اسلامیاتمضامین ومقالات

اسلام کانظام طلاق اورحکومت کامضحکہ خیزبل

مفتی محمدعبداللہ قاسمی
نکاح ایک مقدس اورپاکیزہ رشتہ ہے،میاں بیوی کے مابین الفت ومحبت کاضامن ہے،دوخاندانوں کی تعمیروتشکیل کابہترین ذریعہ ہے،شریعت مطہرہ کامزاج اورمنشایہ ہے کہ جب زن وشوکے مابین یہ پاکیزہ رشتہ قائم ہوجائے تویہ ہمیشہ برقرار رہے،ایسانہ ہوکہ ازدواجی رشتہ سے منسلک ہونے کے کچھ روزبعدیہ دونوں اس پاکیزہ رشتہ کوختم کرلیں،اورعلاحدگی اختیارکرلیں؛کیوں کہ اس رشتہ کے علاحدگی اورتفریق پرمنتج ہونے سے نہ صرف ایک یادوفردکانقصان ہوتاہے؛بلکہ دوخاندانوں کانقصان ہوتاہے،صرف مردوعورت کے مابین دوریاں پیدانہیں ہوتی ہیں؛بلکہ دوخاندانوں کے درمیان دوریاں پیداہوتی ہیں،صرف زن وشوکے باہمی تعلقات میں شکررنجی نہیں آتی ہے؛بلکہ دوخاندانوں میں حسدورقابت کی مسموم فضاپیداہوتی ہے،اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے میاں بیوی کے تعلقات کوامن ومحبت کاگہوارہ بنانے پرزوردیاہے،اوردونوں کوباہمی اعتماداورتعاون کی فضابنائے رکھنے پرزوردیاہے،اورایسے اسباب جن سے باہمی محبت والفت کی فضامتاثرہوتی ہے یاتفریق وعلاحدگی کاپیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ان سے اسلام نے سختی سے منع کیاہے۔
شکایات پیداہوجاناناگزیرہے
ازدواجی زندگی میں چوں کہ مردوعورت کاہمیشہ کاساتھ ہوتاہے،اوردونوں ہی کوایک دوسرے کوقریب سے دیکھنے کاموقع ملتاہے،ایک دوسرے کے اخلاق وعادات سے واقفیت ہوتی ہے،اسی وجہ سے ہرایک کواپنے شریک حیات کی اخلاقی کمزوریاں بھی معلوم ہوتی ہیں،اس کی وجہ سے مردوعورت کاایک دوسرے سے شکایات ہوجاناناگزیرہے،اسلام نے ان شکایتوں کورفع کرنے اورباہمی تعلق کوبحال کرنے کے لئے مرحلہ وارچندہدایات دی ہیں جودرج ذیل ہیں:
صبروبرداشت کی تلقین
سب سے پہلے اسلام نے مردکی یہ ذہن سازی کی ہے ہرآدمی کے اندرکچھ اچھی اوربہترین عادتیں ہوتی ہیں،اوراسی کے ساتھ کچھ ایسی باتیں بھی ہوتی ہیںجواس کی خامی اورکمزوری کہاجاسکتاہے،لہذابیوی کی کوئی بات شوہرکوبری لگے تواس کے اچھے پہلوئوں کویادرکھے،اوراس کے کمزورپہلوئوں کونظراندازکرے،آپﷺکاارشادگرامی ہے:کوئی مومن مردکسی مومن عورت سے بغض نہ کرے،اگراس کی کوئی عادت بری لگے تواس میں دوسری عادت ہوگی جواس کوخوش کردے(مسلم)میاں بیوی کے مابین نباہ اورخوش گوارتعلق کایہ فطری اصول ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی غلطیوں اورخامیوں کونظراندازکرنے اوراس کے مثبت اوربہترپہلوئوں پرنظررکھنے کی عادت ڈالیں،اس سے ازدواجی رشتہ پائیداراورمستحکم ہوگا۔
زبانی فہمائش
تاہم کبھی پانی سرسے اونچاہوجاتاہے،اورصبروتحمل کاپیمانہ لبریزہوجاتاہے،ایسی صورت میں حل یہ نہیں ہے کہ طلاق کے ذریعہ اس مقدس رشتہ کوختم کردیاجائے،بلکہ اسلام نے شوہرکواس بات کاپابندبنایاہے کہ عورت سے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات صادرہواوروہ شرعابھی ممنوع ہوتوپہلے عورت کوزبان سے سمجھائے،اوروعظ ونصیحت کرکے اس کوراہ راست پرلانے کی کوشش کرے۔
خواب گاہ سے علاحدگی
اگر زبانی فہمائش اوروعظ وتذکیربے اثرہوجائے،اورعورت اپنے رویہ میں کسی قسم کی تبدیلی لانے کی روادارنہ ہوتواپنی خواب گاہ میں عورت کے ساتھ سوناچھوڑدے،گھرچھوڑنے کی اسے اجازت نہیں ہے۔
معمولی سرزنش
اورجب یہ دونوں طریقے غیرمؤثرثابت ہوں تب شریعت نے ناگزیردرجہ میںعورت کومارنے کی اجازت دی ہے،لیکن اس کی نوعیت اورطریقۂ کارکیاہوگااس بارے میں بھی اسلام نے صاف اورواضح ہدایات دی ہیں،چنانچہ آپﷺنے ارشادفرمایا:چہرہ پرنہ مارو،برابھلامت کہو،اورنہ اس سے علاحدگی اختیارکرو،ہاں اگرگھرہی میں علاحدگی اختیارکرنے کی ضرورت پیش آئے تواس کی اجازت ہے،(ابودائود،حدیث نمبر:۲۱۴۲)ایک دوسری جگہ آپﷺنے شوہروں کوہدایت دیتے ہوئے فرمایا:اس کومارواس طرح کہ جلدنہ پھٹے۔(بخاری،حدیث نمبر:۵۲۰۳)الغرض عورت کواس کی غلطیوں اورخامیوں پرتنبیہ کرنے کاسب سے آخری درجہ معمولی سرزنش اورتھوڑی سی گوش مالی ہے،اس سے زیادہ جسمانی اذیت دینااورسزامیں جابرانہ طریقہ اختیارکرناشریعت میں ممنوع اورحرام ہے،یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ایک طرف اکثرمیا ں بیوی کے اختلافات سلجھ جاتے ہیں،اوردونوں کے باہمی تعلقات خوش گوارہوجاتے ہیں،تودوسری طرف گھرکی بات گھرہی کے اندررہ جاتی ہے،اوردوسروں کوہنسنے اورنقدوتبصرہ کاموقع فراہم نہیں ہوتاہے۔
خاندان سے سرپنچ کاانتخاب
اگرزجروتنبیہ کے لئے مذکورہ بالاوسائل اختیارکرنے کے بعدبھی میاں بیوی میں کشیدگی بدستورباقی ہے،اوردونوں کے دلوں میں اپنے رفیق حیات کے حوالہ سے بغض وعداوت کے شعلے بھڑک رہے ہیں،ایسے نازک وقت میں بھی اسلام شوہرکوجلدبازی اورزودرنجی سے منع کرتاہے،اورصبروتحمل اورعاقبت اندیشی سے کام لینے کی تلقین کرتاہے،اوردونوں کویہ ہدایت دیتاہے کہ دونوں اپنے خاندان میں سے ایک دوراندیش ،معاملہ فہم اورمخلص آدمی کوثالث بنائیں،جومردوعورت کے درمیان کشیدگی اورنااتفاقی کے اسباب ووجوہات کاجائزہ لیں،اوران دونوں کے درمیان صلح صفائی کرائیں،باہمی نزاع کوثالثی کے طریقے پرحل کرنانہایت متوازن اورفطری طریقہ ہے،یہ ایک طبعی بات ہے کہ دوآدمیوں کے درمیان جب اختلاف ہوجائے تووہ دونوں متاثرذہن کے تحت سوچتے ہیں،جس کی وجہ سے مسئلہ کاحل نہیںنکل پاتا؛بلکہ مزیدپیچیدہ ہوجاتاہے،ثالثی کاکرداراداکرنے والاشخص آزادذہن کے تحت سوچتاہے،جس کی وجہ سے وہ ایسابے لاگ فیصلہ کرسکتاہے جومیاں بیوی دونوں کومنظورہو۔
نباہ کی صورت ہی نہ ہوتو؟
اگرمندرجہ بالاتدابیرناکام ہوجاتی ہیں،اورمردوعورت کے مابین اختلافات اورکشیدگی جوں کاتوںبرقرارہے،اوراس بات کاقوی اندیشہ ہے کہ عورت کی سرکشی اوراس آشفتہ سری سے پوراگھراورپوراخاندان متاثرہوگا،اورلوگوںکاامن وسکون غارت ہوجائے گاتوجس طرح انسان کاکوئی عضوسڑجائے،اوراس میں زہرسرایت کرجائے،اوربقیہ اعضاء میں زہرسرایت کرنے اورسخت نقصان پہونچنے کاقوی اندیشہ ہوتواس عضوکوجسم سے کاٹ کرالگ کردیاجاتاہے،اوریہ پورے جسم کے تحفظ وسلامتی کاضامن ہوتاہے،اسی طرح سے اسلام بالکل ناگزیراورآخری درجہ میں مردکوطلاق دینے کی اجازت دیتاہے۔
طلاق سب سے مبغوض اورناپسندیدہ عمل
لیکن یہ اجازت بھی مطلقانہیں دی گئی ہے؛بلکہ اول مرحلے میںاسلام اصولی طورپرمسلمانوں کواس بات کی ہدایت دیتاہے کہ طلاق اللہ کی نظرمیں سب سے مبغوض اورناپسندیدہ عمل ہے،آپﷺکاارشادگرامی ہے:حلال اورمباح چیزوں میں سب سے مبغوض اورناپسندیدہ اللہ کے یہاں طلاق ہے،ایک دوسری حدیث میں آپﷺنے حضرت معاذؓسے فرمایا:اے معا ذؓ!اللہ نے روئے زمیں پرکوئی ایسی چیزپیدانہیں کی جوغلاموں اورباندیوں کوآزادکرنے سے زیادہ اللہ کومحبوب اورپسندیدہ ہو،اورروئے زمیں پرطلاق کے علاوہ کوئی ایسی چیزپیدانہیں کی جواللہ کومبغوض ا ورناپسندیدہ ہو۔ایک روایت میں ہے:جوعورت اپنے شوہرسے کسی بھی تکلیف کے بغیرطلاق کامطالبہ کرے تواس پرجنت کی خوشبوحرام ہے۔
اسلام نے مردکوجوناگزیردرجہ میں طلاق دینے کااختیاردیاہے اس کی تین صورتیں ہیں:
طلاق احسن
عورت کوپاکی کے زمانے میںایک طلاق رجعی دیناجس میں عورت سے قربت نہ کی گئی ہو،اوراس کوچھوڑدینایہاں تک کہ عورت کی عدت گزرجائے،یہ اسلام میں طلاق دینے کاسب سے بہتراورپسندیدہ طریقہ ہے،صحابہ کرام اوراسلاف طلاق کے اسی طریقے کوپسندکرتے تھے۔
طلاق حسن
اس کی متعددصورتیں ہیں،مثلاعورت …جس سے مردنے ایک باربھی قربت نہ کی گئی ہو…کوایک طلاق دینا،یامدخول بہاعورت کوتین الگ الگ طہرمیںتین طلاق دینابشرطیکہ اس طہرمیں عورت سے دخول نہ کیاہو۔
طلاق بدعی
طلاق احسن اورطلاق حسن کے علاوہ جتنی صورتیں ہیںوہ طلاق بدعی کے دائرے میں آتی ہیں،مثلاایک ہی جملہ میںعورت کودویا تین طلاق دینا،یاایک ہی طہرمیں تین طلاق دینایاحالت حیض میں طلاق دینا،یہ سب صورتیںطلاق بدعی کے دائرے میںآتی ہیں۔
طلاق ایک منصوبہ بندعمل
طلاق احسن اورطلاق حسن میں مردبیوی کوایک طلاق رجعی دیتاہے،اوراس کے بعدایک مہینہ کاوقفہ ہوتاہے،تاکہ مردوعورت دونوں ایک مہینہ تک سوچتے رہیں،اس درمیان اگررائے بدل گئی تومرددوبارہ اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرسکتاہے،طلاق احسن اورطلاق حسن پرغورکریں تومعلوم ہوگاکہ اسلام نے طلاق کوایک جذباتی اقدام کے بجائے ایک سوچاسمجھامنصوبہ بندعمل بنادیا،کیوں کہ عام حالات میں طلاق غصہ اورجلدبازی کانتیجہ ہوتاہے،اگرانسان طلاق احسن اورطلاق حسن کواختیارکرتاہے تواسے ایک مہینہ سوچنے اورغوروفکرکرنے کاموقع ملتاہے،اس لمبے وقفہ میں وہ وقتی جوش اورانتقامی جذبہ سردپڑجاتاہے جس سے مغلوب ہوکرمردنے عورت کوطلاق دے دیاتھا،اس عرصے میں شوہراپنے فیصلہ پراچھی طرح غورکرسکتاہے،اورقریبی لوگوں سے مشورہ کرسکتاہے،بلکہ اس مدت میں متعلقین کوبھی موقع ملتاہے کہ جب انہیں طلاق کی خبرہوتووہ فریقین کوسمجھائیں،اوردونوں کے درمیان نباہ پیداکرنے کی کوشش کریں،اس لئے تقریبایہ بات یقینی ہے کہ جولوگ غصہ کی وجہ سے اپنی بیوی کوطلاق دیں گے وقت گزرنے کے ساتھ وہ خودہی پچھتائیں گے،اوررجوع کرلیں گے؛کیوں کہ طلاق کوئی معمولی بات نہیں ہے؛بلکہ عام حالات میں وہ گھرکوویران کرنے اوربچوں کے مستقبل کوتباہ کرنے کے مترادف ہے۔
اسلام ایک غیرمتبدل نظام حیات
عیسائیوں اورہندومت نے ابتداء طلاق پرقانونی طورپرپابندی لگائی تھی،اورمیاں بیوی میں علاحدگی کوغیرقانونی قراردیاتھا،تفریق وعلاحدگی کاراستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ جن صبرآزماحالات سے گزررہی تھیں ایک سنجیدہ انسان ان کے سننے کی تاب نہیں لاسکتاہے،اس کودیکھتے ہوئے ان لوگوں نے قانون میں تبدیلی کی،اورکورٹ کے ذریعہ طلاق کی انہوں نے قانونااجازت دے دی،لیکن اسلام ایک زندہ جاویددستور العمل ہے،اورقیامت تک کے لئے ایک غیرمتبدل نظام حیات ہے،اس نے چودہ سوسال پہلے مسلمانوں کوجوہدایات دی ہیں آج بھی وہ قابل عمل ہیں،اورانسانوں کی دنیوی واخروی زندگی کی فلاح وکامیابی کاضامن ہے۔
حکومت کامضحکہ خیزبل
آج میڈیاخواہ پرنٹ میڈیاہویاالیکٹرانک میڈیا…اسے انسانیت کی خدمت اورمعاشرے کی تعمیرسے زیادہ اپناکاروباراوراپنی دوکان چمکانازیادہ مقصودہے … نے اسلام میں طلاق کے مسئلہ کوجتنااچھالااوراس کوجس اندازسے لوگوں کے سامنے پیش کیاہے وہ بجائے خودافسوسناک ہے،اورجمہوری نظام سے بغاوت کے مترادف ہے،دوسری طرف حکومت …جس کی خمیرمیں اسلام دشمنی داخل ہے،اسلام اورمسلمانوں سے بلادرجہ کابیرہے…عوام کے ضروری مسائل سے چشم پوشی برت رہی ہے،ملکی سطح پراقتصادی ومعاشی شعبہ میں جوحددرجہ گراوٹ آئی ہے اس کی اصلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے،ملک کی عدالتوں میں سالہاسال سے چل رہے کئی مقدمات زیرالتواء ہیں،اس کے باوجودحکومت نے سپریم کورٹ پردبائوبناکرطلاق کوغیرقانونی قراردیا،اورتین طلاق کے خلاف حکومت نے جوبل پیش کیاہے وہ ایک طرف خودملک کے آئینی دستورکے خلاف ہے،تودوسری طرف اس میں جوپیچیدگیاں اورتضادات ہیں ان کودیکھ کرعقل وانصاف ماتم کرتاہے،اورممبران پارلیمنٹ کی جہالت وحماقت کی عکاسی کرتاہے،حکومت نے تین طلاق دینے والے شخص کے طلاق کوباطل اورکالعدم قراردیاہے،اورایساکرنے والے کوتین سال جیل کی سزاسنائی ہے،اوربیوی بچوں کاخرچہ مردپرلازم کیاہے،سوال یہ ہے کہ جب مردایک طلاق دیتاہے توقانوناایک طلاق عورت پرواقع ہوجاتی ہے،لیکن اگرتین طلاق دے توعورت پرایک بھی طلاق واقع نہ ہویہ کیوںکرہوسکتا ہے،یہ توایساہی ہواکہ کوئی شخص کسی کوایک زخم پہونچائے تووہ اس کے لئے تکلیف دہ اورقابل علاج ہو،اورتین زخم پہونچائے توایک بھی زخم اس کی صحت کے لئے نقصان دہ اورقابل علاج نہ ہو،دوسرے جب تین طلاق کوحکومت ازدواجی رشتہ کے لئے غیرموثرقراردیتی ہے توپھرمردکوتین سال کی سزاکیوں دی جارہی ہے؟یہ توایساہی ہواکہ کسی شخص نے فضامیں فائرنگ کی اوراس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا؛لیکن ایساکرنے والے کوقتل کی سزاسنادی گئی،تیسرے جب مردتین سال جیل کی کالی کوٹھری میں گزارے گاتوبیوی بچوں کاخرچہ کہاں سے دیاجائے گا؟کون کماکران لوگوں کوکھلائے گا،حقیقت یہ ہے کہ یہ حکومت کایہ مجوزہ بل غیرآئینی ہے ،اورتضادات اورپیچیدگیوں سے بھراہواہے۔فیاللعجب!
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker