Baseerat Online News Portal

دورِ حاضر کا ایک زندہ مجموعہ ہینگر میں ٹنگی نظمیں (نظمیں)

٭ شاعر : فرحان حنیف وارثی ٭ مبصر : قریشی طاہر نعیم
صفحات : ، قیمت : ؍ روپئے ، ناشر:عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی۔
’ہینگر میں ٹنگی نظمیں‘ فرحان حنیف وارثی کی لکھی ہوئی اردو نظموںکا مجموعہ ہے لیکن ان کی کئی نظموں کے عنوانات انگریزی زبان میں ہیں۔ مثلاً لائن آف کنٹرول، وزٹنگ کارڈ، بریک اَپ، اسپرنگ، نیو جنریشن، ہارٹ اٹیک، اس کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی جدید طرز پر لکھی ہوئی ہیں۔ پیزا، لیپ ٹاپ، ائیربلون بس، ہینڈ گرینڈ، پین ڈرائیو، میٹرو سٹی وغیرہ، یہ تمام جدید زمانے میں استعمال ہونے والے لوازمات ہیں اور ہر ایک اپنی خاصیت اور خصوصیت رکھتا ہے۔ اُن کا ایک جہانِ معنی ہے جنھیں شاعر نے اپنی نظموں میں استعاروں کے طور پر اپنایا ہے اور ان کی مناسبت سے ہر وہ بات کہی جو محبت کی گرفت میں آنے والا نیا دل ہو یا عشق میں جنوںکی حد تک پہنچنے والا عاشق ہو۔ الفت کے اس جنوں کو شاعر نے موجودہ دور کی جنوں خیزی عطا کی ہے۔ لیکن ان میں تلابیلی نہیں بلکہ سکون اور ٹھہراؤ ہے۔ مثلاً تمھارا پیار ایک پیزا ہے۔ تمھاری ادا ایک لیپ ٹاپ ہے۔ تمھارا خواب ایک ائیربلون ہے۔ تمھاری یاد ایک ہینڈ گرینڈ ہے۔ تمھارا جسم ایک پین ڈرائیو ہے۔ تمھارا دل ایک میٹروسٹی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
مجموعے کا عنوان خود ایک تلازمہ ہے۔ ہینگر میں ٹنگی نظمیں جو نظموں سے رعایت رکھتا ہے۔ نظموں کے انداز میں نیا پن ہے جو سلیقہ بھی رکھتا ہے۔ وہ موجودہ چیزوں کو روایتی طریقے میں جذب کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ بیان بہترین سلیس و سادہ، خیالات حد میں۔ جملوں پہ لگام، لفظوں پہ اختیار۔ معنی میں وسعت، جذبوں میں سچائی اور نیرنگیت۔ ہر مصرع اپنا خیال و فکر رکھتا ہے اور اپنا آزاد نظریہ پیش کرتا ہے جو نہ کسی سے متاثر ہے اور نہ کسی سے متنفر ہے۔ یہ شاعرکی اپنی خود کی پیدا کردہ آواز ہے اور یہ آواز قاری کو حکم دے کر نہیں بلاتی بلکہ اپنی نظموں کو سمجھنے کی درخواست کرتی ہے اور یہ ادب کی انکساری ہے جو ہر ایک فنکار میں خود بخود آجاتی ہے۔
زندگی ایک تغیر کا نام ہے۔ شاعر بھی زندگی کی راہ پر رواں دواں ہے اور اس میں بھی وہی احساسات و جذبات موجود ہیں جو دوسرے انسانوں میں موجود ہیں عشق، نفرت، بے چینی، کشمکش، غم، خوشی، تکلیف، آسایش، جنسی لگاؤ، ہار، جیت۔ اقرار اور انکار۔ شاعر کو عشق میں خود کو فنا کردینے کا جذبہ خوب بھاتا ہے لیکن وہ معشوق سے اس کاکوئی بدلا نہیں چاہتا۔ وہ کتنا بھی انکار کرے عاشق کا عشق معشوق کے دل میں جگہ ضرور بنائے گا۔ وہ آواز کی طرح دیوار کے اُس پار نکل جائے گا ؎
میری نظم کو اپنی دہلیز پہ رکھ کے ؍ ہیل والی سینڈل سے کچل دو ؍ میری محبت کو ؍ بلڈوزر کے نیچے ڈال دو
لیکن یاد رکھو ؍ میں ایک دن ؍ تمھارے دل کی لائن آف کنٹرول میں ؍ داخل ہوجاؤں گا ؍ فوجیوں کی طرح (لائن آف کنٹرول)
شاعر مختصر نظمیں کہنے کا عادی ہے۔ وہ قاری کو اپنے چند نظموں کے مصرعے پڑھا کر ادھور چھوڑ دیتے ہے اور وہ چاروں سمت ذہن پھیلا دیتا ہے اور خود سوچنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ اس کی یہی چار سمتی سوچ کا ایک قصہ دل کی داستان بن جاتا ہے۔ کبھی قاری چھوٹی چھوٹی نظموں کو سمجھنا چاہتا ہے تو وہ ختم ہوجاتی ہے۔ یعنی… تشنگی۔ لیکن یہ تشنگی ہی اس کا فن ہے اور آبرو ہے۔ قاری دوبارہ اپنے ذہن کے برّاق آسمانوں میں دوڑاتا ہے جہاں تک اس کی حد ہے اور وہاں پہنچ کر معنی کے ستارے سمیٹتا ہے۔ ترقی، ہوا، تم اور غم ، دان ، تقدیر، جیتے رہو، نہ میں مسیحا نہ ابن مریم وغیرہ مختصر نظمیں ہیں لیکن شاعر نے چند سطروں میں کُل تاریخ کائنات چن دی ہے۔ جمالیاتی حِس کا المیہ، تضاد، شب بیداری ، ایک ماں کا کرب اور زندگی وغیرہ اسی کنبے سے تعلق رکھتی ہیں۔
فرحان حنیف دل درد مند رکھتے ہیں انھیں پھولوں کلیوں کے کھِلنے سے مسرت ہوتی ہے اور پھولوں کے مرجھانے کا رنج بھی ہے۔ انسان کے بے رحمانہ قتل ہونے سے، سلگتی ہوئی بستیوں کی تپش سے ان کا دل جھلسنے لگتا ہے۔ کرفیو جاری ہے، چھ دسمبر، آپریشن رینبو، پرچم لہراتا رہے گا، سلاٹر ہاؤس، البے راک تجھے سلام، حوروں کے لیے، نظمیں اس بات کی غماز ہیں:
میں اس کو کیا بتلاتا؟ ؍ میں بھی سوچا کرتا ہوں ؍ چھ دسمبر کیوں آیا تھا؟ ؍ آج ٹی وی دیکھ کر اس نے
مجھ سے پھر یہ پوچھ لیا ؍ ڈیڈی مجھ کو بتلانا ؍ چھ دسمبر ؍ بش اور بلیر جیسا تھا؟ ؍ چھ دسمبر کیسا تھا (نظم ’چھ دسمبر‘)
فرحان حنیف عالمی پیمانے پر تباہی چھانے والوں سے بھی آنکھ ملانے کی جرأت رکھتے ہیں۔ عالمی بھائی چارگی ان کے یہاں صاف صاف موجود ہے۔ یہ ان کی خاص بات ہے کہ وہ نظموں میں جگہ اور مظلوموں کا اور ظالم کا نام لینے سے عار نہیں کرتے ؎
صرف چھ سو پچاس شہری بے گھر اور دو سو زخمی ہوئے ہیں ؍ اسرائیلی میزائیل نے الہلال مسجد اور دینی کتب کے
ذخیرے کو بلکل ختم کردیا ؍ فجر کی نماز ادا کرنے والے نمازی بھی شہید ہوئے
جب کہ وہاں نہ کوئی جنگجو تھا نہ کوئی ہتھیار ؍ اور نہ ہی کوئی سرنگ (نظم ’آپریشن رینبو‘)
شاعر اپنے آپ سے جوجھتا ہوا بھی محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ دنیا بھیڑ کی چال چل رہی ہے۔ وہ اس بات سے پریشان ہے۔ کیونکہ کوئی بھی آدمی عام روش سے ہٹ کر چلنا نہیں چاہتا ۔ سب پرانی راہوں پر سرنگوں کیے چلے جارہے ہیں۔ سب ایک دوسرے کی منہ دیکھی باتیں کرتے ہیں۔ کوئی الگ بات کرنا نہیں چاہتا، کوئی جداگانہ سمت میں بڑھنا نہیں چاہتا۔ ہر ایک کی فکر سمٹی ہوئی ہے اور سوچ پر جمود طاری ہے۔ ایک نے کہی دوجے نے مانی نانک کہیں دونوں گیانی۔ سیدھے لفظوں میں ہم اپنے آپ سے دیانتدار نہیں رہے ؎
آپ کہتے ہیں میں نے مان لیا ؍ آپ بھی میری مانیے صاحب ؍ یا تو الفاظ خرچ مت کیجیے
اپنی سوچوں کو اپنی فکروں کو ؍ ذہن کی وسعتوں میں رکھ دیجیے ؍ یا وہی بات کیجیے … صاحب
جس کو سننے کے لوگ عادی ہیں
مجموعے کی چند نظمیں اردو ادب کی اچھی جدید نظموں میں شمار کی جاسکتی ہیں۔ خواہش کے تکنیکی دائرے، اگر اخبار نہ آئے، اولین عمل کا دیر پا تاثر، اکیسویں صدی کی دلہن، ایک دکھی بوڑھے کی کہانی، چھ دسمبر، لیمپ پوسٹ، آپریشن رینبو، نظم کے مختلف روپ ، ماچس کی تیلیاں، سلاٹر ہاؤس، مقناطیں کے دونوں پول، حوروں کے لیے وغیرہ مجموعے کی اچھی نظموں میں شمار کی جاسکتی ہیں۔ خیا ل اچھوتے، جو اپنے ہونے کا جواز رکھتے ہیں۔ استعارے من موہ لینے کی کی کامیاب کوششیں کرتے ہیں۔ مثلاً ان میں ایک نظم ’ماچس کی تیلیاں‘ ہے۔ اس نظم میں شاعر کو ان تیلیوں میں جیل کی سلاخیں دکھائی دیتی ہیں۔ اسکی خاموشی ہی اس کاگناہ ہے لیکن وہ اس احساسِ گناہ کے باوجود اس بھیڑ کاحصّہ ہے جو سماج کا ایک اہم رکن ہے ؎
یہ تیلیاں سلاخوں کی طرح مجھ ڈراتی ہیں ؍ جب ان تیلیوں کو اوپر نیچے دائیں بائیں رکھتا ہوں
مجھے یہ جیل جیسی لگی ہیں پونہ کی یروڈا جیل ؍ جہاں ایسی ہی سلاخوں کے پیچھے قتیل صدیقی کو قتل کیا گیا تھا
یہ سوال کئی اور سوالوں کے ساتھ ماچس کی ڈبیہ میں بند ہیں ؍
اور تیلیاں… تیلیاں تو آزاد ہیں میرے اور آپ کی طرح ؍
میری بیوی پوچھتی ہے، ’’کیا ان تیلیوں کو سلگایا نہیں جاسکتا؟
بیشک استعارے اور تلازمہ، درست ، برخاست ،نشست لفظوں کاالجھاؤ جائز ،نظم اشاروں میں مکمل ، کنایوں میں پوری ، شاعر کامیاب۔
نظم ’تعزیت‘ بھی اسی مزاج کی حامی ہے۔ فرحان حنیف وارثی ہر عمر کے انسان کو غور سے دیکھنے اور ان کی روزمرّہ کی زندگی میں ہونے والی باتوں کو دھیان سے سمجھتے ہیں۔ کئی تجربے تو ان کو خود کی زندگی سے ملے ہیں اور باقی انھوں نے آنکھوں سے جذب کیے ہیں۔ انسان کی زندگی کا سب سے زیادہ کرخت تجربہ عمر کے آخری دنوں کاہوتا ہے ۔ اس وقت جب وہ زمانے کی راہوں میں تنہا رہ جاتا ہے ۔ جب وہ گھر کے باہر ہوتا ہے تو لوگوں کی بھیڑ میں خود کو بہلاتا ہے، لیکن جب وہ ؎
لوگوںکی بھیڑ سے ؍ نکل کر ؍ اپنے گھر میں واپس آتا ؍ دیواریں ؍ اُسے ڈرانے لگتیں ؍ اس کے
سفید بالوں سے کود کے ؍ سامنے ؍ ٹیبل پر بیٹھ جاتی ؍ تنہائی
دنیا میں کوئی اپنا ہم سفر نہیں ہوتا اور وہ جب بیچ راستے میں اکیلا ہوتا ہے تو وہ کن احساس اور کیفیت سے دوچار ہوتا ہے، اس نظم سے اندازہ کرسکتے ہیں۔
دنیا میں گوں ناگوں ہونے والے حادثے، بھلی باتیں، روح جھنجوڑنے والے قصّے، بے بس مرتے بے گناہ انسان، معصوم چہروں کی ہلاکت، کم عمر بچیوں کی عصمت دری، عشق کی بہار، فراق کا عذاب، حسن کانکھار، جوبن کی پھوار، ذہنی کھنچاؤ وغیرہ کے احساسات، جذبات، تجربات، سوالات مجموعے کی نظموں میں موجود ہے اور یہ نظمیں اس بات کی غماز ہے کہ اس مجموعے کے ایک ایک مصرعے کا دل دھڑک رہا ہے اور ہینگر میں ٹنگی نظمیں دورِ حاضر کا ایک زندہ مجموعہ ہے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like