خواتین واطفالمضامین ومقالات

دن بھر کرتی کیا ہو ؟

سیدہ تبسم منظور ناڈکر – ممبئی – 9870971871

دن بھر کرتی کیا ہو ؟ یہ سوال شاید ہر گھر میں سننے کوملتا ہو ! میں نے بھی ا?ج یہ سوال اپنی سہیلی کے گھر سنا تو سوچا اس سوال کا جواب دینا بھی ضروری ہے کہ ایک گھریلو عورت (House wife) ا?خر دن بھر کرتی کیا ہے؟
اس سوال کا جواب ا?سان نہ تھا اس لیے میں نے اپنے ا?پ کو ایسی ہی ذات تصور کرلیا جس سے یہ سوال بار بار پوچھا جاتا ہے تو میرے ذہن میں جواب در ا?یا۔
’’میں غزالہ! ایک گھریلو عورت یعنی House wife ہوں۔ ا?ج میں سوچنے بیٹھی ہوں تو لگتا ہے کہ میں اپنے ہی گھر والوں کے لئے بیکار سی چیز ہوں۔ کسی کو نہیں لگتا کہ میں کسی کام کی ہوں۔ ہر ایک کی نظر میں میری اہمیت نا کے برابر لگتی ہے۔ میرے ساس سسر ،میرے شوہر ،یہاں تک کہ میرے اپنے بچے بھی مجھ سے ہمیشہ ہی کہتے ہیں کہ، ’’ا?پ کرتے کیا ہو ؟سارا دن توگھر پر ا?رام سے رہتے ہو نا؟ باہر محنت کرنے اور کام کرنے تو ہمیں جانا پڑتا ہے۔ ‘‘ ا?ج میں ان سب کی باتیں سن کر سوچ میں ڈوب گئی ہوں کہ ا?خر سچ میں، میں کرتی کیا ہوں ؟ کیا واقعی میں کوئی محنت کا کام نہیں کرتی؟ کیا میں دن بھر گھر میں ا?رام سے رہتی ہوں؟ یہ جو گھر کی ساری ذمہ داریاں ہیں کیا یہ کوئی کام نہیں؟ اگر یہ سب کوئی کام نہیں تو مجھے کیوں ، کیوں ایک پل کا بھی ا?رام نہیں ملتا ؟
جب ا?دمی سوچنے بیٹھتا ہے تو ساری باتیں دماغ میں گھومنے لگتی ہیں۔ ا?ج جب غور کیا تو پتہ چلا کہ مجھے تو ا?ئینہ تک دیکھنیکی فرصت نہیں ملتی۔ بس گھڑی کی سوئی کی طرح صبح سے لے کر رات تک چلتی ہی رہتی ہوں۔ بنا رکے، بنا تھکے، خود کو بھول کر۔ جب سارا گھر سویا رہتا ہے میں ا?نکھوں میں نیند کا خمار لئے جاگ جاتی ہوں۔ صبح سب سے پہلے ہر ایک کے بارے میں سوچتی ہوں۔ ان کا پورا دن بہتر بنانے کے لیے سجدے میں جا کر ان کے لئے دعائے خیر کرتی ہوں۔اس کے بعد اپنے دن کا ا?غاز باورچی خانے سے کرتی ہوں۔ سب سے پہلے بچوں کا ناشتہ تیار کرکے انہیں اْٹھاتی ہوں اورنہلا کر تیار کرتی ہوں۔ ان کے ناشتہ کرنے تک میں ان کے ٹفن تیار کرلیتی ہوں۔ ان کیٹفن، بیگ، واٹر بوتل وغیرہ دے کر انہیں اسکول کے لیے روانہ کرتی ہوں۔ بچے تو اسکول چلے گئے۔ اب باری ا?تی ہے شوہر اور گھر کے دوسرے افراد کی۔ وقت کم ہوتا ہے اب ان سب کے لیے ناشتہ تیار کرنے اور ا?فس والوں کے لئیٹفن تیار کرنے کا کام شروع ہوتا ہے۔ ناشتہ تیار ہوگیا تواب سب کے لیے پروسنا اور ناشتے کے دوران دھیان رکھنا کہ کسی کا صبح صبح موڈ خراب نہ ہو۔سب کے چلے جانے کے بعدسارے برتن جمع کر کیدھونا ،پھر باورچی خانہ صاف کر کے وہاں سے فراغت پالینا۔ اس کے بعد کپڑے دھو کر سکھانا۔پھر گھر کی صفائی ،جھاڑو پونچھا کرناوغیرہ۔ اتنا ہونے تک گھڑی نے بارہ بجا دیئے۔ اب ہوا دوپہر کا کھانا بنانے کا وقت۔ کھانا بنا کر ہوا نہیں کہ ظہرکا وقت ہوگیا نماز پڑھ کے فارغ ہوئی ہی تھی کے بچے اسکول سے ا?گئے۔ بچوں کو کھانا کھلایا، جو بڑے بزرگ گھر میں ہیں انہیں کھانا پروسا۔ خود بھی کھانا کھا کر سارے برتن جمع کیے اور انہیں دھو کر صاف کرکے قرینے سے رکھ دیئے۔ جب تک گھڑی نے تین بجا دیئے۔ اب وقت ہوا بچوں کو ٹیوشن کے لیے روانہ کرنے کا۔ سوچا کے ٹیوشن چھوڑ ا?نے کے بعد تھوڑا ارام کرلوں پر خیال ا?یا کپڑوں کو استری کرنا تو باقی ہے تو کپڑوں کو استری کرنے لگ گئی۔ یہ ہونے تک عصر کا وقت ہوا۔ نماز ادا کرکے سب کو چائے بنا کر دی۔ پھر جاکر بچوں کو ٹیوشن سے لے ا?ئی اور انہیں بھی چائے بسکٹ ناشتہ دیا۔ پھر دھلے ہوئے کپڑوں کو تہہ کرکے الماری میں رکھ دیا۔

ذرا بھی کمر سیدھی کرنے کا وقت نہیں ملا اور اب ہوا رات کے کھانابنانے کا وقت۔ جب تک میں کھانا بنانے میں مصروف تھی تب تک بچوں کو کھیلنے کے لیے چھوڑ دیا۔ مو?ذن نے مغرب کی صدا لگائیں۔ نماز ادا کی ہی تھی کہ بچوں کو عربی پڑھانے والے مولانا ا?گئے۔ان کے عربی پڑھنے تک میں بھی اپنے کچن کے کام سے فارغ ہوگئی۔ اب ا?یا بچوں کو ہوم ورک پوراکروانے کا وقت۔ کچھ نو ساڑھے نو بجے تک پڑھائی کروائی پھر انہیں کھانا کھلا کر اپنے کمرے میں جاکر سونے کے لییکہا۔ اس وقت تک سب ا?چکے تھے۔گھر میں سب نے مل کر رات کا کھانا کھایا اور تھوڑی دیر وقت گزار کر سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ میں نے کھانے کے برتن اٹھائے انہیں دھو کر اپنی جگہ رکھ دیا۔ باورچی خانہ صاف کیا اور باہر نکلی۔ اس وقت تک گھڑی نے 11 بجا دیے
تھے۔ گھر کے دروازے وغیرہ بند کیے، امی ساس، ابا سسر کے کمرے میں پانی رکھ دیا اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔ عشاء￿ کی نماز باقی تھی وہ ادا کی۔
یہ تھا روزانہ کا ٹائم ٹیبل۔ اب ذرا بتائے میں دن بھر کرتی کیا ہوں؟صبح پانچ بجے سے لے کر رات کے بارہ بجے تک میں کرتی کیا ہوں؟ کیا اس پوریدن میں خود لئے ایک پل بھی جی پائی۔پھر بھی روز کے چبھتے ہوئے سوال کہ میں دن بھر کرتی کیا ہوں؟
سب سچ کہتے ہیں کہ روپیہ بڑی محنت سے کمایا جاتا ہے اور میں ایک پیسہ کمانے لائق نہیں۔ سب کے نزدیک میں دن بھر گھر میں پڑی رہتی ہوں۔ ان کی طرح محنت نہیں کرتی نا اس لیے بیکار ہوں۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے کوئی بتائے کہ۔۔۔۔۔
میں توپورا دن کام کرتی ہوں……… ایک ماں، بیوی، بہو ہوں۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک باورچی بھی ہوں جو بغیر تنخواہ کے کم سے کم تین وقت کا کھانا بناتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں صفائی والی بھی ہوں جو تمام گھرکی صفائی کرتی ہوں اور وہ بھی بغیرکسی تنخواہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔دھوبی بن کر میں پورے گھر کے کپڑے دھوتی ہوں بغیر تنخواہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سب کے لیے ویٹر کی طرح کھانا پروستی ہوں بغیر تنخواہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نرس بن کر بیماروں کی تیمار داری کرتی ہوں بغیر تنخواہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گھر پر اپنے بچوں کو پڑھائی کراتی ہوں استاد بن کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے گھر کی حفاظت کرتی ہیں سیکیورٹی گارڈ بن کر اور وہ بھی بغیر تنخواہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔ سال کے 365 دن کام کرتی رہتی ہوں۔کبھی چھٹی نہیں ملتی چاہے میں بیمار ہی کیوں نہ ہو جاو?ں۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کوئی تنخواہ نہیں ملتی!!!!!! کوئی بونس نہیں ملتا!!!! پھر بھی مجھ سے بار بار یہ چبھتا ہوا سوال پوچھا جاتا ہے کہ۔۔۔۔میں دن بھر کرتی کیا ہوں؟ اتنا سب کرنے کے بعد اور بھی کچھ کرنا باقی ہے تو۔۔۔۔۔۔(یو این این)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker