اسلامیاتفقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

ٹرین اور بس کی دیوار پر تیمم
سوال:- ٹرین اور خاص کر بس کے سفر میں بعض دفعہ پانی میسر نہیں ہوتے اور مٹی بھی دستیاب نہیں ہوتی ہے ؛ البتہ اس کی دیوار پر گرد و غبار موجود ہوتا ہے ، کیا اس پر تیمم کیا جاسکتا ہے ؟ ( محسن علی،کریم نگر)
جواب :- ٹرین میں اکثر و بیشتر اگر ایک کوچ میں پانی ختم ہوجاتا ہے تو دوسرے میں موجود ہوتا ہے اور ان کے درمیان اندرونی راستہ بھی ہوتا ہے ؛ اس لئے دوسرے کوچ میں جاکر وضوء کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، اسی طرح اگر وقتِ نماز کے اندر اسٹیشن کے آجانے کی اُمید ہو تو وہاں اُتر کر وضو کرنے یا پانی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، اگر یہ دونو ںصورتیں نہ ہوں اور ٹرین کی دیوار پر واقعی گَرد موجود ہو ، ہاتھ مارنے پر وہ گرد محسوس ہوتی ہو تو تیمم کیا جاسکتا ہے ، بسوں کو عام طورپر رُکوانا ممکن ہوتا ہے ؛اس لئے پانی کی جگہ پررُکواناچاہئے؛ لیکن اگر امن و امان یا ٹریفک کے مقررہ قواعد کی وجہ سے بس کو روکنا ممکن نہ ہو ،اس کی دیوار پر گرد و غبار موجود ہو اور اندیشہ ہو کہ تیمم کرکے نماز ادا نہ کریں تو نمازقضاء ہو جائے گی تو اس گرد و غبار سے تیمم کرلینا کافی ہوگا : ’’ وکذا یجوز بالغبار مع القدرۃ علی الصعید عند أبی حنیفۃ و محمد رحمہما اﷲ ؛ لأنہ تراب دقیق ‘‘ ۔ ( الہدایہ : ۱؍۲۸ ، کتاب الطہارت ، باب التیمم)

ولادت کے بعد عورتوں کا چالیس دنوں تک نماز نہ پڑھنا
سوال:- عام طورپر جب خواتین کی ولادت ہوتی ہے تو بہر صورت چالیس دن تک نماز ادا نہیں کرتی ہیں ؛ حالاںکہ بعض عورتوں کو ایک ہفتہ یا اس سے کم یا زیادہ میں ہی خون بند ہوجاتا ہے ، تو کیا خون بند ہوجانے کے بعد بھی انھیں چالیس دنوں تک نماز سے رُکا رہنا چاہئے ؟ (جمیل اختر،چادرگھاٹ)
جواب :- یہ ایک غلط خیال ہے، جو بہت سی عورتوں کے ذہن میں بیٹھ گیا ہے کہ ولادت کے بعد جب تک چالیس دن نہ گذر جائے ان پر نماز نہیں ہے، چالیس دن تو زیادہ سے زیادہ مدت ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چالیس دن سے زیادہ خون کا سلسلہ جاری رہے تو چالیس دن تک نمازیں نہیں پڑھیں ، اور چالیس دنوں کے بعد نمازیں ادا کریں ؛ کیوںکہ یہ استحاضہ کا خون ہے ؛ لیکن اگر چالیس دنوں سے پہلے خون آنا بند ہوجائے تو چاہے ایک دن ہی میں کیوں نہ خون رُک جائے ، پھر بھی وہ پاک سمجھی جائیں گی اور ان پر نماز پڑھنا واجب ہوگا : ’’ أقل النفاس مایوجد ولو ساعۃ وعلیہ الفتویٰ واکثرہ أربعون ، ( الفتاویٰ الہندیہ : ۱؍۳۷) و إن طھرت قبل الأربعین اغتسلت وصلت ل؛أنہ لا تقدیر فی أقل النفاس‘‘ ۔ ( المبسوط للسرخسی : ۲؍۱۹)

ریلوے اسٹیشنوں پر پینے کے پانی سے وضو
سوال:- گرما کے موسم میں پانی کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں ، اسی طرح ریلوے اسٹیشنوں پر حکومت کی طرف سے پینے کے پانی کا انتظام ہوتا ہے ، اگر وضوء کے لئے پانی نہ ملے تو کیا اس پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے ؟ (حامدحسین،ناگپاڑہ)
جواب :- اگر حکومت یا سبیل لگانے والوںکی طرف سے پینے کے علاوہ دوسرے مقاصد کے لئے پانی کے استعمال کی ممانعت ہو ، جیسے لکھا ہوا ہو : ’’ یہاں منھ دھونا منع ہے ‘‘ تو ایسی جگہ اس پانی سے وضو کرنا درست نہیں ہے؛ کیوںکہ یہ سہولت فراہم کرنے والے کے منشاء کے خلاف ہے اور اس لئے کہ حکومت کے جو قوانین شریعت کے خلاف نہ ہوں ، ان کی پیروی کرنا ضروری ہے ، اگر ایسی ممانعت نہیں ہو اور اسٹیشن پر یا قریب میں دوسرا پانی موجود ہو تب بھی پینے کے مخصوص پانی سے وضو کرنا درست نہیں ؛ البتہ اگر دوسرا پانی موجود نہ ہو ، پینے کا پانی بہت فراوانی کے ساتھ ہو ، وضو کرنے کی وجہ سے دوسروں کو دشواری نہ ہو تو اس پانی کو لے کر اس سے وضوء بھی کیا جاسکتا ہے : ’’ واختلفوا فی التوضوء بماء السقایۃ جوز بعضھم ،وقال بعضھم : إن کان الماء کثیرا یجوز و إلا فلا ، وکذا کل ماء أحد للشرب حتی قالوا فی الحیاض التی أعدت للشرب لا یجوز فیھا التوضوء ویمنع منہ وھو الصحیح ‘‘ (فتاویٰ قاضی خان علی الہندیہ : ۳؍۲۰۷) ؛ البتہ اس صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ پینے کے لئے مخصوص کئے گئے پانی سے وضو کرنے کے بجائے پانی خرید کر اس سے وضو کرلیا جائے ، جیسے پیاس دُور کرنا ایک طبعی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہم پیسہ خرچ کرتے ہیں ، تو پاکی حاصل کرنا ؛ تاکہ نماز جیسی عبادت اداکی جاسکے،بھی ایک اہم دینی ضرورت ہے ؛ اس لئے ہمیں اس کام میں بھی پیسہ خرچ کرنا چاہئے ؛ تاکہ لوگوں میں یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ مسلمانوں اپنی دینی ضرورت پوری کرنے میں دوسروں کی ضروریات کا خیال نہیں کرتے ہیں ، اس میں انشاء اللہ دوہرا ثواب حاصل ہوگا ، ایک : وضو کرنے کا ، دوسرے : اس مقصد کے لئے پیسہ خرچ کرنے کا ۔

بڑے شہروں میں مسجد کے پڑوسیوں کا مسجد سے پانی حاصل کرنا
سوال:- ممبئی جیسے شہر میں گرمیوں کے موسم میں پانی کی بڑی قلت ہوجاتی ہے ، چھوٹے چھوٹے گھروں میں بورویل نہیں ہوتے ہیں ؛ لیکن مسجدوں میں بورویل ہوتے ہیں ، تو کیا ایسی صورت میں مسجد کے پڑوسیوں کا اپنی ضروریات کے لئے مسجد سے پانی لے جانا جائز ہے ؟ (حامدحسین،ناگپاڑہ)
جواب :- بورویل کے ذریعہ جو پانی حاصل کیا جاتا ہے ، اس میں مسجدکے پیسے بھی خرچ ہوتے ہیں ، الکٹرک کا بِل دینا پڑتا ہے ، بار بار مرمت کی ضرورت پیش آتی ہے ، اس کے اخراجات ہوتے ہیں ، بسااوقات موٹر کی نگرانی وقت پر موٹر چلانے اور بند کرنے کے لئے ملازم رکھے جاتے ہیں ؛ اس لئے اگر مسجد میں چندہ دینے والوں کی طرف سے اجازت کی بناپر مسجد کی انتظامیہ پانی لینے کی اجازت دے اور پانی مسجد کی ضرورت سے زیادہ ہو تو بہت ضروری کام کے لئے پانی لیا جاسکتا ہے ، اگر مسجد میں خود پانی کی کمی ہو ، یا مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہیں ہوتو پانی لینا جائز نہیں ہوگا ؛ کیوںکہ یہ واقف کے منشاء کے خلاف ہے ، واقف یعنی چندہ دہندگان کا منشاء یہ ہے کہ پانی مسجد کی ضروریات میں خرچ ہو : ’’ ویجوز أن یحمل ماء السقایۃ إلی بیتہ لیشرب ھو وأھلہ ولیس لأحد أن یسقی أرضہ الخ ‘‘ ۔ (فتاویٰ قاضی خان علی الہندیہ : ۳؍۲۰۷)

زبانی ہبہ کرنا
سوال:- میرے ایک دوست کے والد نے ان کو ایک زمین ہبہ کی ؛ لیکن صرف زبانی کہہ دیا ، اس کے لئے کوئی تحریر نہیں بنائی ، کیا یہ ہبہ درست ہوگا؟ (محمددانش،ملک پیٹ)
جواب :- معاملات میں شرعاً اصل اہمیت زبان کے بول کی ہے ؛ بلکہ بعض معاملات میں تو زبان ہی سے اپنے منشاء کو بیان کرنا ضروری ہے ، جیسے نکاح ، تحریر تو اس لئے لکھی جاتی ہے کہ ریکارڈ موجود رہے اور بعد میں نزاع پیدا نہ ہو ؛ اس لئے اگر زبانی ہبہ کردیا اور ہبہ کرنے کے لئے جو شرطیں ہیں ، وہ پوری کردیں تو ہبہ درست ہوگیا ؛ البتہ آج کل چوںکہ فسق و فجور کا غلبہ ہے ، دیانت و راست گوئی کی کمی ہے ؛ اس لئے بہتر ہے کہ خاص کر زمین جائداد وغیرہ ہبہ کرتے وقت تحریری دستاویز بھی تیار کردی جائے ؛ تاکہ بعد میں نزاع پیدا نہ ہو ، جیساکہ گذشتہ زمانہ میں فقہاء نے ہبہ پرگواہ بنانے کی تلقین کی ہے : ’’ … والإشھاد لہ لیس بشرط ؛ بل الھبۃ تتم بالإعلام ، إلا أنہ ذکر الإشھاد احتیاطا للتحرز عن جحود سائر الورثۃ بعد موتہ ، أو عن جحودہ بعد إدراک الولد ‘‘ ۔ ( المبسوط للسرخسی : ۱۲؍۶۱)

نذر پوری ہونے سے پہلے صدقہ کرنا
سوال:- ایک صاحب نے نذر مانی تھی کہ اگر انکو بیٹا پیدا ہوگا تو وہ ایک بکرا صدقہ کریں گے ، ولادت سے پہلے سونو گرافی کی بنیاد پر ڈاکٹر نے بتادیا کہ آپ کی بیوی کے حمل میں بیٹا ہے ، اطلاع پاتے ہی انھوںنے خوش ہوکر نذر پوری کردی اور ایک بکرا صدقہ کردیا تو کیا نذر پوری ہوگئی؟ (عبدالرقیب،مہدی پٹنم)
جواب :- جب نذر کسی شرط سے متعلق ہو ، یعنی یوں کہا جائے کہ جب فلاں بات ہوجائے تو میں یوں کروں گا ، تو اس صورت میں جب تک وہ بات وجود میں نہ آجائے ، اس کا نذر والے عمل کا انجام دینامعتبر نہیں ہوگا ، یہاں اس نے نذرکو بچہ کے پیدائش سے متعلق کی تھی اور چاہے ڈاکٹر نے بیٹا ہونے کی اطلاع دے دی ہو ؛ لیکن بیٹا پیدا نہیں ہوا تھا تو ایسی صورت میں بکرا صدقہ کرنے سے اس کی نذر پوری نہیں ہوئی ، بیٹا پیدا ہونے کے بعد بکرا صدقہ کرنا ضروری ہے : ’’ وھذا بخلاف ما إذا قال : إذا قدم فلان فللّٰہ علیّ أن أتصدق بدرھم فتصدق بہ قبل قدوم فلان لم یجزہ ‘‘ ۔ (المبسوط للسرخسی : ۳؍۱۳۰ ، نیز دیکھئے : بدائع الصنائع : ۵؍۹۳)

عیدگاہ میں کھیل کود
سوال:- ہماری آبادی میں بچوں کے کھیل کود کے لئے کوئی میدان نہیں ہے ؛ لیکن عیدگاہ ہے اور وہ کافی وسیع ہے ، جو صرف عید بقرعید کی نماز کے لئے استعمال ہوتی ہے ، کیا اس کو نوجوان حضرات عام دنوں میں کھیل کے میدان کے طورپر استعمال کرسکتے ہیں ؟ (رؤف احمد،ملے پلی)
جواب :- عیدگاہ صرف اس حد تک مسجد کے حکم میں ہے کہ اگر صفوں میں اتصال نہ ہو اور صفوں کے درمیان فاصلہ ہوجائے ، تب بھی اقتداء درست ہوجاتی ہے ، باقی دوسرے احکام میں یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے ، تاہم بہتر ہے کہ حالت جنابت میں یا ستر کی رعایت کے بغیر عیدگاہ میں آنے سے پرہیز کیاجائے : ’’ … وفی الواقعات، المسجد الذی اتخذ لصلوۃالعید فالمختار للفتویٰ أنہ مسجد فی حق جواز الاقتداء، و إن انفصلت الصفوف، وأما فی ماعدا ذلک فلا ،رفقا بالناس ، ( فتاویٰ تاتار خانیہ : ۵؍۸۴۵ ، کتاب الوقف ، مسائل وقف المساجد ) ویجنب ھذا المکان عما یجنب عنہ المساجد احتیاطاً ‘‘ ۔ ( ردالمحتار : ۴؍۳۵۶ ،الوقف فی احکام المسجد )
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker