خواتین واطفالگوشہ خواتین

خوب کھائیے ،دبلی ہو جائیے

سلیم بیگ
ایک امریکی ماہر معاشیات نے مالی امداد دینے کے لئے ایشیاء کے ملکوں کا جائزہ لینے کی خاطر دورہ کیا ۔ اس نے امریکہ واپس جا کر کہا کہ ایشیا کے ملکوں کی مالی حالت جتنی پتلی ہے اتنی ہی وہاں کی عورتیں موٹی ہیں ۔یہ بات بھاری عورتوں پر بھی چسپاں ہوتی ہے ۔ یہاں اگر ایک طرف بھوک کا مسلہ ہے تو دوسری طرف موٹاپے کا مسلہ بھی ۔ ہمارے ملک میں دونوں مسئلہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ ہمارے یہاں کی مزدور عورتیں شاذ و نادر ہی موٹی ہوتی ہیں اس کی وجہ جسمانی محنت ہے جو غذا کو جسم میں جمع ہونے نہیں دیتی ۔ موٹی عورتوں کا ایک عام خیال یہ ہے کہ بھوکا رہنے سے وزن کم ہو سکتا ہے ۔ یہ خیال غلط ہے، جن عورتوں نے اسے آزمایا ہے ، وہ اس بات کی گواہ ہیں کہ بھوکا رہنے کے بعد وزن کم ضرور ہوتا ہے لیکن عارضی طور پر ۔ اس کے بعد جب اس بھوک کی تلافی ہوتی ہے تو پہلے سے بھی زیادہ موٹی ہوجاتی ہیں ۔ ویسے بھی تحاشا ڈائیٹنگ کرنا صحت کے لئے مضر ہے ۔
یہاں موٹی عورتوں کے لئے کچھ ہدایتیں درج کی جاتی ہیں جن پر عمل کرنے سے وہ بھوکے رہے بغیر بھی دبلی ہو سکتی ہیں ۔
یہ بات سب لوگوں کو معلوم ہے کہ موٹاپا کیلوریز کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ یہ حرارت اور طاقت کی اکائی ہے ۔ ایک انسان کو دن بھر میں 35کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر وہ ایسی غذائیں استعمال کریکہ اس کے جسم میں 5000کیلوریز پہنچ جائیں تو یہ فالتو 1500کیلوریز جسم میں جمع رہتی ہیں ۔ اگر یہی بات بار بار دہرائی جائے تو کیلوریز کا بینک بیلنس بے تحاشہ بڑھ جاتا ہے اور نتیجہ موٹاپے کی صورت میں نمودار ہوتا ہے ۔ کیلوریز کا سر چشمہ چکنائی اور اناج ہے مگر عام خیال کے خلاف دونوں قسم کی کیلوریز میں فرق ہے ۔ جو کیلوریز اناج سے جسم کو ملتی ہیں وہ تھوڑے بہت کام کاج سے ختم ہو جاتی ہیں ۔ مگر وہ کیلوریز جو چکنائی سے جسم کو ملتی ہیں وہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں ۔ یہ معمولی محنت سے ختم نہیں ہوتیں اور اس طرح جسم میں جمع ہو جاتی ہیں ۔ اس لئے پہلا کام یہ کریں کہ غذا میں اناج کی مقدار بڑھا دیں اور چکنائی کی مقدار گھٹا دیں ۔ چکنا گوشت، خالص دودھ ، مکھن، گھی، انڈے ، اپنی غذا سے خارج کر دیں ۔ اصلی گھی کے بدلے سورج مکھی کے بیج کا تیل استعمال کریں ۔ یا کورن آئل استعمال کریں۔ مکھن ، پنیر اور مٹھائیاں ترک کر دیں ۔ چپاتی ، چاول ، سبزی اور پھل کی مقدار بڑھا دیں ۔
اگر آپ مرغ کے شوقین ہیں تو اس کی کھال الگ کر دیں ۔ ساری چکنائی کھال میں ہوتی ہے۔ مچھلی کھائیں تو اسے تلنے کے بجائے بھون لیں ۔ اگر آپ صبح ناشتے میں مکھن کی تہہ جمے ہوئے ٹوسٹ کھاتی ہیں تو مکھن کے بجائے مسٹرد کا استعمال کریں ۔ مسٹرڈ پائوڈر یعنی پسی ہوئی رائی بازار میں عام ملتی ہے ۔ ابتداء میں اس کا تیز ذائقہ آپ کو شاید پسند نہ آئے لیکن رفتہ رفتہ آپ اس کی عادی ہو جائیں گی ۔ خالص دودھ کی بجائے اسکمڈ دودھ استعمال کریں ۔ اس سے چکنائی نکال لی جاتی ہے ۔ اگر آپ کو تلی ہوئی چیزیں پسند ہیں تو عام فراپین نہ استعمال کریں ۔ اس میں زیادہ گھی لگتا ہے ۔ آج کل بازار میں نان اسٹک فرائنگ پین ملتے ہیں ۔ ان کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اس کی سطح پر ایک اخاص کیمیائی مادہ لگا ہوتا ہے ۔ اگر گھی کم ہو تو اس میں کوئی چیز چپکتی نہیں جو عام فرائنگ پین ہوتا ہے ۔ اس فرائنگ پین کو نوکر سے صاف نہ کرائیں وہ اس کی کالی سطح کو میلا سمجھ کر صاف کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کی خوبی ختم کر دے گا ۔ اسے مانجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ معمولی گیلے کپڑے سے صاف ہو جاتا ہے ۔
جب کھانا دستر خوان یا میز پر لگا دیں تو سالن کی ڈش سامنے نہ رکھیں ۔ اس طرح آپ بار بار چمچہ ڈال کر پلیٹ بھرتی رہیں گی ۔ اس کی بجائے پلیٹ میں کھانا نکال کر میز پر رکھیں اور اسی پر اکتفا کریں اگر آپ کو اپنے کھانے کی مقدار کا اندازہ ہے ، لیکن اس میں کوئی قباحت نہیں ہوگی ۔ سامنے سالن کی ڈش ہو گی تو بے اختیار اس کی طرف ہاتھ اٹھ جاتا ہے ۔
کھانا لگاتے وقت پلیٹ سامنے نہ رکھیں ، بڑی پلیٹ میں کم غذا اور بھی کم لگتی ہے ۔ چھوٹی پلیٹ میں کھانا کھائیں ۔ یہ کم کھانے سے بھی بھری بھری معلوم ہوتی ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے ۔ بڑی بوٹی بڑی پلیٹ میں چھوٹی معلوم ہوتی ہے لیکن چھوٹی بوٹی چھوٹی پلیٹ میں بڑی معلوم ہوتی ہے ۔
جب آپ کھانا شروع کریں تو خود کو دبلا تصور کریں ۔ حصہ بقد حئثہ والی بات غلط نہیں ہے ، دبلے انسان کم کھاتے ہیں ، وہ بھوک لگنے پر ہی کھاتے ہیں اور بھوک ختم ہوتے ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہر موٹی عورت کے دل میں ایک دبلی عورت بیٹھی ہوتی ہے جو باہر آنے کے لئے بے تاب ہوتی ہے ۔ آپ خود کو یہی عورت تصور کریں گی تو اسی حساب سے کھانا کھائیں گی ۔
ایک عام روایت یہ ہے کہ پلیٹ میں کھانا نہیں بچنا چاہئے اگر اپنی ضرورت کے مطابق پلیٹ میں کھانا نکالیں گی تو جھوٹا چھوڑنے کی نوبت نہیں آئے گی لیکن یہاں ایک قباحت یہ ہے کہ آپ نے اپنی پلیٹ صاف کر لی اور آپ کے خاوند یا بچے نے کھانا پلیٹ میں چھوڑ دیا ۔ میاں کی پلیٹ میں آدھا شامی کباب بچا ہوا ہے اور بیٹے نے آدھی حلوے کی پلیٹ چھوڑ دی تو اسے ثواب کی خاطر صاف نہ کریں ۔ یہ بچا ہوا کھانا کوئی اور بھی کھا سکتا ہے ۔ آپ خود اسے ٹھکانے نہ لگائیں ۔
اگر آپ کی پرورش کسی ایسے گھر میں ہوئی ہے جہاں مٹھائیوں اور تلی ہوئی چیزوں کے کھانے کا رواج ہے تو ظاہرہے آپ کی مرغوب غذا یہی چیزیں ہوں گی ۔ آپ کے لئے یکلخت اپنی پسند اور عادت بدلنا ہوگا ۔ لیکن آپ اتنا کر سکتے ہیں کہ اپنے بچوں کو پھل اور سبزی کلچر سے روشناس کرائیں ۔ اس طرح گھر میں مٹھائیوں اور سموسوں کی بھر مار نہیں ہوگی ۔ آج کل ہندوئوں میں بھی دیوالی کے موقع پر مٹھائی کے بدلے خشک میوے پیکٹ دینے کا رواج چل رہا ہے ۔ جب گھر میں مٹھائیوں اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز شروع ہو جائے گا تو آپ کو بھی فائدہ ہو گا ۔ اگر آپ بازار سے گزر رہی ہوں اور حلوائی کی دکان پر مٹھائی کے تھال دیکھیں یا کسی دعوت پر گلاب جامن کی پلیٹ دیکھیں تو دل میں یہ الفاظ دہرائیں، یہ مٹھائی چند لمحے میرے منہ میں رہے گی، چند گھنٹے میرے پیٹ میں رہے گی اور ساری عمر میرے کو لہے میں رہے گی ، یہ الفاظ آپ کا بڑھتا ہوا ہاتھ روک لیں گے ۔
کھانے کا ناغہ نہ کریں ۔ یہ قربانی بعد میں نقصان پہنچاتی ہے ۔ روزہ دار بھی اپنی محنت اور ریاضت کے بعد افطار کو دعوت بنا دیتا ہے ۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اتنی قربانی کے بعد اس کی تلافی کے مستحق ہیں ۔ کھانا برابر اور وقت پر کھائیں ۔ بھوکے نہ رہیں ، کیونکہ بھوکا رہنے کے بعد زیادہ کھانے کا حق پیدا ہوجاتا ہے ۔
اگر کوئی ایسی چیز مرغوب ہے تو کبھی کبھی ان سے لطف اندوز ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اس میں احسا س گناہ کو شریک نہ کریں ۔ اتنا ضرور ہے کہ اپنی مرغوب غذا کم کھائیں ۔ اگر لڈو مرغوب ہیں تو ایک لڈو پر ہی اکتفا کریں ۔ اس طرح آپ کی بھوک بھی پوری ہوجائے گی اور زیادہ نقصان بھی نہیں ہوگا ۔
اگر آپ کو ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی عادت ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ بڑی بوڑھیوں کا قول تھا کہ ایک منہ چلے ستر بلا ٹلے ۔ اس میں صرف اتنی ترمیم کر لیں کہ غذا ابدل دیں ۔ مثلاْ مٹھائی ، سموسے یا آلو کے چپس کی جگہ پاپ کارن (مکئی کے پھلے)کھائیں ۔ مونگ پھلی کی جگہ گاجر چبائیں ۔ گھر میں کھیرے کے قتلے رکھ لیں ۔ کھیرے اور ٹماتر میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں ۔ پھلوں کی سلاد بنا کر کھائیں ۔ گزشتہ زمانے میں ایک پیسے کی مکئی کے پھلوں میں پیٹ بھر جاتا تھا ۔ کوئی انسان ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا ۔ آج یہ پاپ کارن کہلاتے ہیں اور ان کا کھانا فیشن میں داخل ہے ۔ یہ بجلی کی مشین سے بھی بنائے ہیں لیکن شہر کے پرانے حصوں اور قصبوں میں یہ ابھی تک گرم بالو میں بھونے جاتے ہیں ۔ ان کا چبانا مٹھائی اور تلی ہوئی چیزوں کے کھانے سے بہتر ہے ۔
جب آپ گھر کے لئے سودا خریدیں تو اس وقت بھی ان چیزوں کا دھیان رکھیں جو آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ بازار میں کوئی مزے کی چیز دیکھ کر دل للچاتا ہے اور آپ بغیر سوچے سمجھے خرید لیتی ہیں ۔ اگر گھر میں کوئی اسے نا پسند کرے تو آپ خود اسے ختم کر دیتی ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی شاپنگ لسٹ کاغذ پر تحریر کر لیں اور اس میں کوئی اضافہ نہ کریں ۔
بعض عورتوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ تنہائی، جھنجھلاہٹ اور غصے میں زیادہ کھاتی ہیں ۔ یہ ایک نفسیاتی عیب ہے ۔ آپ اپنا غصہ کھانے پر نکالتی ہیں ۔ کھانا تحفظ کی نشانی بن جاتا ہے ۔ اگر آپ ان عورتوں میں سے ہیں تو اس عادت کو بدلنے کی کوشش کریں ۔ غصہ نکالنے کے لئے تکئیے پر گھونسے مارنا بھی مفید ہوتا ہے ۔ گھر کا کام، جو ذرا محنت طلب ہو ، توجہ کو بانٹ دیتا ہے اور جسم کو تھکا دیتا ہے ، اسی طرح غصہ بھی کم ہو جاتا ہے ۔ گھر سے نکل کر کسی سہیلی کے گھر پیدل جائیں تو چہل قدمی بھی غصہ کم کر دیتی ہے اور سہیلی سے باتیں کر کے دل کا غبار بھی دھل جاتا ہے ۔ ۔ غرض یہ ہے کہ غصہ کھانے پر نہ نکالیں ، اس میں آپ کا ہی نقصان ہے ۔
بھوک دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک پیٹ کی بھوک اور دوسری منہ کی بھوک ۔ پیٹ کی بھوک اصلی بھوک ہوتی ہے ، جب پیٹ میں چوہے دوڑت ہیں اور انتیں قل ھو اللہ پڑھتی ہیں ۔ منہ کی بھوک مصنوعی ہوتی ہے ۔ انسان کا پیٹ بھرا ہوا ہو ،تو بھی کوئی لذیذ چیز دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آتا ہے اور دو چار لقمے کھا لیتا ہے ۔ آپ کو چاہئے کہ آپ دونوں قسم کی بھوک میں تمیز کرنا سیکھیں ۔ پیٹ کی بھوک لگی ہو تو کھائیں ۔ منہ کی بھوک مٹانے کے لئے چیونگ گم چباتی رہیں ۔ اس طرح منہ بھی چلتا رہے گا اور فالتو غذا بھی پیٹ میں نہیں پہنچے گی ۔
بعض اوقت انسان بے دھیانی میں بھی کھاتا رہتا ہے ۔ کسی پارٹی میں مزے دار گفتگو ہو رہی ہو، ٹیلی ویژن پر کوئی فلم چل رہی ہو یا کوئی دل چسپ ناول ہاتھ میں ہو انسان کو کھانے کی مقدار کا خیال نہیں رہتا ۔ اس بات کو دھیان میں رکھیں، ورنہ آپ لا محالہ اپنی خوراک سے زیادہ کھا لیں گی ۔ جب آپ بازار سے شاپنگ کر کے لوٹیں یا کسی سہیلی کے گھر سے واپس آئیں تو تھکان مٹانے کے لئے کچھ نہ کچھ کھانا چاہتی ہیں، اس سے بچنے کے لئے اور طریقہ اختیار کریں ۔ کسی عزیز کو خط لکھنے بیٹھ جائیں ۔ آج کل خط لکھنے کا رواج معدوم ہو رہا ہے لیکن آدھی ملا قات ہے اس طرح وقت بھی اچھا گزر جاتا ہے ۔
چائے اور کافی زیادہ استعمال نہ کریں ، ان میں کیفین ہوتی ہے جو بھوک کو بڑھاتی ہے ۔ پوری نیند سوئیں ۔ بعض لوگ نین نہ آنے سے تھکان محسوس کرتے ہیں اور اسے کھانے سے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔
جب آپ دعوت میں جائیں تو بھوکے پیٹ نی جائیں ۔ برض عورتیں دعوت کے ساتھ انصاف کرنے کی چاہت میں ایک وقت کا کھانا گول کر دیتی ہیں مثلاْ رات کی دعوت ہے تو دوپہر کا کھانا نہیں کھاتیں ۔ یہ طریقہ غلط ہے۔ اصل طریقہ اس کے بر عکس ہے ۔ دعوت میں جانے سے پہلے کچھ کھا لیں خواہ وہ کچھ پھل یا دودھ کا کپ باقی جگہ خالی رہے گی ۔ اس طرح آپ بریانی اور قورمے پر بھوکوں کی طرح حملہ نہیں کریں گے ۔ دعوت میں دوسرے لوگوں کو بری طرح کھاتے دیکھ کر ان کی نقل نہ کریں ، اگر آپ کچھ کھا کر چلی ہیں تو ویسے بھی آپ کی بھوک بہت تیز نہیں ہوگی ۔ کچھ کھا کر جانے میں نکتہ یہ بھی ہے کہ اگر کھانا لینے میں دیر ہو جائے (جیسا کہ اکثر ہماری دعوتوں میں ہوتا ہے ) تو آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی اور آپ آسانی سے صبر سے انتظار کی گھڑیاں کاٹ لیں گی ۔
کچھ عورتیں جلدی جلدی کھاتیں ہیں یہ عادت بری ہے۔ ایک نوالے کو کم از کم 32مرتبہ چبائیں کہ منہ میں اتنے ہی دانت ہوتے ہیں ورنہ 16دفعہضرور چبائیں ۔ آہستہ آہستہ کھانے سے غذا میں لعاب کی خوب آمیزش ہو جاتی ہے اور یہ بات غذا ہضم کرنے میں مفید ہوتی ہے ۔ پیٹ دماغ کو سگنل بھیجتا ہے کہ وہ بھر گیا ہے ۔ دماہاتھ کو سگنل دیتا ہے کہ وہ دستر خوان سے رک جائے ۔ جلدی جلدی کھانے والے کا سگنل دماغ کو اس وقت پہنچتا ہے جب وہ خوب پیٹ بھر کر کھا چکا ہو ۔ اس طرح سگنل ملنے میں دیر ہوجاتی ہے ۔ دماغ کا سگنل ہاتھ کو نہیں پہنچتا اور انسان بھوک سے زیادہ کھا لیتا ہے ۔ (یو این این )

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker