اسلامیاتمضامین ومقالات

ٹریفک کا نظام ۔۔۔تعلیمات نبوی کی روشنی میں

مفتی محمد امام الدین قاسمی (مدہو بنی)
مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ،پٹنہ
اسلام ایک مکمل دستور حیات ہے اس کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے ،خواہ ان کا تعلق عقیدہ سے ہو یا عبادات سے ،اخلاقیات سے ہو یا معاملات اور معاشرت سے ، شریعت اسلامیہ لوگوں سے اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ وہ ان تمام حقوق کی پاسداری کریں جو ان پر عائد ہوتی ہیں ۔مسلمانوں پر جو حقوق ایک دسرے کے تئیں ہیں ان میں سے ایک حق راستے اور اس کے راہگیر کا ہے۔راستے سے مراد صرف گلی یا سڑک کا راستہ نہیں بلکہ اس کے مختلف مفہوم ہیں محلہ یا تعلیمی اور دفاتر میں جانے والا راستہ سب اس میں شامل ہے ۔ان راستوں کے کچھ حقوق ایک جیسے ہیں اور کچھ الگ ہیں ۔راستہ کے تعلق سے بہت ساری احادیث مروی ہیں ۔ ایک حدیث میں حضرت ابو سعیدخدریؓروایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ایاکم والجلوس بالطر قات فقالوا یارسول اﷲ مالنابد من مجا لسنا نتحدث فیھا قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اذاأ بیتم الا المجلس فا عطو االطریق حقہ قالو اوماحقہ قال غض البصر وکف الاذی وردالسلام والامربالمعروف والنھی عن المنکر،،تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو ،صحابہ کرام نے عرض کیا :ہماری مجبوری ہے کہ ہم مجلس لگاتے ہیں اور آپس میں بات چیت کرتے ہیں،آپ ﷺ نے فرمایا اگر اتنی ہی مجبوری ہے تو راستے کا حق ادا کرو،صحابہ نے پوچھا راستے کا حق کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا نگاہوں کو جھکا کر رکھو ، تکلیف دہ چیزوں کو راستے سے ہٹاؤ، سلام کا جواب دواور اچھی باتوں کا حکم کرو اور بری باتوں سے روکو(بخاری شریف) اس حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے پانچ بنیادی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر عمل پیرا ہونے سے ایک انسان صحیح معنوں میں راستے کا حق ادا کر سکتا ہے پہلی بات جس کی طرف توجہ دلائی وہ ہے غض بصر یعنی نگاہ نیچی رکھنا ،اس کی دلیل قرآن کریم میں ہے۔ آپ کہہ دیجئے مو منوںسے کہ وہ اپنی نگاہیںنیچی رکھیں اوراپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکی کا باعث ہے اوراللہ کو ان کے اعمال وافعال کی خبر ہے۔( سورہ نور:۳۰)دوسرا راستے سے تکلیف دہ اشیاء کو دور کرنا ، کیونکہ راستہ عام لوگوں کے فائدہ کے لیے بنایاجاتا ہے۔ حضرت ابو ھریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایمان کی ساٹھ یا ستر سے زیادہ شاخیں ہیں سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا اورکمتر درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے (متفق علیہ)راستوں سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے ۔حضرت ابو ذرؓبیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو جنت میں ٹہل رہا تھا اس نے صرف یہ نیکی کی تھی کہ ایک کانٹے دار درخت کو جس سے راستے پر چلنے والے لو گوںکو تکلیف ہوتی تھی راستے سے کاٹ دیا تھا ۔ایک اور روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے راستہ میں ایک درخت کی ٹہنی کو لٹکتے ہوئے دیکھا جس سے لوگوں کو گزرتے وقت تکلیف ہوتی تھی اس نے کہا خدا کی قسم !میں اس ٹہنی کو کاٹ کر ہٹا دونگاں تاکہ لوگوں کو یہ تکلیف نہ دے اس کے اس عمل پر اﷲتعالی نے اس کو بخش دیا (مسلم شریف) تیسرا سلام کا جواب دینا ،قرآن کریم میں ہیــــ اورجب تمہیں کوئی سلام کرے تو اسے سلام کا بہتر جواب دو یا کم سے کم اتنا ہی لوٹا دو(سورہ نساء۸۶) چوتھا نیک بات کی تلقین کرنا اور پانچواں بری بات سے روکنا ۔قرآن کریم میں ہے تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے یہی لوگ فلا ح اور نجات پانے والے ہیں(سورہـ ال عمران۱۰۴)ایک حدیث حضرت ابو طلحہ ؓ سے بھی مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک بار گھر کے سامنے بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے کہ رسول ﷺ تشریف لائے اور فرمایا تم لوگ راستے پر کیوں بیٹھ جاتے ہو اس سے بچو ہم نے عرض کیا کہ ہم ایسے کام کے لئے بیٹھے ہیں جس میں کوئی حر ج نہیں ہے ہم تو آپس میں باتیں اور تبا دلۂ خیال کے لئے بیٹھتے ہیں اس پر آپ ﷺ نے فرما یا اگر کرنا ہی ہے تو اس کا حق ادا کرو ،راستہ کا حق یہ ھیکہ نظر نیچی رکھو سلام کا جواب دو اور اچھی بات کرو (مسلم شریف ) یہ حدیث راستہ میں یا فٹ پاتھ پر مجلس جمانے کی ممانعت میں بالکل واضح ہے اگر ضرورتاً بیٹھنے کی نو بت آجائے تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس مجلس میں فحش تبصر ے اور غیبت نہ ہو راہگیروں کو گھورانہ جائے اور نہ کوئی ایسی حرکت کی جائے کہ جس سے دوسروں کو کوئی تکلیف پہو نچے ، خاص طور پر ایسی جگہ بیٹھنے سے پر ہیز کیا جائے جہاں عموماً خواتین کی گزر گاہ ہو جیسے :گرلز اسکول یا کا لج کے اطراف میں بیٹھنا ۔
راستہ کا ٹریفک کس طرح صحیح رہے اس کے لئے تعلیمات نبوی پر عمل پیرا ھو کر نظام درست بنایا جا سکتا ہے اس سلسلہ میں ایک حدیث ہمارے لئے مشعل راہ ہے حضرت ابو اسیدانصاری ؓ ؓبیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ کو مسجد سے باہر جس وقت عورتیں راستے میں مردوں کے ساتھ مل کر چل رہی تھیں یہ فرماتے ہو ئے سنا کہ خواتین راستے کے ایک طرف ہو کر چلیں۔یہ مناسب نہیں کہ وہ راستہ کی روک بن جائیں ابو اسیدانصاری بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعدعورتیں سڑک کے ایک طرف ہو کر دیوار کے ساتھ ساتھ چلا کرتیں بعض اوقات تو اس قدر دیوار کے ساتھ لگ کر چلتیں کہ ان کے کپڑے دیوار کے ساتھ اٹک اٹک جاتے (سنن ابو داؤدکتاب الادب۵۲۷۴)اس حدیث پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ٹریفک کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور کس طرح ہمیں بازاروں اور گلیوں میں چلنا چاہئے ۔آج کل عموماً بازاروں میں بھیڑ کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق ادھر اُھر چلتے ہیں ہمارے اس طرح چلنے کی وجہ سے ٹریفک کے قوانین بھی متأثر ہوتے ہیں اور بھیر بھی ہو جاتی ہے ۔
راستہ کے سلسلہ میں ایک اہم بات جس کی طرف اشارہ کر نا ضروری ہے وہ یہ ھیکہ ہم اس با ت کا خیال رکھیں کہ اپنے جانوروں کو روڈ پر نہ باندھیں پانی کی نالی روڈ پر نہ چھوڑیں جب گھر کی تعمیر کریں تو چھجہ راستہ پر نہ نکالیں چھت پر جانے والی سیڑھی راستہ یا گلی کی زمین میں ہر گز نہ بنائیں نیز مکان کی تعمیر میں راستہ یا گلی کا کوئی حصہ شامل نہ کریں کیونکہ یہ غصب کے ضمن میں آتا ہے، جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: من اخذ شبرا من ارض ظلما طوقہ اﷲیوم القیامۃمن سبع ارضین (بخاری شریف ۱۳۲۸) جس نے ایک بالشت زمین بھی کسی کی ہڑپ لی تو اﷲقیامت کے دن سات تہہ زمین اس کے گلے میں لٹکا ئے گا ۔
وہ حضرات بھی اس بات کا خیال رکھیں جو نماز کے اوقات میں خاص طور پر جمعہ کے دن اپنی گاڑیاں مساجد کے سامنے راستہ پر لگا دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں سے گزر نے والوں کو کافی دشواری ہوتی ہے ،بعض لوگ بیچ راستہ میں ہی گاڑی لگا کر چلے جاتے ہیں ان لوگوں کو آپ ﷺ کے اس ارشاد سے ڈرنا چاہئے ۔حضرت سہل بن معاذ نے اپنے والد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ایک غزوہ میں ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے راستہ میں ایک جگہ پڑاؤ کیا تو لوگوں نے خیمہ لگانے میں راستہ کی جگہ تنگ کر دی اور عام گزر گاہ کو بھی نہ چھوڑا جب آپ ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺ نے اعلان کروایا کہ جو شخص خیمہ لگانے میں تنگی کرے یا راستہ میں خیمہ لگا ئے تو اس کا جہاد قبول نہیں ہے۔(ابو داؤد شریف۳۹۲۰)اس سے معلوم ہوا کہ جب آپ نے راستہ کا خیال نہ رکھنے والوں کے لیے جہاد جیسی عظیم عبادت کو رائیگاں قرار دیا ہے تو کیا جو لوگ راستہ میں گاڑی کھڑی کر کے نماز کے لیے جاتے ہیں ان کے لے غور کامقام نہیں ہے کہ وہ اپنی اس حرکت سے بازآجائیں۔
(بصیر ت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker