تاریخ و آثارمضامین ومقالات

کونگو: وسطی افریقہ کاایک ملک جہاں دعوت دین کی اشدضرورت ہے

بے خبرکی خبر(آخری قسط)

مولاناسراج اکرم قاسمی
معاون مدیر: مدرسہ الہدایہ کنشاسا،کونگو،افریقہ

عیسائی مشنریاں :
ملک کے طول و عرض میں عیسائی تبلیغی اداروں کا ایک مضبوط و مستحکم اورمنظم جال پھیلا ہوا ہے، یہ ادارے یہاں کی غربت و افلاس سے مکمل فائدہ اٹھاتےہیں ، یتیموں،غریبوں اور بیواؤں کی کفالت، کم زوروں اور ضعیفوں کی اعانت و نصرت، بچوں کی تعلیم و تربیت ،بوڑھوں کی دیکھ ریکھ اوربیماروں کی طبی خدمات کے پردے میں عیسائیت کی خاموش؛ مگر مؤثر تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں۔ ـ مجھے یہاں صاف محسوس ہوتا ہے کہ جو کوئی بھی اہل کانگوکے لیے مادی وسائل فراہم کرے گا تو یہ لوگ مذہبی اور روحانی اعتبار سے اس کی طرف کھنچتے چلے جائیں گے، چناں چہ مسلمان بھی بسا اوقات دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیےانھی ذرائع سے کام لیتے ہیں، ـــــــــ جگہ جگہ عیسائیت کی معلومات کے لیے کتب خانے موجود ہیں، مسلم علاقوں میں تفریح گاہوں کے نام پر ایسے چرچ قائم ہیں جن میں حضرت عیسی وغیرہ کی کوئی تصویر موجود نہیں ہے۔ عیسائیت کے پہلو بہ پہلو شیعیت بھی سر گرم عمل ہے، گو ابھی ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے؛ لیکن ان کے بیشتر افراد تجارت سے وابستہ ہیں، جن کے بڑے بڑے تجارتی کاروبار ہیں ، ایران سے جن کے روابط بڑے گہرے اور مضبوط ہیں، شیعی علما کی آمد ورفت برابر جاری رہتی ہے، کئی یونیورسٹیاں بھی ہیں جن میں ایرانی اساتذہ تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

گنتی کی انجمن ہے اس ملک کی فضا میں:
ملک کی وسعت و آبادی کو دیکھتے ہوئے اسلامی تنظیمیں برائے نام ہیں، سعودیہ، قطر اور سوڈان کی تنظیمیں تو ہیں؛ لیکن ان میں سے بیشتر کا تعلق دینی امور کے بجائے محض رفاہی کاموں سے ہے۔ ـ کانگو کی سب سے بڑی تنظیم’’الجمعیۃ الاسلامیہ‘‘ہے، جو حکومت سے منظور شدہ؛ بلکہ اسی کے اشارے پر قائم کردہ ہے،اسے ہندوستان کا ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘سمجھناچاہیے؛لیکن وسائل کےفقدان،رجال کار کی قلت اور عدم اتحاد کی وجہ سے یہ تنظیم بورڈ کی طرح متحرک، فعال اور مؤثر نہیں۔ ـ بورڈ جس طرح اپنے موقف اور مسلمانوں کی متحدہ آواز کو پوری قوت وطاقت اورجرأت وبسالت کے ساتھ حکومت وقت تک پہنچاتا اوراسے غور و فکر پر مجبور کرتا ہے، یہ جمعیت اس سے عاری؛ بلکہ عاجز ہے،مزید برآں یہاں کے حالات بھی اجازت نہیں دیتے کہ ’’جمعیت ‘‘فریق بنے ـ۔ جمعیت کے مختلف ذیلی شعبے ہیں،جن میں سب سے اہم ’’مجلس العلماء ‘‘ہے،اسے ہندوستان کا ’’دارالقضاء‘‘بلکہ ’’دارالافتاء‘‘سمجھناچاہیے۔پورے کانگو میں M,F,C(Muslim foundation of congo ) کا کام سب سے زیادہ ہمہ گیر، مقبول، دور رس اور مثبت نتائج کا حامل ہے،یہ ہندوستانی؛ بلکہ صحیح تر لفظوں میں گجراتی مسلمانوں کی ایک تنظیم ہے جس کا کام ہمہ جہت اور نفع بخش ہے ـ ۔اللہ تعالٰی گجراتی مسلمانوں کو جزائے خیر دے کہ وہ جہاں بھی پہنچتے ہیں ’’معاش کومعاد ‘‘سے وابستہ کر دیتے ہیں،خواہ وہ امریکی شہر ہو یا افریقی صحرا ،ہر جگہ یہ لوگ تلاش معاش کے ساتھ کوئی ایسا نمایاں دینی کام ضرور کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے بھی مثالی، قابل تقلید اور نمونہ ہوتا ہے۔
یادرکھے گاتمھیں بھی زمانہ اختـــر شرط یہ ہے کہ کچھ کام نرالے توکرو

دارالعلوم الایمان اور مدرسہ الہدایہ:
ایم، ایف،سی کی نگرانی میں یوں تو کئی مدارس ومکاتب اورمساجد دینی ودعوتی خدمات میں مشغول ہیں؛ لیکن ان میں سب سے اہم ’’دارالعلوم الایمان‘‘اور ’’مدرسہ الہدایہ‘‘ ہے ۔ ـ دارالعلوم کی تاسیس 2007 ءمیں عمل میں آئی، اس میں فی الوقت شعبۂ تحفیظ،اعدادیہ تا دورۂ حدیث شریف کی تعلیم جاری وساری ہے ، قلیل مدت میں یہاں سے ایک درجن کے قریب علما وحفاظ سند فراغت حاصل کرچکے ہیں جو ملک وبیرون ملک میں نمایاں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ’’مدرسہ الہدايہ‘‘ ایک غیر اقامتی عربی درس گاہ ہے، جس میں تقریبا 800 طلباوطالبات اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں ،مدرسے میں سات سالہ نصاب ہے، اس مدت میں طلبا نورانی قاعدہ تا مکمل ناظرہ قرآن کریم، دروس اللغۃ العربيۃ (تینوں حصے) اور اسلامیات کے 6 حصے مکمل کرتے ہیں،تکمیل کے بعد ان میں اتنی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوسروں کی بھی دینی رہنمائی کرسکیں اور انھیں کفر و اسلام کا فرق سمجھا سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خود اس ’’ارض تثلیث ‘‘میں اعتقادی اور عملی طور پر مسلمان رہیں۔ تعلیم بالغان کا بھی خصوصی نظم ہے،جس میں بصد شوق وذوق ہر شام 150 کے قریب احباب شریک ہوتے ہیں، فقہ شافعی کی تدریس اور ایک ترتیب میں عربی زبان وادب کی تعلیم ناچیز سے بھی متعلق ہے – ایم، ایف، سی کے ماتحت دار الیتامی اور دارالبنات بھی ہیں،سارے طلباوطالبات خواہ وہ دارالعلوم کے ہوں یا مدرسہ اور دار الیتامی کے اسکول ضرور جاتے ہیں، جن کے سارے اخراجات ایم ،ایف، سی سے متعلق ہیں،یہ تنظیم اپنے بچوں کی مکمل کفالت کرتی ہے۔بچوں کے یونیفارم، ان کے کھانے پکانے کے لیے مسالہ جات اور دیگر ضروری اشیا ہندوستان ہی سے آتی ہیں؛ کیوں کہ یہاں گرانی بہت ہے، حالاں کہ زیادہ تر مصنوعات ہندوستانی ہی ہیں ،جو سامان ہندوستان میں 100روپے کا ملتا ہے وہ لازما یہاں 500 روپے کا آتا ہے، فی الوقت یہاں کے 1600 روپے ہندوستانی 65 روپے کے مساوی ہیں ـ ۔بچوں کے لیے کتابیں عام طور سے ہندوستان، پاکستان، مصر اور سعودی عرب سے قیمتا منگائی جاتی ہیں جوبحری راستے سے اس دور ترقی میں بھی پانچ چھ مہینے میں پہنچتی ہیں ۔

دوپٹے کی قید سے آزادی:
بلا تفریق مذہب و ملت یہاں عورتوں کے سر اور سینے دوپٹے کی قید سے آزاد اور نصف قدم لباس کی زینت سے محروم ہو تے ہیں،ان کا عمومی لباس ہاف گنجی، گھٹنے تک ہاف پینٹ یا اسی کے ہم مثل کوئی اور لباس ہوتا ہے، ایسابرہنہ لباس تو ہندوستان میں مغربی تہذیب کی پرستار انتہائی جدت پسند عورتیں بھی پہننے میں عار محسوس کریں گی، اس لیے یہاں نظر؛ بلکہ ہم ہندوستانیوں کے لیے اپنی عصمت و عفت کی حفاظت وصیانت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ـ

شراب وزنا کی کثرت:
یہاں ضروری اشیائے خورد و نوش کی گو قلت ہے، اکثر لوگ ایک ہی وقت کھاتے ہیں؛ مگر زنا اور شراب کی وہ کثرت ہےکہ الامان والحفیظ!!’’ان کی صبح کا آغاز جام و مینا سے ہوتا ہے، راتیں ساقیان دل کش اداؤں کی بانہوں میں گزرتی ہیں، اور دن راستے میں گرتے پڑتے لڑھکتے ہوئے کٹ جاتا ہے۔‘‘ـ میرے ایک بااعتماد دوست نے بتایا کہ ’’میری آنکھوں نے یہاں وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ امام صاحب ’’لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاریٰ‘‘سے بے خبر، نشے میں مدہوش مصلے پر چڑھ گئے اور عھلاہ عاقبر (الله أکبر )کی بھاری بھرکم صدا سے مسجد کانپ اٹھی ـ۔ ابھی ہفتہ پہلے میں نے خود دیکھا کہ ’’ایک دربان دوسرے دربان کو زدو کوب کر رہا ہے، میرے پوچھنے پر پہلے نے بتایا کہ اس نے شراب پی رکھی ہے،امام صاحب کاحکم ہےکہ یہ کسی طرح مسجد میں داخل نہ ہونے پائے۔

دعوتی مواقع :
ماضی میں یہاں خواہ جو رکاوٹیں رہی ہوں؛ لیکن ابھی دعوتی مواقع پوری طرح فراہم ہیں ،ہندوستان جیسی زہر آلود فضا نہیں کہ اگر خاندان کا کوئی فرد اسلام کے دامن رحمت میں آجائے تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑے، فی الوقت یہاں پیدائشی اورپشتینی مسلمانوں سے زیادہ نو مسلم گھرانے ہیں جن کے بھائی بہن اور ماں باپ اب بھی عیسائیت پرقائم ہیں؛ پر مذہب کی بنیاد پر ان میں باہمی کوئی عداوت نہیں؛ بلکہ ماں عیسائی ہوتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کو بخوشی مسلمان ہوجانے کی اجازت دے دیتی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے علاوہ مقامی لوگ بھی جماعت سے وابستہ ہیں، ان کی جماعتیں بھی نکلتی رہتی ہیں ،بندہ بھی گاہے بگاہے چلا جاتا ہے، اندازہ ہوتا ہے کہ بے چارے کام کے’’ صحیح منہج‘‘سے واقف نہیں،اور حقیر بھی اس راہ کا کوئی منجھا ہوا راہی نہیں کہ ان کی خاطر خواہ رہنمائی کر سکے،گو ’’مالیرکوٹلہ‘‘میں چلہ کشی کر چکا ہے۔ پورےکانگو میں 400کےآس پاس مساجد ہیں جن میں سے بیشتر اپنی غربت کی وجہ سے عہدقدیم کی یاد دلاتی اور دعوتی کاموں سے خالی ہیں، مجھے یہاں آئے چار مہینے ہو چکے ہیں، اس دوران انڈیا کی پہلی جماعت آئی ہے جس کے تاثرات یہ ہیں کہ’’اس ملک میں تو روزانہ سو جماعتیں آنی چاہیے۔

بے خودی میں کہہ گئے افسانہ در افسانہ ہم:
واقعات نوک قلم پر آتے اور صفحات پر بکھرتے اور نقش ہوتے چلے گئے، حالات لکھے جا چکے، اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ داعیان اسلام کے قافلے اٹھیں اور جوق در جوق یہاں آئیں، جو کنگولیوں کے لیے روحانی غذا کی فراہمی کے ساتھ مادی وسائل کا بھی بندوبست کریں، مقامی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی اتنی فراوانی ہو کہ کوئی باشندہ اس سے محروم نہ رہے ـــــــ اس سلسلے میں جدید ذرائع ابلاغ سے بھی بھرپور کام لیا جائے، جگہ جگہ مکاتب و مدارس، مساجد ومعابد، شفاخانے اور رفاہی ادارے قائم کیے جائیں اور ان سب کا خرچ بیرونی مسلمان اپنے ذمے لیں، پھر (ان شاءاللہ) :
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے * یہ چمن معمور ہوگا نغــــــمۂ تـــوحیـد سے
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker