جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

توپھر مسلمانو ں کا اللہ ہی حافظ ہے!

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
بھلا مسلمانو ں کو کب عقل آئے گی۔
یہ سوال حالانکہ فی الحال گجر ات اسمبلی لیکشن کے تناظر میں ہے مگر اسے ماضی بعید سے لے کر اب تک کے ہر الیکشن کے تناظر میں دیکھاجاسکتاہے ۔ گجر ات کے حالیہ اسمبلی الیکشن میں بھی، ملک کے سابقہ الیکشنو ں کی طرح مسلمانوں کے بکنے کا خریدے جانے اور اپنوں ہی کو یا اپنے ہمدردوں کو ہرانے کے لیے اس کے خلاف میدان میںاترنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ ایک مثال لیں:احمد آباد میں جمال پور ۔کھاڈیا اسمبلی حلقہ مسلم اکثریتی حلقہ ہے ۔ اس حلقے میںمسلمانوں کی آبادی تقریباً 61.3فیصد هے۔ یهاں سے دس امید وار میدان میںتھے جن میں سات مسلمان تھے۔ ان ساتوں امیدوار وں کے ووٹو ں کا مجمو عی فیصد 60.4تھا۔ مسلم ووٹوں کا یہ انتشار حالانکہ بی جے پی کی جیت کا سبب نہیں بنا، یہا ں سے کانگریس کے امیدوار عمران کوکامیابی ملی، مگر ووٹ بہر حال منتشر ہوئے،اور جو ووٹ مکمل طورپر کا نگریس کے مضبو ط امیدوار کو ملنا تھے وہ دوسروں کی جھولی میں گرے۔ ا س کے نتیجے میں مسلما نوں کے ووٹو ںکی قدر گھٹ گئی۔ ایک مثال مزید لیں : بھڑوچ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 38فیصد هے۔ مگر اس سیٹ پر بی جےپی كو كامیابی ملی، اس كے امیدوار نے 59.5فیصدووٹ لیے۔ اب اگر كوئی یه كهے كه مسلمانو ں كے ووٹ بھی بی جےپی کو گئے تو اس کی تردید مشکل ہے ۔ ناممکن نہیں ۔ یہ سچ ہےکہ بی جے پی کوبمشکل ایک فیصد ہی مسلم ووٹ ملے ہوں گے مگر اس کے لیے 38فیصد مسلم ووٹو ں كا انتشار اس پر و پیگنڈے كے لیے كا فی هے كه اسے مسلمانو ں نے ووٹ دیئے هیں ۔ گودھرا کی مثال لیں : گودھر ا میںمسلمانو ں کی آبادی تقریباً 51.23فیصد ہے۔ ہند و آبادی کو ئی 46.69فیصد۔ یهاں سے پانچ مسلمان بطور آزاد امیدوار میدان میں تھے ، انہوں نے مجمو عی طورپر 4400ووٹ حاصل كیے ، دو سیكو لر كهلانے والی سیاسی پارٹیاں بھی میدان میں تھیں ، بی ایس پی اور بہو جن مکتی پارٹی ،انہو ں نے مجموعی طورپر 2300ووٹ حاصل كئے۔ اب جو نتیجه سامنے آیا تو بی جے پی امید وار اس مسلم اكثریتی حلقے سے كامیاب نظر آیا ۔كانگریس امید وار كو صرف 286ووٹوں سے ہار کا منھ دیکھنا پڑا ۔ ا ب اندازہ کیجئے کہ اگرپانچ مسلم امیدواروں نے 4400 ووٹ نه كاٹے هو تے تو كیا هو تا؟ كانگریس كا امید وار جیت جاتا اور بی جے پی كو 99 كی جگه 98سیٹوں پر هی كامیابی ملتی ۔ یه كهانی سارے گجرات میں نظرآئی ۔ گجرات میں تقریباً دس فیصد مسلمان بستے هیں اور كوئی 34 اسمبلی حلقوں میں هار جیت میں اهم كردار ادا كرسكتے هیں۔ مگر هو تا یه هے كه ایك هی حلقه سے ڈھیروں مسلم امیدوار ایک دوسرے کے خلاف زور آزمائی کرنے لگتے ہیں اور منھ کے بل خود بھی دھڑام سے گرتے ہیں اور اچھے خاصے مضبوط سیکو لر امیدوار کو بھی گرادیتے ہیں ۔
گجرات میںجو ہوا ، وہ عرصے سے ہو تا چلا آرہاہے۔ باربار ہوا ہے اور اس وقت تک ہو تا رہے گا جب تک مسلمان اتحاد کی اہمیت نہیں سمجھے گا۔ اسے یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ یہ جو مسلمان امیدوار بڑی تعداد میں میدان میں اتر تے ہیں مخالف سیاسی پارٹیوں کے ہاتھو ں بکے ہوئے ہوتے ہیں ۔ انہیں خرید وفروخت کے ذریعے اس لیے کھڑا کیا جاتاہے کہ کلیدی مسلم امیدوار کے ووٹ کٹ جائیں اور حریف جیت جائے ۔ ان بکے ہوؤ ں کو اب باہر کی راہ دکھانی ہو گی۔ حالات کو اپنے حق میں بنانے کے لیے کسی ایک ہی امیدوار کو ووٹ دیناہو گا ۔ ووٹوں کو منتشر کرنے کی لعنت سے چھٹکا را حاصل کرناہوگا۔ جب یہ سب ہوگا تو اقتدار کے دھارے میں اس کی شمولیت ممکن ہوسکے گی۔ اگر مسلمان اب بھی نہ سدھر ے ، اب بھی دشمنوں ،بالخصوص بھگوا بریگیڈ کی سازشوں کا شکار بنتے رہے تو پھر ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker