مسلم پرسنل لاءمضامین ومقالات

مطلقہ خواتین کےلئے  غیر اسلامی عدالت سے رجوع کرناجائز نہیں

مولانااخترامام عادل قاسمی
آج ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہمارااعتماد اپنے علماء اوردارالافتاء سے کمزور ہورہاہے ،آج مسلمان اپنےہر چھوٹے بڑے مسئلے کو یہاںتک کہ شرعی مسائل کو بھی لے کر عدالتوں میں جارہے ہیں:ہماری یہ کمزوریفرقہ پرست طاقتوں کے لئے سب سے بڑاہتھیارہے مثلاًمطلقہ عورتیں اپنے طلاقاور نان ونفقہ جیسے مقدمات لے کر غیراسلامی عدالتوں میں جاتی ہیں  اور ان عدالتوں سے ان کے لئے تاحیات نفقہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے ،جب کہ شرعی نقطہ ٔنظر سےسابق شوہرپر صرف عدت کا نفقہ  واجب  ہے وغیرہ ۔ان خواتین تک ہمیںاس اسلامی تصور کوپوری قوت کے ساتھ  پہونچاناچاہئے کہ :(الف )شرعی مسائل میں مسلمانوں کا غیر اسلامی عدالت سے رجوع کرناجائزنہیں ہے ،یہ قرآن کریم کی صریح خلاف ورزی  اور نفاق وطغیان کے مترادفہے ،قرآن کریم میں واضح حکم موجود  ہے ،کہ مسلمان باہمی اختلافات میںشریعت سے رجوع کریں ، اس لئے طاغوتی قوتوں سے رجوع کرنا ان کے منصبایمانی کے خلاف  اور اسلام کے ساتھ یک گونہ منافقت ہے ، ایمان کا مطلبہی کفر وطاغوت کا انکار ہے ،اور ان کی طرف رجوع  کرنااس انکار کے خلاف ہے،ہمیں اللہ پاک نے اس زمین پر اس لئے بھیجا ہے کہ اس طاغوتی نظام کی جگہپر اسلامی نظام قائم کریں ،چہ جائیکہ طاغوتی نظام سے انصاف اور رحم  کیبھیک مانگی جائے ،یہ کلمہ کی شان اور اس کے بنیادی معاہدہ کے خلاف ہے،مسلمان ہر حال میں اللہ اور رسول اور اپنے حاملین شریعت (اولوالامر )کےپابند عہد ہیں ۔۔۔۔قرآن نے اس حقیقت کوبھی  واشگاف کیاہے کہ یہ طاغوتی طاقتیں اسی تاک میںبیٹھی ہیں کہ تم ان سے ملو   اور   وہ  تمہارے اندر شقاق واختلاف اورفتنہ وفساد کےتخم ڈالدیں ،پھر  تم آپسی جھگڑوں اور دینی نزاعات سے کبھینہ نکل سکوگے ،قرآن کریم کی آیات ذیل میں پوری  وضاحت و قوت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے :
يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّہَ وَأَطِيعُواالرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْکمْ فاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍفَرُدُّوہ ُ إِلَى اللَّہِ وَالرَّسُولِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِکمَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا٭أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ آمَنُوا بِمَاأُنْزِلَ إِلَيْیَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَکْفُرُوا بِہ ِوَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّہُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا٭ وَإِذَاقِيلَ لَہمْ تَعَالَوْا إِلَی مَا أَنْزَلَ اللَّہُ وَإِلَی الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْک صُدُودًا۔( النساء:59 -61 )
جس قوم کے  پاس رسول اکرم ﷺ کی  رسالت کبریٰ اور قرآن کریم جیساآخریقانون ہدایت موجود ہو، اسے دوسرے غیراسلامی اور کمزور  انسانوں کے بنائےہوئے نظام قانون وتمدن کی کاسہ لیسی کی  کیاضرورت ہے ؟ اور اس طرح کیجسارتیں کرنے والے اللہ کی نگاہ  میں مسلمان کہاں ہیں؟ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّہ ِوَلَوْ أَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَکُمْ جَاءُوک َ فَاسْتَغْفَرُوااللَّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّہَ تَوَّابًارَحِيمًا (64) فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکمُوک َفِيمَا شَجَرَ بَيْنَہُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِہِمْ حَرَجًامِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًااس قسم کی ذہنیت دراصل تکذیب نبوت اوراسلامی نظام قانون کے بارے میںتشکیک پر منتہی  ہوتی ہے ،غیراسلامی لباس اور تہذیب  اختیار کرنے کوفقہاء نے نتیجہ کے اعتبار سے ہی  ناجائز قراردیا ہے ،ورنہ فی الواقع یہچیزیں کفر نہیں ہیں ،(دیکھئے تفسیر بیضاوی ج 1 ص 24 )اسلامی قانون کے خلاف کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں (ب)اگر غیرشرعی عدالت اسلامی قانون کے خلاف کوئی فیصلہ کربھی دے تومسلمانوں کے حق میں وہ  فیصلہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور نہ کسی تاویلسے اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ،اس لئے کہ یہ کفر کو اسلام پر ترجیحدینے کے مترادف ہوگا ،قرآن کریم میں ہے : وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّہ ُ لِلَْافِرِينَ عَلی الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا النساء :141۔) 
نیز اس سے اسلام کے خلاف لوگوں میں جرأت بڑھے گی ،خود مسلمانعورتیں دین ،علماء دین بلکہ اپنے خاندان اور شوہروں کے حق میں  بھی نارواآزادی اور جسارت میں مبتلا ہونے لگیں گی ،یہ حدود سے تجاوز ہے ،اور قرآننے حدود سے تجاوز کو ظلم قرار دیا ہے : تِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ فَلَا تَعْتَدُوہ َا وَمَنْ يَتَعَدَّحُدُودَ اللَّہِ فَأُولَئِک ہُمُ الظَّالِمُونَ( البقرۃ : 229  )
اسلام نے شوہروں پرمطلقہ عورتوں کے لئےصرف عدت کا نفقہ واجب کیا ہے ،عدت کے بعد شوہر بالکل اجنبی ہوجاتا ہے ،اس کا عورت سے کوئی رشتہ باقی نہیں رہتا ،اس لئے عدت کے بعد بھی اس سے نفقہ وصول کرنا ،یا اس کی خاطر غیرشرعی عدالتوں کی جانب رخ کرنا ظلم بھی ہے اور بے حیائی بھی ،عدت کے بعد عورت کا مرد پر کوئی حق باقی نہیں رہ جاتا ،اور بغیر حق کے کسی سےکچھ وصول کرنا ظلم ہے ،نیز کسی غیر مرد سے اپنا خرچہ وصول کرنا بے حیائی بھی ہے اور نسوانی غیرتکے بھی خلاف ہے ۔۔اس لئے غیر اسلامی عدالتیں عورت یا اس کے اہل خاندان کے مطالبہ پر بعدعدت نفقہ کا فیصلہ کر بھی دیں تو عورت کے لئے مرد سے  نفقہ وصول کرناجائز نہ ہوگا ،اس لئے کہ یہ ظلم ہے اور ظلم کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اس کو  ہدیہ قرار دیا جانا ممکن نہیں  اور نہ حکومتی امداد،۔۔۔۔کیونکہ ہدیہ  زبردستی وصول نہیں کیاجاتا ،اس کے لئے رضامندی اور طیبنفس ضروری ہے ،حکومت کے فیصلہ پر مجبور ہوکر مرد نفقہ دینا منظور بھیکرلے تو یہ اس کی مجبوری ہوگی ،جبر اور طیب نفس میں بہت فرق ہے ، اسلاممیں طیب نفس کے بغیر کسی کا مال لینا حلال نہیں ہے ،قران کریم میں ہے،کہباطل طریقہ سے کسی کا مال مت کھاؤ،:            لاتاکلوااموالکم بینکم بالباطلاور رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی کامال اس کی مرضی کے بغیر لیناجائز نہیں:عن أنس بن مالک أن رسول الله صلی الله عليہ و سلم قال :لايحلم ال أمرئ مسلم إلا بطيب نفسہ (سنن الدارقطني ج 3 ص 26 حدیث نمبر :91المؤلف : علي بن عمر أبو الحسن الدارقطني البغدادي الناشر : دارالمعرف – بيروت ، 1386 – 1966 تحقيق : السيد عبد الله هاشم يماني المدنيعدد الأجزاء : 4)         
حکومتی امداد بھی اس کو نہیں کہا جاسکتا،اس لئے کہ حکومت  اسطرح کی مصیبت زدہ خواتین کی امداد کرنا چاہے تو اپنے فنڈ سےکرسکتی ہے ،دوسرے کی جبری  رقم کوحکومت کی مدد کے خانے میں شمار کرنا صحیح نہیں ۔(ج) اس باب میں بے سہارا مطلقہ اور با سہارا مطلقہ کے درمیانفرق کرنابھی درست نہیں ،اس لئے کہ محتاج کے لئے مانگ کر کسی کا مال لیناتودرست ہے لیکن  ظلم کے ساتھ درست نہیں ،نفقہ سے متعلق شرعی قانون جانتےبوجھتے غیراسلامی عدالت کی طرف رخ کرنا صریح ظلم ہے ،۔۔۔ جب  شریعت میںبے سہارا عورتوں کے نفقہ کے لئے جائز حل موجود ہے تو ظلم  پر مبنی حل کوسند جواز کیونکر فراہم کیا جاسکتا ہے ؟ ۔۔۔۔ غرض اس طرح کے اقدامات سراسر اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں ،مسلم خواتینکوچاہئے کہ وہ اپنی اسلامی حمیت کامظاہرہ کریں ۔
(بصیرت فیچرس)
* مضمون نگارمشہورعالم دین اور جامعہ ربانی منوروا شریف سمستی پور کے مہتمم ہیں۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker