ہندوستان

۲۲؍ سالوں سے جیل میں مقید مسلم ملزم کی پیرول پر رہائی

جمعیۃ علماء کی کوششوں سے جئے پور ہائیکورٹ نے اجازت دی
ممبئی ۱۹؍ دسمبر (پریس ریلیز) گذشتہ ۲۲؍ سالوں سے جیل کی صعوبتیں جھیلنے والے ایک مسلم ملزم کی پیرول پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء کے توسط سے جئے پور ہائی کورٹ میں داخل عرضداشت پر آج حتمی سما عت عمل میں آئی جس کے دوران چیف جسٹس نے ملزم کو اس کے لڑکے کی شادی میں شرکت کے لیئے پیرول پر رہائی کا پروانہ جاری کیا حالانکہ اس درمیان راجستھان حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے ملزم کو پیرول پر رہا کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے اورا گر اسے رہا کیا گیا تووہ فرار ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ من گھڑت باتیں بتائیں لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا ۔ ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ گذشتہ۲۲؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے فضل الرحمن صوفی کی پیرول پر رہائی کے لیئے جئے پور ہائی کورٹ میں یک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے چیف جسٹس دنیش سومانی کو بتایا تھا ملزم گذشتہ ۲۲؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے نیز ملزم کے لڑکے کی شادی طئے پائی ہے لہذا شادی میں شرکت کے لیئے ملزم کو پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اس کے فرزند کی شادی میں شرکت کرسکے ۔ایڈوکیٹ مجاہد نے چیف جسٹس کو بتایا کہ جیل انتظامیہ نے ملزم کو پیرول پر رہا کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ قانون کے مطابق ہر قیدی کو یہ حق حاصل ہیکہ وہ شادی بیاہ، موت ، میڈیکل اور دیگر مواقعوں پر وہ پیرول کی درخواست کرسکتا ہے اور اسے پیرول پر رہا کرنا جیل انتظامیہ کا فرض ہے لیکن اس معاملے میں جیل انتظامیہ نے پولس کی منفی و من گھڑت رپورٹ کی بنیاد پر عرض گذار کو پیرول پر رہا کرنے سے انکار کردیا تھا ۔چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ مجاہد کے ولائل سے اتفاق کرتے ہوئے فضل الرحمن صوفی کو ایک ہفتہ کے لیئے پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ آج کی عدالتی کارروائی کی روشنی میں جئے پور جیل انتظامیہ سے اگلے چند ایام میں رجوع کیا جائے گا تا کہ ملزم کی پیرول پر رہائی جلد از جلد ممکن ہوسکے اور وہ اس کے فرزند کی شادی میں شرکت کرسکے۔واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker