شمع فروزاں

یکساں سول کوڈ — حقیقت کے آئینہ میں !

(۲)
شمع فروزاں:مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
حقیقت یہ ہے کہ ’یونیفارم سول کوڈ ‘ مختلف وجوہ سے ہمارے ملک کے لئے مناسب نہیں ہے ، ایک تو اس سے اقلیتوں کے مذہبی حقوق متاثر ہوں گے ، جو دستور کی بنیادی روح کے خلاف ہے ، دوسرے : یکساں قانون ایسے ملک کے لئے تو مناسب ہوسکتا ہے ، جس میں ایک ہی مذہب کے ماننے والے اور ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہوں ، ہندوستان ایک تکثیری سماج کا حامل ملک ہے ، جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ، کثرت میں وحدت ہی اس کا اصل حسن اور اس کی پہچان ہے ، ایسے ملک کے لئے یکساں عائلی قوانین قابل عمل نہیں ہیں ، تیسرے : مذہب سے انسان کی وابستگی بہت گہری ہوتی ہے ، کوئی بھی سچا مذہبی شخص اپنا نقصان تو برداشت کرسکتا ہے ؛ لیکن مذہب پر آنچ کو برداشت نہیں کرسکتا ؛ اس لئے اگر کسی طبقہ کے مذہبی قوانین پر خط نسخ پھیرنے اوراس پر خود ساختہ قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے مایوسی کے احساسات اور بغاوت کے جذبات پیدا ہوں گے اور یہ ملک کی سالمیت کے لئے نقصان دہ ہے ، ہمارے سامنے ناگاؤں اور میزؤوں کی واضح مثال موجود ہے کہ انھوںنے اس کے بغیر عَلَم بغاوت کو نہیں جھکایا کہ ان کو کچھ خصوصی رعایتیں دی جائیں ، جن میں ان کے لئے اپنے قبائلی قانون پر عمل کرنے کی آزادی بھی شامل ہے ؛ اس لئے حقیقت یہ ہے کہ مختلف گروہوں کو اپنے اپنے قوانین پر عمل کی اجازت دینا ملک کے مفاد میں ہے ، اس سے قومی یکجہتی پروان چڑھے گی ، نہ یہ کہ اس کو نقصان پہنچے گا ۔
مسلمانوں کو تو یونیفارم سول کوڈ پر اعتراض ہے ہی ؛ لیکن اگر غور کیا جائے تو عملی طورپر خود اکثریتی فرقہ بھی اس کو قبول نہیں کرے گا ، ہندوؤں کی مختلف ذاتیں ہیں اور نکاح وغیرہ کے سلسلہ میں ان کے الگ الگ طریقے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ملک کے سارے ہندوؤں کا ایک ہی طریقہ ہو ، حد تو یہ ہے کہ وہ اپنے بنیادی عقائد اور عبادات کی باتوں میں بھی یکساں نہیں ہیں ، کوئی مورتی پوجا کا قائل نہیں ہے ، کوئی قائل ہے ، کوئی راون کو بُرا بھلا کہتا اور رام کو پوجتا ہے ، کوئی رام کو بُرا بھلا کہتا ہے اور راون کی پرستش کرتا ہے ، خود نکاح کے سلسلہ میں دیکھیں کہ شمالی ہند میں ماموں اور بھانجی کے درمیان نکاح کا تصور نہیں ؛ لیکن جنوبی ہند میں بہن کا اپنے بھائی پر حق سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس کی بیٹی سے نکاح کرلے ، قبائلوں کے یہاں خاندانی رسم و رواج بالکل مختلف ہیں ، آج بھی بعض قبائل میں ایک مرد ایک درجن سے زائد عورت سے نکاح کرسکتا ہے ، یہاں تک کہ ابھی بھی ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں کہ ایک عورت ایک سے زیادہ مرد کے نکاح میں ہوتی ہے ، جس ملک میں مذاہب اورتہذیبوں کا اس قدر تنوع پایا جاتا ہو ، وہاں ایک ہی قانون تمام گروہوں کے لئے کیسے مناسب ہوسکتا ہے ؟
جو لوگ یکساں سول کوڈ کے وکیل ہیں ، وہ بنیادی طورپر دو باتیں کہتے ہیں : ایک یہ کہ اس سے قومی یکجہتی پیدا ہوگی ، دوسرے : جب یورپ میں تمام قوموں کے لئے یکساں قانون ہوسکتا ہے تو ہندوستان میں کیوں نہیں ہوسکتا ؛ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں ، قانون سے قومی یکجہتی پیدا نہیں ہوتی ، قومی یکجہتی ، رواداری ، تحمل اور ایک دوسرے کے معاملہ میں عدم مداخلت سے پیدا ہوتی ہے ، دنیا کی دونوں جنگ عظیم بنیادی طورپر ایسی دو قوموں کے درمیان ہوئی ہے ، جن کا مذہب ایک تھا ، جن کی تہذیب ایک تھی ، جن کا قانون اور طرز زندگی ایک تھا ، یہ ساری وحدتیں جنگ کو روکنے اور قومی وحدت پیدا کرنے میں ناکام رہیں ، خود مسلم ممالک میں دیکھئے کہ عراق و ایران ، شام و افغانستان کے مختلف گروہوں کے درمیان اس کے باوجود جنگیں ہورہی ہیں کہ وہ بنیادی طورپر ایک ہی مذہب اور ایک ہی قانون کی حامل ہیں ، ہندوستان ہی کو دیکھئے کہ یہاں مختلف راجاؤں کے درمیان جنگوں کی ایک طویل تاریخ ہے ، یہ سب ایک ہی طریقہ زندگی پر چلنے والے لوگ تھے ؛ لیکن یہ وحدت ان کو جوڑ نہیں پائی اور آج بھی فرقہ وارانہ فسادات اس لئے نہیں ہوتے کہ مسلمانوں کا معاشرتی قانون الگ ہے اور ہندوؤں کے خاندانی رسوم و رواجات الگ ہیں ؛ بلکہ اس کے برعکس مذہبی قانون سے ہٹ کر جب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دام محبت میں گرفتار ہوکر بین مذہبی شادی رچاتے ہیں تو اس سے فرقہ وارانہ تناؤ پیدا ہوتا ہے اور قومی یکجہتی پارہ پارہ ہوجاتی ہے ؛ اس لئے یہ سوچنا قطعاً غلط ہے کہ قانون کی وحدت کی وجہ سے قومی یکجہتی پیدا ہوگی ، ویسے بھی عائلی زندگی کے علاوہ تمام قوانین میں پہلے سے یکسانیت موجود ہے ؛ لیکن کیا یہ یکسانیت قومی اتحاد کو برقرار رکھنے میں کافی ثابت ہورہی ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ قومی یکجہتی اس بات سے پیدا ہوگی کہ ہر گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کا موقع دیا جائے ، اس سے ہرگروہ میں اطمینان ہوگا ، وہ محسوس کریں گے کہ وہ اس ملک میں برابر کے شہری ہیں ، اس سے حب الوطنی میں اضافہ ہوگا ، احساس محرومی ختم ہوگا ، بھائی چارہ کا ماحول پیدا ہوگا اور یہی قومی یکجہتی ہے ، ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہر چیز میں یکسانیت اور وحدت پیدا کرنا ممکن نہیں ہے ، اگر آپ قانون ایک کر بھی دیں تو ملک میں جو مختلف تہذیبی اور ثقافتی گروہ ہیں ، جن کے لباس و پوشاک ، رہن سہن ، خوشی وغم کے اظہار کے طریقے ، زندگی گزارنے کے انداز ، سماجی رسوم ورواجات الگ الگ ہیں اور اس کی جڑیں ان کے مذہب ، موسم ، جغرافیائی محل وقوع ، خاندانی روایات اور نسلی خصوصیات میں پیوست ہیں ، کیا ان کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے ؟ پھر یہ بات قابل غور ہے کہ مذہب ، تہذیب اور زبان کا یہ تنوع کوئی عیب ہے یا یہ اس ملک کا حسن ہے ؟ گلاب کا ایک پھول بھلا لگتا ہے یا مختلف پھولوں کا گلدستہ ؟ پھول کا ایک پودا خوبصورت نظر آتا ہے ، یا طرح طرح کے پودوں پر مشتمل پھلواری ؟ ظاہر ہے کہ جو خوبصورتی اس تنوع میں ہے ، وہ خوبصورتی اس وحدت میں پیدا نہیں ہوسکتی ، جس کے پیچھے جبر اور دباؤ کا دخل ہو ، ہندوستان کو اس کے معماروں نے گلدستہ بنایا ہے نہ کہ ایک پھول ، اس ملک کے سینچنے والوں نے اس کو نوع بہ نوع درختوں کا ایک باغ سدا بہار بنایا ہے نہ کہ صرف ایک ہی طرح کے درختوں کا باغیچہ ، اس کے بنانے والوں کے ذہن میں تھا کہ یہ ملک ایک چراغ ہمہ رنگ ہو ، یہی ہمہ رنگی اس کا حسن اور یہی تنوع اس کی پہچان ہے ۔
یورپ کی جو مثال ہندوستان کے لئے پیش کی جاتی ہے ، وہ بالکل بے محل ہے ، ہندوستان اتنا وسیع ملک ہے کہ پورا یورپ اس کے ایک حصہ میں سماج جائے ، اور ہندوستان کی آبادی اتنی کثیر ہے کہ شاید پورا یورپ مل کر بھی اس کی ہمسری نہ کرسکے ؛ اس لئے ہندوستان جیسے ملک کی سالمیت اور قومی یکجہتی اسی بات میں مضمر ہے کہ اس میں تنوع کو برقرار رکھا جائے اور ایسی وحدت پر زور نہ دیا جائے ، جو اتحاد کو پارہ پارہ کرکے رکھ دے — مشرقی ملکوں اور مغربی ملکوں میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ مغرب میں لوگوں کا مذہب سے سنجیدہ اور جذباتی تعلق نہیں ہے ؛ ان کے یہاں ایک دو تیوہاروں کے سوا مذہب سے زندگی کا کوئی رشتہ باقی نہیں رہا ، مردم شماری کے ریکارڈ میں صرف خاندانی روایت کے طورپر کسی مذہب کا نام لکھا دیا جاتا ہے ؛ اس لئے مذہبی قوانین کے ختم کئے جانے پر ان کا کوئی رد عمل نہیں ہوتا اور یہ دراصل چرچوں کے ظالمانہ رویہ کے خلاف عوام کی بغاوت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے قید آزادی کا نتیجہ ہے ، جس کی ایک کڑوی تاریخ ہے ، ہندوستان کی یہ صورت حال نہیں ہے ، ہندوستان میں بسنے والے لوگ مذہب سے جذبانی تعلق رکھتے ہیں ؛ اسی لئے جب ۱۹۵۶ء میں ہندوؤں کے لئے باضابطہ قانون بنا تو خود صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرشاد اس سے دل برداشتہ تھے ، اور اسی لئے ہندوؤں سے متعلق قوانین میں ہر جگہ اس بات کو شامل کرنا پڑا کہ اگر کہیں مقامی رسم و رواج اس کے خلاف ہو تو اس کو ترجیح ہوگی۔
یکساں سول کوڈ کے حق میں ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور سیکولر ملک میں مذہبی قوانین کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے — یہ بھی محض غلط فہمی ہے ، سیکولرازم کا کوئی ایک مفہوم متعین نہیں ہے ؛ بلکہ مختلف ملکوں میں وہاں کے حالات اور مصالح کے لحاظ سے اس کامفہوم متعین کیا گیا ہے ، سیکولرازم کا ایک مفہوم وہ ہے ، جو فرانس نے اختیار کیا ہے ، جس کی بنیاد مذہب کی مخالفت پر ہے ، جو چاہتا ہے کہ کوئی مذہبی شناخت باقی نہ رہے تو بہتر ہے ، جو اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ انسان اپنی زندگی کے کسی بھی شعبہ میں مذہبی ہدایات پر عمل کرے ، سیکولرازم کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حکومت کا کوئی مذہب نہ ہو ، سرکاری طورپر کسی خاص مذہب کی پشت پناہی نہ ہو ؛ لیکن ملک کے ہر شہری کو اپنی نجی زندگی میں مذہب پر عمل کرنے کی گنجائش ہو ، بیشتر مغربی ممالک میں اسی مفہوم کے اعتبار سے سیکولرازم کو اختیار کیا گیا ہے اور ہندوستان میں بھی اسی کو برتا گیا ہے ، نیز اسی کے مطابق دستور کی تدوین عمل میں آئی ہے ؛ اس لئے یہ بات بالکل بے محل ہے کہ چوںکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ؛ اس لئے یہاں عائلی زندگی سے متعلق مذہبی قوانین کی گنجائش نہیں ۔
یہ بات بھی بہت عجیب لگتی ہے کہ بی ، جے ، پی نے یونیفارم سیول کوڈ کو اپنے ایجنڈے میں رکھا ہے ، یہ فرقہ پرست پارٹی بنیادی طورپر برہمنی فکر کی نمائندہ ہے اور آر ، ایس ، ایس ، کا سیاسی بازو ہے ، جو ہندوستان میں ’ منوواد ‘ کو واپس لانا چاہتی ہے ، یہ اپنے آپ کو ہندوؤں کے حقوق کا محافظ قرار دیتی ہے ، اگر اس نے ایسے مسائل کو اپنی فہرست میں رکھا ہے ، جن میں ہندوؤں اور دوسری اقلیتوں کے مفادات میں ٹکراؤ ہو ، یا جن کا مقصد ہندوؤں کی بالا دستی قائم رکھنا ہو تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے ؛ لیکن مسلم پرسنل لا کا مسئلہ مسلمانوں کا آپسی مسئلہ ہے ، اگر اس پر مسلمان عمل کریں تو اس سے ہندوؤں کو نہ فائدہ ہے نہ نقصان ؛ بلکہ ایک طرح سے فائدہ ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت مسلمان اور ہندو کے درمیان رشتہ نکاح قائم نہیں ہوسکتا ، اس طرح وہ بات پیش نہیں آئے گی ، جس سے یہ حضرات خوفزدہ ہیں اور جس کو غلط طریقہ سے انھوںنے ’’ لَوْ جہاد ‘‘ کا نام دے رکھا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے نفرت اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم و ناانصافی کے سوا اس کا کوئی اور محرک نہیں ہوسکتا ۔
اور صرف بی ، جے ، پی کا رونا کیوںکر رویا جائے ؟ افسوس تو انگلی پر گنے جانے والے ان چند نام نہاد مسلمانوں پر ہے ، جو فرقہ پرست اوراسلام دشمن عناصر کا آلۂ کار بن کر مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں ، میں ان کی محبوری سے اچھی طرح واقف ہوں ، وہ دراصل اپنی بے روزگاری کا حل نکالنا چاہتے ہیں ؛ کیوںکہ جو لوگ صلاحیت کی بناپر نہیں ؛ بلکہ خوشامد کی بناپر سرکاری مناصب حاصل کرتے ہیں ، وہ چاہے عمر کے کسی مرحلہ میں ہوں ، اس سے محروم ہوکر بے قرار ہوجاتے ہیں ، کیا کہا جائے کہ اس وقت ہر چیز کی قیمت بڑھتی جارہی ہے ، انسان اپنی ضروریاتِ زندگی خریدنے سے عاجز ہوتا جارہا ہے ؛ لیکن ایک چیز ہے جو سستی ہوتی جارہی ہے ، سستی سے سستی اور ارزاں سے ارزاں تر ، اور وہ ہے کچھ لوگوں کا ضمیر ، یہ ضمیر کے سوداگر ہیں اور کوڑیوں میں اپنا مال بیچتے ہیں ، ان کے لئے ہدایت ہی کی دُعا کی جاسکتی ہے ۔
وباﷲ التوفیق وھو المستعان ۔
(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker