روبرومضامین ومقالات

’’بصیرت آن لائن‘‘ کو دنیا کے ۸۰؍ممالک میں پڑھا جارہاہے: غفران ساجد قاسمی

انٹرنیٹ کی ایک مشہور نیوز پورٹل جسے کئی بار ہیکرس نے ہیک کیا
آپ کی بات: فرحان حنیف وارثی
انٹرنیٹ کی دنیا کا مشہور نیوز پورٹل ’’بصیرت آن لائن‘‘ ایک معتبر اور متحرک نیوز پورٹل ہے۔ اس کا آغاز مارچ ۲۰۰۳ میں سہ ماہی رسالہ ’’بصیرت‘‘ کی شکل میں ہوا تھا۔ ۸۰؍صفحات پر مشتمل ڈیمائی سائز کا یہ رسالہ نہ صرف مقبول عام تھا بلکہ اس کی اشاعت میں بھی تسلسل قائم تھا۔ غفران ساجد قاسمی (چیف ایڈیٹر) ان دنوں درس وتدریس سے منسلک تھے۔ انہیں بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا جو بڑے ہوتے ہوتے ایک خاص مقصد میں تبدیل ہوگیا۔ وہ بہار کے ضلع مدھوبنی کے مشہور مدرسہ ’’چشمہ فیض ململ ‘‘ میں مدرس تھے لہذا انہوں نے ’’بصیرت‘‘ کو مدرسہ کا ترجمان بناکر شائع کیا۔ انہو ںنے کہا ’’اس مدرسہ کی بنیاد آج سے ڈیڑھ سوسال قبل رکھی گئی تھی اورآج یہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی ایک اہم شاخ ہے۔ شروع میں یہ رسالہ مدرسے کی ترجمانی کے مقصد سے شائع کیاگیا تھا ۔ پیش نظر یہ بھی تھا کہ اس سے علم وادب خصوصاً اسلامی ادب کو فروغ دیا جائے ۔ آج کل صحافت میںمرچ مصالحہ لگا کر خبریں شائع کی جاتی ہیں لیکن مجھے اسلامی مزاج کی صحافت پسند ہے۔ نہ سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنا مجھے بھاتا ہے اور نہ ہی جھوٹ کو سچ بناکر پیش کرنااچھا لگتا ہے۔ ’’بصیرت‘‘ کی اشاعت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اسلام پر چہار جانب سے کئی طرح کے اعتراضات کیے جاتے ہیں لہذا ان اعتراضات کا مثبت انداز میں دفاع کرنا اور صحیح صورتحال سے قارئین کو روشناس کرانا۔ الحمد للہ رسالہ اپنی اشاعت کی مدت کے دوران اپنے اس مقصد میں کامیاب رہا‘‘۔
غفران ساجد قاسمی کو اردو کی قدیم صحافت میں مولانا ابوالکلام آزاد نے متاثر کیا ہے۔ انہوں نے ’’البلاغ‘‘ اور ’’الہلال‘‘ نامی رسالوں کی فائلوں کا مطالعہ کیا ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ بھی ان کے پسندیدہ صحافیوں کی فہرست کا حصہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ’’موجودہ دور میں مجھے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے مضامین نے گرویدہ کیا ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب میرے استاذ اورمربی ہیں ۔مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نئی نسل کے ہزاروں افراد کے مربی ہیں،وہ المعہدالعالی الاسلامی حیدرآبادکے بانی وناظم اورآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان اور سکریٹری بھی ہیں۔ میں ابتداء سے آپ کا مداح رہا ہوں۔ مولانا صاحب خوب لکھتے ہیں او ربہت لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں نہایت جامع ہوتی ہیں۔ آپ کا مستقل کالم ’’شمع فروزاں‘‘ کے عنوان سے روزنامہ منصف(حیدرآباد) میں ہرجمعہ کو شائع ہوتا ہے۔ روزنامہ ’انقلاب‘ میں بھی آپ کے مضامین برابر نظر آتے ہیں۔ دراصل مولانا صاحب نے ہی ’’بصیرت ‘‘ نام تجویز کیا تھا۔ میں حیدرآباد سے اپنی تعلیم مکمل کرکےبطور مدرس ’’مدرسہ چشمہ فیض ململ‘‘ کے لیے روانہ ہورہا تھا، میں نے حضرت الاستاذ سے کہا کہ میں ایک رسالہ شائع کرنے کا متمنی ہوں لہذا آپ کوئی نام تجویز کردیں۔ میری درخواست پر انہوں نے ’’بصیرت ‘‘ نام رکھنے کا مشورہ دیاتھا‘‘۔
غفران ساجد قاسمی نے بصیرت جاری کیا او ران کی بصیرت نے اسے استحکام عطا کیا۔ دہلی سے شائع ہونے والے ’’اردو بک ریویو ‘‘کے ایڈیٹر عارف اقبال نے ’’بصیرت‘‘ پر فی البدیہہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہار میں علم وادب پر برف کی سل جم گئی تھی آپ نے ’’بصیرت‘‘ شائع فرما کر اس پر ہتھوڑا مارا ہے۔ بہرحال! نامساعد حالات اور معاشی مجبوریوں کے سبب انہیں وطن چھوڑ کر دیار غیر کا رخ کرنا پڑا اور ان کے پرواز کرتے ہی ادھر ’’سہ ماہی بصیرت ‘‘کی اشاعت میں تسلسل باقی نہ رہ سکااورمدرسہ والوں کو اس کی اشاعت کوبند کرنا پڑا۔ کسی بھی اخبار یا رسالہ کی مسلسل اشاعت کے لیے پیسوں کے علاوہ نفری قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ غفران ساجد قاسمی کو ریاض (سعودی عرب) میں ملازمت کے دوران ایک بار پھر ’’بصیرت‘‘ کو جاری رکھنے کا خیال آیا اور انہوں نے اسے آن لائن نکالنے کا فیصلہ کیا۔ وہ روشنی ڈالتے ہیں ’’ریاض میں مجھے خیال آیا کہ آج سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے اور محض ایک کلک کے ذریعہ آپ انٹرنیٹ پر پوری دنیا گھوم سکتے ہیں۔ بس وہیں سے میں نے اسے دوبارہ جون یا جولائی ۲۰۱۲ میں ’’بصیرت آن لائن‘‘ کے نام سے جاری کیا‘‘۔ غفران ساجد قاسمی نے انٹرنیٹ ایڈیشن کے چیف ایڈیٹر اور یوسف رام پوری نے ایڈیٹر کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے بتایا ’’ابتدائی سال ’’بصیرت آن لائن‘‘ کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوا کیو ںکہ اس کا ڈیزائن کوئی خاص نہیں بن سکاتھا جس کی وجہ سے اسے اپڈیٹ کرنا بڑا مشکل تھا۔ ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۳ میں اسے بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہیں اور اسی دوران حیدرآباد کے عبدالعزیز نامی ایک ویب ڈیزائنر سے رابطہ ہوا اور انہوں نے اسے نئے سرے سے ڈیزائن کیا اور اس طرح ۲۰۱۳ء کے آخر میں ’بصیرت آن لائن ‘ پوری طرح فعال ہوگیا۔ آج الحمدللہ اسے روزانہ اپڈیٹ کیاجاتا ہے۔ میں اپنے ساتھ سفر کے دوران بھی لیپ ٹاپ رکھتا ہوں اور موقع بہ موقع اسے اپڈیٹ کرتا رہتا ہوں۔ میرے علاوہ ٹیکنیکل ایڈوائزمولانا بدرالزماںقاسمی صاحب بھی اسے برابر اپڈیٹ کرتے رہتے ہیں‘‘۔
ایک خوش آئند بات یہ ہوئی کہ ’’بصیرت آن لائن‘‘ نے نئے لکھنے والوں کی پوری ایک کھیپ تیار کی جو آج ملک کے بڑے اور نامی گرامی اخبارات کے لیے مضامین لکھ رہے ہیں۔ یہ وہ قلمکار ہیں جن کے مضامین چھاپنے کےلیے پہلے کوئی اخبارتیار نہ تھا اور جب انہیں ’’بصیرت آن لائن‘‘ نے شائع کیا تو دیگر پرنٹ میڈیا نے بھی انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ آج بصیرت ا ٓن لائن کو گوگل کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے۸۰ ممالک میں پڑھا جارہا ہے اورنیپال ، پاکستان، خلیجی ممالک اور سائوتھ افریقہ وغیرہ میں بھی اس کے نمائندےمقرر ہیں۔
غفران ساجد قاسمی کے بقول ’’ دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھنے اور لکھنے والے افراد موجود ہیں وہاں اسے پڑھا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ News Huntنامی ایپ نے بھی اپنے ایپ میں ’’بصیرت آن لائن‘‘ کوشامل کر رکھا ہے۔ News Huntاب Daily Huntمیں تبدیل ہوگیا ہے اور ان کا صدر دفتر بنگلور میں واقع ہے۔ ہندوستان اور باہری ممالک کے لگ بھگ پندرہ زبانوں کے اخبارات کو اس نے شامل کر رکھا ہے ۔ کئی اخبارات کا کریسٹل اور ایپل آئی فون سے اشتراک ہے اور اس فہرست میں ’’بصیرت آن لائن‘‘ بھی موجود ہے۔ ‘‘ انہوں نےمزید کہا ’’دھنباد کی کول مائن یونیو رسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر نے مجھ سے رابطہ کرکے کہاکہ میں عہد حاضر میں نیٹ کے توسط سے اردو میں صحافتی خدمات پر کام کررہا ہوں اور اس فہرست میں ’’بصیرت آن لائن ‘‘ اول مقام پر ہے‘‘ اوراس ضمن میں انہوں نے بصیرت کاڈاٹاحاصل کرکے اپنے تحقیقی مقالہ میں شامل کیا۔ انہوں نے بتایا ’’افسوسناک اطلاع یہ ہے کہ اب تک تین چار مرتبہ ’’بصیرت آن لائن‘‘ کی سائٹ پر سائبر حملہ کیاگیا ہے جس میں ہیکرس نے سارا ڈیٹا ہیک کرلیا ہے۔ ہم نے اردو ،ہندی اور انگلش تینوں زبانوں میں اسے شروع کیا تھا مگر ہیکنگ کے بعد اسے صرف اردو میں ہی جاری رکھاگیا ہے۔ ان شاء اللہ مستقبل میںدوسری زبانوں میں بھی اسے شروع کیاجائے گا۔ ‘‘
فی الحال ’’بصیرت آن لائن ‘‘ کےایڈیٹوریل بورڈ میں چیف ایڈیٹر غفران ساجد قاسمی، ایڈیٹر مظفر احسن رحمانی،گروپ ایڈیٹرمحمد نافع عارفی، ایگزیکٹیو ایڈیٹرمحمد عمر عابدین قاسمی مدنی، جوائنٹ ایڈیٹر ارشد فیضی ، ٹیکنیکل ایڈوائزر بدرالزماں قاسمی،سوشل میڈیاکوآرڈینیٹرشہاب الدین صدیقی ہیں۔ بصیرت میڈیاگروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر مولانا خان افسر قاسمی ہیں۔ ’’بصیرت آن لائن‘‘ کو اردو کے تجربہ کار صحافی اور روزنامہ ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے مدیر شکیل رشید صاحب کی سرپرستی حاصل ہے۔ غفران ساجد قاسمی نے ’’بصیرت آن لائن‘‘ کا آغازمدرسہ چشمہ فیض ململ کے مہتمم مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی کی حوصلہ افزائی سے کیا تھا۔ www.baseeratonline.comپر کلک کرتے ہی ’’بصیرت آن لائن‘‘ کھل جائے گا اور آپ کی نگاہ اس شعر پر رک جائے گی ’’خدایا آرزو میری یہی ہے، میرا نور بصیرت عام کردے‘‘۔ غفران ساجد قاسمی قوم کا نور بصیرت عام کرنے کی کاوشوں میں پورے انہماک کے ساتھ مصروف ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker