری منسوخ ہونے کا خطرہ

شیخ الہند کالج میں سہولیات فراہمی کے نام پر یوگی حکومت نے بھی کیا مایوس ،اسمبلی میں اٹھایا جائے گا معاملہ
دیوبند۔۱۴؍؍دسمبر(ایس۔ چودھری)شیخ الہند مولانامحمود حسن میڈیکل کالج سہارنپور کی منظوری پر خطرے کے بادل منڈارہے ہیں۔ایم سی آئی کی ٹیم ستمبر 2017ء میں کالج کا معائنہ کرکے لوٹی تھی،بدانتظامی کو دیکھتے ہوئے ٹیم نے خامیاں دور نہ کرنے پر منظوری منسوخ کرنے کا انتباہ دیا تھا،ٹیم اب مارچ 2018ء میں دوبارہ جانچ کے لئے آئے گی،چونکہ کالج میں بدانتظامیاں مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہیں،ان حالات میں کالج کی منظوری برقرار رہنا مشکل نظر آرہاہے۔تقریباً آٹھ سال قبل سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے سہارنپور میں واقع انبالہ روڈ پر کانشی رام میڈیکل کالج کا قیام کیا تھا۔ اس کے بعد صوبہ میں آئی ایس پی حکومت نے کالج کا نام تبدیل کرکے شیخ الہند مولانا محمود حسن میڈیکل کالج کیاتھا،ساتھ ہی اوپی ڈی بھی شروع کی تھی مگر باقی ضرور وسائل اورمین پاور کالج کو آج تک نہیں مل سکی ہے،کالج مختلف طرح کے مسائل سے دوچار ہے،کالج کا معاہدہ اسٹاف چھ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے گزشتہ ایک ہفتے سے ہڑتال پر تھا جو اب رکن اسمبلی کی یقین دہانی کے بعد واپس کام پر لوٹاہے۔رواں سال ستمبر ماہ میں ایم سی آئی کی ٹیم نے کالج کادورہ کیا تھا،ٹیم نے کالج میں مختلف قسم کی خامیاں پائی تھی ،جس کے بعد ٹیم نے دوبارہ آئندہ سال مارچ میں کالج کا دورہ کرنے کی بات کہی تھی،ساتھ ہی مارچ تک خامیاں دور نہ کرنے پر کالج کی منظوری منسوخ کرنے کا انتباہ دیا تھا،مگر کالج انتظامیہ نے ایم سی آئی کی وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا، صوبہ میں یوگی سرکار بننے کے بعد کالج کے حالات بہترہونے کی امید تھی،مگر ایسا نہیں ہوا،موجودہ حالات ایسے ہیں کہ کالج کی صرف شاندار عمارت ہے جبکہ وسائل اور مین پاور کی زبردست کمی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے اگر اس کالج میں سہولیات دی جائیں تو عوام کو اس کا بڑافائدہ پہنچے گالیکن سرکاریں اپنے نفع نقصان کے اعتبار سے ہی ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیتی ہیں۔اس سلسلہ میں ڈی ایم پی کے پانڈے کاکہناہے وہ کالج کی حالات سے بہتر طورپر واقف ہیں اور اس سلسلہ میں سرکار سے بات بھی ہوئی ،کوشش یہی ہے کالج کو بہتر سہولیات ملے تاکہ عوام کو اس کا فائدہ پہنچ سکے اور یہاں سے نوجوان پڑھ لکھ کر سماج کی بہتر خدمات کرسکیں۔وہیں رکن پارلیمنٹ راگھو لکھن پال شرما کاکہناہے کالج کی سہولیات کے لئے حکومت کو خط لکھا گیاہے ،امید کی جانی چاہئے کہ جلدی ہی کالج میں بہتر سہولیات دستیاب ہونگی، کسی بھی صورت میںکالج کی منظوری کو منسوخ نہیںہونے دیا جائے گا۔رکن اسمبلی سنجے گرگ ملازمین کی ہڑتال ختم کرنے کی غرض سے کالج پہنچے اور بتایا کہ وہ صوبہ کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کالج کی حالات سے واقف کراچکے ہیں لیکن سرکار اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے،سرکار نیا کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن موجودہ چیزوں پر توجہ دے کر انہیں بہتر بنانے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔اس معاملہ کو اسمبلی میں اٹھایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker