جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

چند باتیں اردو زبان کے ادیبوں سے

شکیل رشید

ردِّ عمل شدید بھی ہے جائز بھی اور بروقت بھی۔
علی گڑھ میونسپل کارپوریشن میں اردو زبان میں حلف لینے کے جرم میں بی ایس پی کے کونسلر مشرف حسین کو جس بے رحمی سے پیٹاگیا اور پیٹنے والوں کو بخشنے اور مشرف حسین ہی کو ’مجرم‘ گرداننے کا جو غیر قانونی قدم پولس نے اُٹھایا اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس ملک میں اکثر لوگوں کے ذہن فرقہ پرستی سے اس قدرمسموم ہوگئے ہیں کہ انہوں نے زبانوں کو بھی ’ہندو اور مسلم‘ کے خانوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ہندی کا مطلب اب ’ہندو‘ اور اردو کا مطلب اب ’مسلمان‘ ہوگیا ہے۔ ایک دن وہ بھی آئے گا کہ انگریزی کا مطلب ’عیسائی‘ سمجھا جائے گا۔ یہ ایک ایسی لہر ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے برادران وطن کے سا تھ مل کر مہم چلانا ضروری ہوگیا ہے۔ اس میں ’سب کا ساتھ‘ ضروری ہے کیوں کہ یہ جو فرقہ پرست ہیں انہیں مودی سرکار اور بی جے پی کی ریاستی سرکاروں کی پشت پناہی حاصل ہے اور جب تک سب یکجٹ ہوکر اس کے خلاف آواز نہیں بلند کریں گے نہ مودی سرکار کے کان پر جوں رینگے گی نہ ریاستی سرکاروں کے کانوں پر۔
خوشی کی بات ہے کہ علی گڑھ کے واقعے کی مذمت چاروں طرف ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا پر خوب مذمتی بیانات آرہے ہیں۔ ایک بیان اردو کے جواں سال ادیب رحمٰن عباس کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کا بیان درج ذیل ہے ’’دوستو!علی گڑھ کارپوریشن میں اردومیں حلف لینے پر جو ہنگامہ ہوا ہے وہ ایک سنجیدہ منظرنامہ ہے۔ اردو معاشرے کا ردعمل اس صورت حال پر کس طرح سامنے آتا ہے یہ بھی اہم ہے۔ اس مسئلے پر سنجیدگی سے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو مل کر اس صورت حال پر غور وفکر کرنا چاہیے۔ سب کا مشورہ درکار ہے … دوستوں سے گذارش ہے کہ اپنے علاقے کے اہم افراد تک اس پیغام کو پہنچائیں: پہلی فرصت میں ہم کیا کریں:1 احتجاجاً یوپی اردو اکیڈمی کےاراکین اور عہدیداروں کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ 2۔ یوپی کے چند ادیب ریاستی انعام واپس کریں۔ 3۔ الہ آباد اور لکھنو میں ہندی اور اردو کے ادیب مشترکہ پریس کانفرس لیں اور اردو پر بہتان لگانے والوں پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کریں۔ 4 اردو اور ہندی کے ادیب ایک ساتھ الہ آباد یا لکھنو میں علامتی یا خاموش احتجاج درج کریں۔ 5 علی گڑھ ، جامعہ اور دیگر اردو یونی ورسٹی کے اساتذہ صدر مملکت اور PM کو خط لکھیں اور کاپی سریم کورٹ کے جج کےبھی ارسال کریں۔ 6 ملک گیر سطح پر اردو ادیب دوسری زبانوں کے ادیبوں کے ساتھ مل کر ایک بیان جاری کریں جس میں یوپی پولیس اور حکومت کی سرزنش ہو۔۔۔ہر اردو والا یہ سمجھے کے یہ اس کی اپنی ذمے داری ہے۔ اور اگر آپ کو لگتا ہے جو کچھ ہوا ہے اس کا اردو ادیبوں سے کوئی تعلق نہیں ہمارا کام تنقیدی مباحث کرنا ہے تو مجھے معاف کیجیے‘‘۔
رحمن عباس کی تمام ہی تجاویز ایسی ہیں جن پر عمل کیاجاناچاہئے۔ لیکن بات صرف یوپی تک ہی محدود نہ رکھی جائے، میری رائے یہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ہر ریاست میں اردو کے ادیب مذکورہ مشورہ پر عمل کریں۔ مہاراشٹر میں بھی مجھے امید ہے کہ رحمن عباس اس کی شروعات کریں گے۔ وہ پھر اپنا ایوارڈ واپس کریں گے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دیں گے۔وہ دوسری زبانوں کے ادیبوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اس لیے یہ یقین ہے کہ وہ انہیں اس مہم میں شریک کرسکیں گے۔ ایک با رپھر ایوارڈ کی واپسی ہو اور اس بار ایوارڈ کی واپسی ’اردو‘ کے نام پر ہو۔ ویسے حالات ابھی بھی ٹھیک نہیں ہوئے ہیں۔ اب بھی لوگ مذہب کے نام پر مارے کاٹے جارہے ہیں۔ ادیب بے حس نہیں ہوتے؛ امید ہے کہ اردو کے تمام ہی ادیب رحمان عباس کے مشوروں پر غور کریں گے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker