اسلامیاتمضامین ومقالات

طلاق ثلاثہ بل شر ہے اور خیر بھی ہے

مولانا قاری محمد عبد اللہ سلیم
بانی وشیخ الحدیث معہد تعلیم الاسلام، ایلجن، شکاگو امریکہ
ہم سب کا یہ مطالعہ ومشاہدہ اور یقین ہے کہ دین وشریعت کے تمام احکام وہدایات میں دو چیزیں اساسی اور بنیادی ہیں، ایک حکمت اور دوسری سہولت۔
ان دونوں بنیادوں کا مشاہدہ بعض احکام میں بہت ظاہر ہوتا ہے اور ہر شخص اس کو سمجھ لیتا ہے جیسے روزہ اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ اور تقوے سے اس کا تعلق جو دین وشریعت کا مقصود ہے، البتہ بعض احکام وہدایات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے اندر حکمت وسہولت کا ہونا ہر شخص پر کم سمجھی یا ناسمجھی کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتا مگر ان دونوں کے ہونے کا یقین ایک مسلمان کو پھر بھی ہوتا ہے، اس لئے کہ دین اسلام کچھ لوگوں کی عقلی کوششوں سے مرتب کیا ہوا دستور اور راہِ حیات نہیں ہے، بل کہ یہ اس خالق کائنات کا اشرف المخلوقات انسان کے لئے تجویز کردہ اور پسندیدہ مذہب ہے جس نے اپنی بے شمار حکمتوں کے تحت چاند سورج، زمین و آسمان، دھوپ چھاؤں، سمندر اور ندیاں اور بے شمار مخلوقات بنائیں، اس نے بتا دیا کہ اللہ کے نزدیک دین تو بس اسلام ہے، (قرآن حکیم، آل عمران: ۱۹) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج کے موقعہ پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں تھے، تو یہ عظیم آیت نازل کی گئی: ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتوں کا سلسلہ پورا کردیا اور اسلام کو تمہارے لئے پسند کرلیا‘‘ (سورۃ المائدہ: ۳)۔
جس کے تمام تخلیقی کاموں کا حکمتوں کے ساتھ اور ہماری سہولت وآرام کے لئے ہونا مسلّم ہے تو کیا اس کے تجویز کردہ دین اور احکام شریعت میں یہ دونوں بنیادی باتیں نہ ہوں گی یعنی حکمت وسہولت۔
انسانی سوسائٹی کو مرتب ومنظم کرنے کے لئے شادی بیاہ کا طریقہ رکھا گیا، اسلام میں شادی بیاہ جس طریقہ پر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اس کا نام نکاح ہے۔
نکاح کی تمام تفصیلات قرآن وحدیث میں بیان کردی گئی ہیں۔ کس مرد کا کس عورت سے نکاح ہوسکتا ہے اور کس کے ساتھ نہیں ہوسکتا، اور کس طریقہ سے نکاح ہوسکتا ہے، اسی کے ساتھ نکاح کی غرض بھی بتلائی گئی۔ ’’اے لوگو اپنے اس رب سے ڈرتے رہو جس نے تم کو ایک جان (آدم) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کی بیوی (حوّا) پیدا کی اور پھرا ن دونوں سے بہت سارے مرد اور بہت ساری عورتیں پیدا کیں‘‘۔ (سورۃ النساء: ۱)۔
معلوم ہوا نکاح کے ذریعے ایک مرد اور ایک عورت کے یکجا ہونے کا مقصد اولاد کا حصول ہے۔ اسی لئے اولاد نہ ہونے دینے کی ساری تدبیریں اسلام کی منشا کے خلاف ہیں، عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کم بچے اور چھوٹا گھرانہ ہوگا تو خوشحال ہوگا، ورنہ تنگی اور افلاس ہوگا، قرآن شریف میں فرمادیا گیا: ’’ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں بچوں کو بھی دیں گے ‘‘ (بعض ہندو بھائیوں کو پریشانی ہے کہ ہندوؤں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بڑھ رہا ہے اس لئے قانون بنا کر اس کو روکا جائے یہ مردانگی کی باتیں نہیں ہیں)۔
قرآن حکیم میں دوسری جگہ ایک اور غرض بتلائی گئی ہے: ’’اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس نے تمہارے اندر سے ہی تمہارے لئے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اسی نے تمہارے درمیان مودت ورحمت پیدا کردی‘‘۔ (سورۃ الروم: ۲۱)
معلوم ہوا کہ نکاح کا ایک مقصد یہ ہے کہ شوہر بیوی کے درمیان مودت ورحمت ہو اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے سکونِ قلب ودماغ حاصل کرتے رہیں۔
اس سلسلہ میں ایک بات یہ بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ نکاح ایسا عقد ہے کہ جس کے ذریعے سے مرد عورت کو لیتا ہے، عورت مرد کو نہیں لیتی، اسی لئے عورت کی کفالت مرد کے ذمہ ہوتی ہے اسلام میں یوروپ وامریکہ کی طرح کا کلچر نہیں ہے جہاں شادی ایک ایسا معاہدہ ہے جیسے دو آدمی مل کر کوئی بزنس شروع کریں یا کوئی کمپنی بنائیں جس میں دونوں کی یکساں مالکانہ حیثیت ہو ایسے معاہدہ میں چوں کہ ایک فریق کا مرد اور دوسرے کا عورت ہونا ضروری نہیں ہوا کرتا بل کہ دو مرد بھی کمپنی بنا سکتے ہیں اور عورتیں بھی، اسی لئے ان کو یہ قانون بنانا پڑا ہے کہ دو مرد بھی آپس میں شادی کرسکتے ہیں اور دو عورتیں بھی، شاید آگے چل کر یہ مطالبہ بھی ہونے لگے کہ کئی مرد اور کئی عورتیں بھی مل کر شادی کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں، جیسے کئی مل کر ایک کمپنی بنا سکتے ہیں۔
صاف ظاہر ہے کہ ایسے قانون بنانے والوں بنوانے والوں اور اس پر چلنے والوں کے ذہنوں میں شادی کا مقصد اولاد کا حصول ہے ہی نہیں، اولاد ہو بھی جائے تو ماں باپ اور اولاد کا وہ فطری ربط وتعلق ہمیشہ کے لئے ہوتا ہی نہیں جس سے ایک خاندان کی تشکیل ہوتی ہے، اسی لئے ماں باپ بڑھاپے میں پہونچ کر بے یارومددگار کس مپرسی میں ہوجاتے ہیں جو مال ومنال ان کے پاس ہوتا ہے وہ چرچ کو یا کسی فلاحی ادارے کو وقف کردیتے ہیں، خاندان تو ہوتا ہی نہیں کہ جس میں وہ مال وراثت بن کر تقسیم ہو۔
اسلامی شریعت اور اس مغربی تمدن میں بونِ بعید اور زمین وآسمان جیسا فرق ہے بہ ہر حال یہ واضح ہے کہ اسلام میں مقصدِ نکاح اولاد کا حصول ہے جس سے خاندان کی تعمیر وتشکیل ہو اس لئے اس بات کو بنیادی اہمیت دی گئی کہ شوہر بیوی کا رشتۂ ازدواج ہمیشہ کے لئے ہو، ظاہر ہے کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک دونوں میں یگانگت اور قلبی الفت ومحبت نہ ہو اس لئے یہ تاکید کی گئی کہ یہ رشتہ ایسے دو خاندانوں کے مرد وعورت کے درمیان ہو جن میں فکر وخیال کی ہم آہنگی اور طرز زندگی میں یکسانیت ہو، اور پھر بعد از نکاح آپسی حقوق اور تعلقات کی پاسداری کے لئے احکام وہدایات کا ایسا بہترین اور حکیمانہ نقشہ اور کورس دیا گیا کہ اس پر تند ہی اور خلوصِ دل کے ساتھ عمل کیا جائے تو زندگی نہایت خوشگوار ہو جس کا مٹھاس پورے گھرانے اور خاندان میں رچ بس جائے اور ہر اس نازیبا ونامناسب حرکت سے بچنے کی ہدایت کی گئی جس سے خوشگوار تعلق میں ترشی وتلخی پیدا ہوسکتی ہو۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض دفعہ تمام تر کوششوں کے باوجود شوہر بیوی میں موافقت اور ہم آہنگی نہیں ہوپاتی، دونوں کے مزاجوں میں فرق ہوتا ہے، صبرو برداشت سے بھی محروم ہوتے ہیں، نتیجہ یہ کہ دن ورات ہر چھوٹی بڑی بات پر نااتفاقی، بحث وتکرار اور کہا سنی ہوتی رہتی ہے بعض جگہ نوبت مارپیٹ تک پہونچ جاتی ہے، ظاہر ہے جھگڑوں اور ہنگاموں کا اثر محض شوہر بیوی کے اوپر ہی نہیں پڑتا بل کہ اس چیخ وپکار اور زبان درازیوں کے ماحول کا ناگوار اور نقصان دہ اثر دونوں طرف کے رشتہ داروں پر بھی پڑتا ہے، ان میں بھی ان کی وجہ سے نااتفاقی اور قطع تعلق ہوجاتا ہے اور اگر دونوں کے بچے ہیں تو ان کے اخلاق وعادات تباہ ہوجاتے ہیں۔
اب اس صورت میں ایک طریق کار تو یہ ہے کہ شادی چونکہ ہمیشہ کے لئے ہوا کرتی ہے جو ہوچکی ہے اس لئے جو بھی پریشانیاں ہیں ان کو سب بھگتیں، گلو خلاصی اور چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہے جیسا کہ ہندوستان کی بعض قوموں میں یہی کلچر رہا ہے، لیکن اسلام جیسا فطری مذہب جس کو بجا طور پر دین رحمت کہا جاتا ہے وہ ایسے تشویشناک احوال سے آنکھیں بند نہیں کرسکتا تھا، اس نے اس وحشتناک صورت حال میں بھرپور رہنمائی کی، اور پہلا راستہ یہ تجویز کیا کہ شوہر بیوی دونوں کی طرف سے ان کے انتخاب اور صوابدید کے مطابق ایک ایک حَکَمْ مقرر کیا جائے جس سے ہر پارٹی اپنے حکَمْ کے بارے میں اس بات سے مطمئن ہو کہ وہ اس کی بہی خواہی کرے گا، پھر یہ دونوں حَکَمْ تمام معاملات اور احوال کی تفصیلات جمع کرکے دیانتداری کے ساتھ غور وفکر کرکے ایسا معقول وسنجیدہ فیصلہ کریں جو دونوں کی بہتری کا ضامن ہو۔ پھر دونوں کے رشتہ داروں اور تعلق داروں کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اس فیصلہ کو دل وجان سے مان کر اس پر عمل در آمد میں شوہر بیوی کی مدد کریں (سورۃ النساء: ۳۵)۔
اگر اس مخلصانہ کوشش کے باوجود تنازع ختم نہیں ہوا، باہمی جھگڑے اور روز روز کی کہا سنی برقرار رہے جس کی وجہ سے دونوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے تو پھر شریعت اسلامی نے طلاق کا راستہ تجویز کیا ہے، اگرچہ یہ راستہ پسندیدہ نہیں ہے، اس کے بارے میں حدیث پاک میں فرمادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین چیز جس کی اجازت دی گئی ہے وہ طلاق ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ وہ راہ ہے جس کو بدرجہ مجبوری مزید قباحتوں اور برائیوں سے بچانے کے لئے اختیار کرنا ہے۔
پھر اس سلسلہ میں اسلام کے حکیمانہ اور مشفقانہ طرز کو بھی دیکھنا چاہئے کہ نکاح کرنے میں تو صرف ایک مرتبہ ایجاب وقبول کو کافی قرار دیا گیا، یعنی ایک مرتبہ بیوی کی طرف سے خود کو شوہر کے لئے پیش کرنے کی بات کہی جاتی ہے اور شوہر بھی ایک ہی مرتبہ کہتا ہے میں نے قبول کیا، دو گواہوں کی موجودگی میں یہ ایجاب وقبول ایک مرتبہ ہوجانا نکاح درست ہونے کے لئے کافی ہوجاتا ہے، مگر چوں کہ عام طور پر طلاق کی نوبت جھگڑے اور غصہ کے موقع پر ہی آتی ہے، اس لئے شوہر کو طلاق کے لئے تین مواقع دئے گئے اور تاکید کی گئی کہ جب بیوی ماہواری میں نہ ہو اور نہ اس کی پاکی کے زمانہ میں ہم بستری ہوئی ہو اس وقت صرف ایک طلاق دی جائے، اس کے بعد عورت کی فوراً عدت شروع ہوجاتی ہے جس کی تفصیلات قرآن حکیم، احادیث نبویہ اور فقہ کی کتابوں میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں، پھر کہا گیا کہ طلاق کے بعد زمانہ عدت ختم ہونے سے پہلے اگر دونوں اصلاح احوال پر راضی ہوں اور شوہر اپنی بیوی کو پھر سے بیوی بنا کر رکھنا چاہے تو وہ بغیر کسی الجھن کے ایسا کرسکتا ہے، اور اگر عدت پوری ہوگئی، تو آپسی تعلق نئے نکاح سے ہوسکتا ہے، اگر پھر اختلاف ونااتفاقی کی صورت ہو اور جھگڑے کو ختم کرنے کی کوئی تدبیر کار گر نہ ہورہی ہو تو شوہر کو ایک اور طلاق کا اختیار پہلی طلاق کے بعد والی سہولتوں کے ساتھ ہے۔ لیکن اگر دوسرے طلاق کے بعد معاملات نہ سدھریں اور تیسری بار طلاق دینی ہی پڑ جائے، تو اب یہ تعلق ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا، اب اس شوہر سے نہیں بل کہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ قواعد شرعیہ کے مطابق وہ عورت نکاح کرسکے گی، یہ ساری تفصیل بھی قرآن وحدیث اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔
لیکن یہ واقعہ ہے کہ بعض لوگوں نے بر بنائے جہالت خود اپنے اوپر اور اپنی بیوی پر ظلم کرتے ہوئے اسلام کی دی ہوئی اس رحیمانہ رعایت وسہولت کو ختم کردیا اور ایک ہی وقت تینوں طلاقیں دے کر تعلق کو ہمیشہ کے لئے ختم کرکے سخت گناہ میں مبتلا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور غصہ کے مستحق ہوئے۔ ایسے ہی ایک موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت غصہ سے فرمایا تھا کہ کیا میرے ہوتے ہوئے دین کے ساتھ یہ کھلواڑ ہورہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جاہلوں کی اس جہالت کو روکنے اور اصلاح فکر وخیال اور درستگئ معاملات کے لئے حضرات علماء کرام اپنے وعظ ونصیحت اور بغرض مطالعہ لکھی جانے والی کتابوں کے ذریعے اور حضرات مفتیان کرام اپنے فتاویٰ کے راستے سے برابر کوششیں کرتے رہے، تاکہ یہ برائی معاشرے سے کلیۃً ختم ہو اور لوگ شریعت کے بتلائے ہوئے طریقہ کے خلاف راستہ نہ اپنائیں، مگر بعض جہالت شعار لوگوں کا چونکہ مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، وعظ ونصیحت اور تعلیم وتبلیغ ان پر اثر نہیں کرتی اور حضرات علماء ومفتیان کرام کے پاس طاقت ہوتی نہیں کہ اس طاقت کے زور پر ان جاہلوں کو ایسا کرنے سے روکا جائے اس لئے یہ برائی جاہلوں کے اندر سے ختم نہیں کی جاسکی۔ اب حکومت ہند نے مسلمانوں کے تعلق سے طلاق کے سلسلہ میں ایک بل پارلیمنٹ میں پاس کرایا جس کی رو سے طلاق بدعی یا تین طلاقیں بیکدم دینا قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا۔ اس سے پہلے حکومت نے سپریم کورٹ سے اپنے بل کے جیسا فیصلہ لے لیا، مقصد یہ تھا کہ بعد میں پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے بل کے خلاف کوئی سپریم کورٹ سے فیصلہ نہ کرالے۔
حضرات علماء کرام اور مسلم لیڈران اور عام مسلمان مذکورہ بل اور اس کی تفصیلات وپہلوؤں پر معترض ہیں، ان کے تمام اعتراضات بجا اور درست ہیں، بل کہ زبان وبیان اور جس انداز سے اس کو پاس کرایا گیا ہے اس سے حکومت کی بدنیتی بالکل عیاں ہے، بلاشبہ حکومت نے اس بل کی راہ سے وہ کام کیا جس کا اس کو کوئی حق نہیں تھا، محض دھاندلی اور طاقت کے زعم میں یہ سب کچھ ہوا ہے۔
مگر اس برائی میں سے اگر یہ اچھائی نکل کر آئے کہ مسلم معاشرے میں جو جاہل بیک دم تین طلاق دینے سے باز نہیں آتے تھے وہ اگر سزا کے خوف سے اس سے اجتناب کرنے لگیں تو کیا یہ اچھا نہ ہوگا۔
کیا پتہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ کام حکومت سے لیا ہو کہ اپنوں سے جو کام نہ ہوسکا وہ غیروں سے لے لیا باقی اس سلسلہ میں حکومت سے جو لڑائی ہے وہ پوری قوت سے جاری رہنی چاہئے، تاکہ یا تو وہ اس بل کو علماء ومفتیان کرام کے مشورے سے ایسا بنائے جو شریعت اسلامی کو قابل قبول ہو، ورنہ اس بل کو واپس لے، اور آئندہ عہد کرے کہ مسلمانوں کے دینی شرعی معاملات میں وہ ہرگز دخل نہ دے۔
پچیس کڑوڑ مسلمانان ہند میں چند ہزار کیس ہی طلاق کے ہوتے ہوں گے تو یہ کونسا ایسا ایشو ہوگیا کہ جس سے ملک کا امن درہم برہم ہوتا تھا اور حکومت اس میں کوئی اقدام نہ کرتی تو ملک تباہ وبرباد ہوجاتا۔
یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس بل کا یہ اثر تو ہوسکتا ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے سے لوگ احتراز کریں، لیکن ایسا کرنے والا جیل جاکر اور وہاں سے واپس آکر پھر اس عورت کو بیوی بنا کر رکھے گا یہ حرام کاری وہ ہرگز نہیں کرے گا اور نہ کوئی طاقت اس کو ایسا کرنے پر مجبور کرسکے گی۔ (ان شاء اللہ)
حکومت ہند اپنے دماغ سے اس بات کو نکال دے کہ اس بل کو پاس کرالینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو ایک قدم پر کامیابی ہوئی تو دوسرا قدم کامن سول کوڈ کے لئے بھی اٹھا سکتی ہے، امید ہے کہ مسلم امہ اتنی گئی گزری نہیں ہے کہ وہ ایسا ہونے دے گی۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker