جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

موت کے سوداگرہیں یہ ہتھیاروں کے تاجر!

غفران ساجدقاسمی
(چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
ؑؑگذشتہ دنوں امریکی ذرائع ابلاغ سے آنے والی خبروں میں ایک خبرانتہائی اہمیت کی حامل تھی ۔خبرکے مطابق امریکہ کے صدرمسٹرٹرمپ نے دنیابھرمیں پھیلے ہوئے اپنے سفارتکاروں اورملٹری اتاشیوں کوواضح طورپرفرمان جاری کیاتھاکہ وہ امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے معاملہ میں ایک ’’فعال سیلزمین‘‘ کاکرداراداکریں۔خبرکے مطابق صدرٹرمپ نے اپنے سفراء کے لئے یہ پیغام بھی جاری کیاکہ وہ اس معاملہ میں اپنے معمول کے فرائض سے آگے بڑھ کرکام کریں اورامریکی ہتھیارکودوست ممالک میں بیچنے میں ایک اچھے سیلزمین کاکرداراداکریں۔خبرمیں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ دراصل مسٹرٹرمپ نے انتخابات کے موقع پرملک کی عوام سے یہ وعدہ کیاتھاکہ وہ امریکی مصنوعات کی بیرون ملک فروخت بڑھاکرامریکیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ روزگارکے مواقع پیداکریں گے اورگذشتہ چھ سالوں سے جاری 50؍ارب ڈالرکے تجارتی خسارے کوبھی کم کریں گے۔انہی انتخابی وعدوں کوپوراکرنے کی غرض سے ٹرمپ انتظامیہ نے ’’امریکی چیزیں خریدو‘‘کے نام سے ایک نئی حکمت عملی تیارکی ہے اورسفراء اورملٹری اتاشیوں کوجاری کردہ یہ پیغام اسی حکمت عملی کوعملی جامہ پہنانے کے منصوبہ کی ایک اہم کڑی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ سے موصولہ یہ خبراپنے آپ میں بہت سارے رازکوسمیٹے ہوئی ہے۔ایک طرف تودنیابھرمیں امریکہ قیام امن کی دہائی دیتاہے اورمشرق وسطیٰ اورمسلم ممالک میں اپنے فوجی اڈے بناکربھولی بھالی عوام کویہ باورکرانے کی کوشش کرتاہے کہ یہ شورش زدہ علاقے ہیں یہاں امریکہ کی موجودگی ہی امن کی بحالی میں معاون ثابت ہوسکتی ہےاوردوسری طرف ہتھیاروں کی فروختگی کے لئے اپنے سفارتکاروں اوردنیابھرکے امریکی سفارتخانوں میں موجودملٹری اتاشیوں کو’’فعال سیلزمین‘‘ کاکرداراداکرنے کاپیغام جاری کرتاہے،آخرماجراکیاہے؟
دنیاکے مخصوص خطوں میں خانہ جنگی کابرپاہونا،بعض ممالک کے درمیان جنگ کی صورت حال پیداہوجانااوراسی طرح دنیاکے مختلف حصوں میںآئے دن تشددپسندگروہوں کاجنم لینایہ بلامقصدنہیں ہے ،اورنہ ہی ایساہے کہ ان کے وجودکے پیچھے کوئی وجہ نہیں ہے۔جب ہم انٹرنیٹ کی دنیامیں موجوداعدادوشماراورحقائق کاجائزہ لیتے ہیں توہماری آنکھوں کے سامنے سے یہ پردہ چاک ہوجاتاہے کہ جوممالک ہتھیاربناتے ہیں،اس کوفروخت کرتے ہیںوہ بالکل پرامن اورپرسکون ہیں،اورجوممالک ہتھیارخریدتے ہیں وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں رہتے ہیں،اورعالمی سطح پرموجودایجنسیوں کے حوالے سے مستقل اس طرح کی خبریں نشرکی جاتی ہیں جس سے یہ محسوس ہوکہ بس جنگ چھڑنے ہی والی ہے اورپھریہیں سے شروع ہوتاہے ہتھیاروں کی خریدوفروخت کالامتناہی سلسلہ جوتھمنے کانام نہیں لیتا۔مختلف ممالک کے درمیان جنگ اورایک دوسرے کے خلاف بڑے بڑے ہتھیاروں کااستعمال توکچھ حدتک سمجھ میں آتاہے لیکن آج تک یہ بات سمجھ سے باہرہے کہ جنہیں ’’امن پسنددنیا‘‘(امریکہ) دہشت گردگروپ کے طورپرشناخت کرتاہے اورپھراس گروپ کوختم کرنے کے لئے اپنی امن پسندفوج کواس ملک یاخطہ میں اتاردیتاہے ،ان دہشت گردگروپ کے پاس اتنے خطرناک ہتھیارکہاں سے آتے ہیں،کیوں کہ بڑے پیمانے پرہتھیارکی سپلائی کرنے والے چندگنے چنے ممالک ہی ہیں،توپھران دہشت گردگروپوں کوہتھیارکون سپلائی کرتاہے؟یہ اپنے آپ میں ایک بڑاسوال ہے جسے سب جانتے ہوئے بھی نہ توکوئی یہ سوال کرناچاہتاہے اورنہ ہی کوئی اس کاجواب دینے کی اپنے اندرہمت رکھتاہے۔مجھے یادپڑتاہے کہ چندسال قبل غالبا2013 میں رمضان کے مہینے میں ظالم اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کررکھی تھی،اورمسلسل غزہ پربمباری کررہاتھا ،ٹھیک انہی دنوں مصرمیں مرسی حکومت کاتختہ پلٹ ہواتھا،بڑے پیمانے پرشورش برپاہوئی تھی اورسینکڑوں معصوم مسلمان موت کی نیندسلادیئے گئے تھے۔میں اس وقت سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں بسلسلہ ملازمت مقیم تھا۔میں نے اس موقع پرمصرکے سابق صدرمحمدمرسی کی حمایت میں چندمضامین لکھے تھے،جس میں عرب ممالک کے حکمرانوں کوسخت تنقیدکانشانہ بنایاتھا۔اسی موقع سے رمضان کے آخری ایام میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ حاضرہوا۔ہندوستان کے ایک بڑے عالم دین جوعالم عرب میں ہی برسوں سے مقیم ہیں اورعرب علماء میں اپنی جداگانہ شناخت رکھتے ہیں،مجھے اطلاع ملی کہ وہ بھی حرم شریف میں موجودہیں،ان سے ملاقات کے لئے حاضرہوا، ملتے ہی انہوں نے مجھ سے فرمایاکہ عزیزم!ایساہے کہ آپ مشرق وسطیٰ کے بارے میں حقیقی معلومات نہیں رکھتے ہیں،بہترہے کہ اس موضوع پرقلم نہ اٹھایاکریں۔پھرازراہ مذاق لیکن بڑے پتے کی بات کہی کہ آج ہمارے لوگوں کی لڑائی کاحال بس ایساہی ہے کہ وہ پہلے امریکہ سے کہتے ہیںکہ حضور! ہمیں ہتھیارچاہئے،امریکہ پوچھتاہے کیاکروگے،حضورآپ کے خلاف جہادکرناہے،اچھایہ بات ہے تولویہ ہتھیار،اسی طرح انہوں نے کہاکہ اسرائیل بھی ایک بڑاہتھیارسپلائرہے،لوگ اسے بھی کہتے ہیں کہ اسرائیل بہادر،ہمیں ہتھیارچاہئے، اسرائیل پوچھتاہے کہ تم ہتھیارلے کرکیاکروگے توپھروہی جواب ہوتاہے کہ تم سے جہادکرناہے،اورپھراسرائیل اپنے ہی خلاف جہادکرنے والےگروپ کواپناہتھیارفروخت کردیتاہے۔ بظاہرمولاناکی یہ باتیں میرے لئے بڑی عجیب وغریب تھیں،لیکن مجھے سمجھنے میں اس لئے دیرنہیں لگی کہ میں سعودی میں جس ملازمت سے منسلک تھا اس ملازمت کاتعلق بھی امریکہ سے ہتھیاراورآلات حرب کی خریدوفروخت سے تھا۔میرے ساتھ کام کرنے والے ایک رفیق تھے جن کاتعلق پڑوسی ملک سے تھا،جب بھی آپس میں ہم لوگ بیٹھتے اوردنیابھرمیں ہونے والی شورشوں اورخانہ جنگی پربحث ہوتی توآخرمیں ہم اس نتیجہ پرپہونچتے کہ جنگ کی کوئی وجہ توہے ہی نہیںاگرکوئی وجہ ہے اوریقینایہی وجہ ہے جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اوردیگرایسے ممالک جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں جن کے پاس ہتھیارکی فیکٹریاں نہیں ہیں،بلکہ وہ ممالک ہتھیارکی خریدپرچندچودھری قسم کے ممالک پرانحصارکرتے ہیں توایک ہی بات سمجھ میں آتی کہ یہ تمام جنگیں صرف ہتھیارکی تجارت کے لئے ہے اوربس!
ہتھیارکی تجارت ہتھیاربنانے والے ممالک کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی معیشت کادارومدارہی ہتھیارکی تجارت پرہے،اورہتھیارکی تجارت اسی وقت ممکن ہے جب خریدنے والے ممالک کویہ باورکرادیاجائے کہ تم حالت جنگ میں ہو،اورتمہاری فوجی طاقت جدیدٹیکنالوجی سے لیس نہیں ہے،تم ہم سے معاہدہ کروہم تمہیں جدیدآلات حرب بھی دیں گے اورآنے والے کئی سالوں تک جنگ میں معاون جدیدٹیکنالوجی کی تربیت بھی دیتے رہیں گے۔یہ ایک ایساکارگرفارمولہ ہے کہ اپنی حکومت اوراپنے ملک کوبچانے کے لئے اپنی معیشت کوداؤپرلگاکرہتھیاروں کی بڑی سے بڑی ڈیل سائن کرلیتاہے اوراس طرح وہ خریدنے والاملک اپناپیسہ دے کربھی فروخت کرنے والے ملک کاکئی سالوں تک غلام بنارہتاہے۔کیوں کہ ہتھیارفروخت کرنےوالے ممالک کی ایک اہم شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ ہتھیارجب تک آپ کے پاس ہے اس کی مرمت بھی ہمارے ملک سے ہی کرانی ہوگی اس طرح جب تک ہتھیاراس کے پاس ہوتاہے مینٹینیس اورمرمت کے نام پرفروخت کرنے والے ملک کی جیب گرم کرتارہتاہے۔یہ بات میں یوں ہی نہیں کہہ رہاہوں بلکہ تجربہ کی روشنی میں یہ باتیں تحریرکررہاہوں۔یوں تودنیابھرمیں درجنوں ممالک ہیں جوہتھیارکی مصنوعات اوراس کی تجارت سے جڑے ہوئے ہیں لیکن اس میدان میں امریکہ سرفہرست ہے۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں دنیابھرمیں 31؍بلین ڈالرکے ہتھیارکی تجارت ہوئی جس میں دنیاکے دس ممالک کی 90؍فیصدحصہ داری تھی ،یعنی 31؍بلین ڈالرمیں سے 28؍بلین ڈالرکی تجارت صرف دس ممالک کی تھی ،جن میں تقریبا10؍بلین ڈالرکی تجارت کے ساتھ امریکہ سرفہرست تھا۔الجزیرہ کی ریسرچ ٹیم نے جوتحقیقی رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق دنیاکے دس بڑے ممالک ہتھیاربنانے اوراس کی سپلائی کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شمارہوتے ہیں وہ اس طرح ہیں۔1۔امریکہ(10؍بلین ڈالر)2۔روس(6اعشاریہ 4بلین ڈالر)3۔جرمنی(2اعشاریہ 8بلین ڈالر)4 ۔فرانس (2اعشاریہ 2بلین ڈالر)5۔چین(2اعشاریہ 1بلین ڈالر)6۔انگلینڈ(1؍اعشاریہ 4بلین ڈالر)7۔ اسرائیل(1؍اعشاریہ3بلین ڈالر)8۔ اٹلی(اعشاریہ 8بلین ڈالر)9۔جنوبی کوریا(اعشاریہ 5؍بلین ڈالر)10۔ یوکرائن(اعشاریہ 5؍بلین ڈالر)۔
مذکورہ رپورٹ دیکھنے سے صاف پتہ چل رہاہے کہ ہتھیاروں کی سپلائی میں امریکہ بڑے فرق کے ساتھ نمبرایک پرہے۔حالاںکہ دوسرے نمبرپرماضی میں دنیاکا سپرپاوررہ چکاروس ہے لیکن اس کی تجارت امریکہ کے مقابلہ بہت کم ہے۔اسی طرح دوسری جانب ذراان ممالک پربھی ایک نظرڈالتے چلیں جوہتھیارخریدنے میں ماہرہیں ۔تحقیق کاروں کے مطابق اگرہتھیاروں کے بنانے اوراس کے فروخت کرنے میں امریکہ سپرپاورہے توہتھیارکی خریدکے معاملے میں ہم بھی سپرپاورکی حیثیت رکھتے ہیں۔یعنی بڑے پیمانے پرہتھیارخریدنے میں ہندوستان کانمبرایک ہے اوراس طرح اسے ٹاپ ٹین میں نمبرایک کی جگہ ملی ہے،اورایساکیوں نہ ہوکیوں کہ اسے یہ باورکرادیاگیاہے کہ تمہاراپڑوسی تمہاراسب سے بڑادشمن ہے،اسی لئے اپنے آپ کوجدیدہتھیارسے جتنالیس کروگے تمہارادشمن تم سے اتناہی خائف رہے گا۔توآئیے ذراہتھیارخریدنے والے دس بڑے ممالک پرنظرڈالتے ہیں۔دنیابھرمیں فروخت کئے جانے والے ہتھیاروں میں سے 15؍فیصدہتھیاروں کی درآمدات کے ساتھ ہندوستان نمبرایک پرہے جب کہ 5؍فیصدکے ساتھ سعودی عرب دوسرے نمبرپرہے،سعودی عرب کے پڑوسی ممالک کوخانہ جنگی کی آگ میں ڈھکیل کرسعودی کواس طرح خائف کردیاگیاہے کہ وہ مستقل اپنے آپ کوحالت جنگ میں سمجھتے ہوئے ہتھیاروں کی خریدکے بڑے پیمانے پرڈیل سائن کررہاہے۔شام،یمن،بحرین اسی طرح ایران کوبھی سعودی کادشمن نمبرایک بناکرپیش کردیاگیاہے۔اسی طرح 5؍فیصدکے ساتھ چین تین نمبرپراور4؍فیصدکے ساتھ متحدہ عرب امارات چارنمبرپرہے۔پڑوسی ملک پاکستان 4؍فیصدکے ساتھ پانچ نمبرپراورآسٹریلیابھی 4؍فیصدکے ساتھ چھ نمبرپرہے۔جب کہ ترکی 3؍فیصدکی خریداری کے ساتھ ساتویں نمبرپرہے۔حیرت کی بات ہے سب سے زیادہ ہتھیاربنانے اورفروخت کرنے والاملک امریکہ خریداری میں 3؍فیصدکے ساتھ آٹھویں نمبرپرہے۔جنوبی کوریااورسنگاپور3؍3؍فیصدکے ساتھ نواوردس نمبرپرہے۔
اسی طرح سپری کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیامیں 2002 کے بعدسے ہتھیارکی خریدوخروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے کوملاہے۔2002 میں ہتھیاروں کی صرف 18؍بلین کی تجارت تھی ۔ایک تحقیق کے مطابق 1960سے 1990 کے دورانیہ کوسردجنگ سے تعبیرکیاجاتاہے ۔اس دوران سب سے زیادہ ہتھیارکی خریدوفروخت 1982 میں ہوئی جوکہ 46؍بلین ڈالرکوپہونچ گئی۔اس کے بعد2002 میں سب سے کم یعنی صرف 18؍بلین ڈالرکی تجارت ہوئی، اس کے بعدسے اضافہ شروع ہواتو2016؍میں یہ تجارت 31 بلین ڈالرتک پہونچ گئی جس میں سے 90؍فیصدتجارت پرصرف دنیاکے دس ممالک کاحصہ ہے ۔اوریہ وہ ممالک ہیں جہاں نہ توکبھی خانہ جنگی ہوتی ہے اورنہ ہی وہاں سے کسی قسم کی شورش کی خبریں آتی ہیں۔لیکن ان ممالک سے خانہ جنگی اورشورش کی خبریں روزپڑھنے اورسننے کوملتی ہیں جہاں سب سے زیادہ ہتھیارخریدے جاتے ہیں۔کیااب بھی کسی کوشک ہے کہ دنیامیں بدامنی صرف اس وجہ سے پھیلی ہوئی ہے کہ ہتھیارکی سپلائی میں اضافہ ہو۔
ذراغورکریں! سعودی عرب جسے اسلام کامنبع ومرکزہونے کابجاطورپرشرف حاصل ہے،جس نے پوری دنیاکوامن وسلامتی کاپیغام دیا،جس کی تعلیمات امن وسلامتی کے پیغام سے پرہے،اس ملک کوہتھیارکی خریدکی کیاضرورت ہے۔لیکن دنیاکے چودھری نے اس ملک کے حکمرانوں پربادشاہت کے چھن جانے کاایساانجاناخوف مسلط کردیاہے کہ انہوں نے ہتھیارکی خریدکے لئے اپنے خزانے کادہانہ کھول دیااوراپنی قدرتی وسائل کابے جااستعمال کرکے اسلام دشمن طاقتوں کوپھلنے پھولنے اوراسلام کے خلاف سازش کرنے کاسنہراموقع دے دیاہے۔ٹرمپ نے کرسی صدارت پربیٹھنے کے بعداپنے پہلے دورہ کے لئے سعودی عرب کاانتخاب کیااوراس موقع پر اس نے وہ کارنامہ انجام دیاجوامریکہ کی تاریخ کے لئے یقینایادگارتھالیکن عالم عرب کے لئے شرمناک۔اس نے اپنے اس دورہ میں 20؍مئی 2017 کوسعودی کے ساتھ ساڑھے چارسوبلین ڈالرکی مالیت کے ہتھیارکی فروخت کاتاریخی معاہدہ کیا۔معاہدہ کی روسے 110؍بلین ڈالرفی الفوروقوع پذیرہواجب کہ بقیہ ساڑھے تین سوبلین ڈالرآنے والے دس سالوں میں پوراہوگا۔اس ڈیل کووہائٹ ہاؤس نے تاریخی کامیابی سے تعبیرکیاتھا۔ٹرمپ کایہ دورہ عالم عرب کے لئے کئی اعتبارسے منحوس ثابت ہوا،جہاں ایک طرف عالم عرب کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے ٹرمپ کی چاپلوسی اورخوشامدی میں اپنے آپ کوبچھادیاوہیں قطرجیسے مضبوط ملک کویکاوتنہاکرنے کی سازش رچ کراس کاحقہ پانی بندکرنے کی مذموم سازش رچی جوکہ عالم عرب کے اتحادکے لئے ناسورثابت ہوا۔
یادرکھیں! دنیامیں ہونے والی جنگیں بلاوجہ نہیں ہیں،یہ مفادات کی جنگیں ہیں۔اورحقائق سے ثابت ہوتاہے کہ ان مفادات کابڑاتعلق اپنی تجارت اورملکی معیشت کومضبوط کرناہے ،اس کے ساتھ ہی یہ تمام طاقتیں اسلام دشمن اوراسلام مخالف ہیں،اسی لئے یہ سب مل کراپنے ہتھیاروں کی کھپت کے لئے عالم اسلام کواپناآسان ہدف بنایاہواہے اورہمارے ناعاقبت اندیش حکمراں آسانی سے ان کاچارہ بنے ہوئے ہیں۔ہتھیاروں کی خریدوفروخت قیام امن کے لئے نہیں بلکہ امن وسلامتی کوتباہ وبربادکرنے کے لئے ہے۔اورآج دنیامیں جوسب سے زیادہ بحالی امن کاڈھنڈوراپیٹتاہے وہ سب سے بڑاامن کادشمن اوردنیاکوہلاکت میں ڈالنے والا ہے۔آپ کویہ بھی بتاتاچلوں کہ دنیامیں ہتھیاربنانے والی دس بڑی کمپنیوں میں سے سات کمپنی کاتعلق امریکہ سے ہے۔
امریکہ امن کاکتنابڑادشمن ہے اس بات سے اس کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ٹرمپ کے نزدیک انسانی حقوق سے زیادہ معاشی فوائدکی اہمیت ہے۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر میں روایتی دفاعی پروگرام کی ڈائریکٹر ریچل اسٹوہل کہتی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شروع ہی سے واضح کر رکھا ہے کہ اُن کیلئے معاشی فوائد زیادہ اہم ہیں اور اُن کے نزدیک انسانی حقوق کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت بڑھانے کے فیصلے میں انسانی حقوق کے تحفظ کا تصور موجود رہے گا۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملے کے مقابلے میں یہ بات زیادہ اہم ہو گی کہ ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق کوئی ڈیل امریکی معیشت اور امریکہ میں اسلحہ ساز صنعت کے فروغ کیلئے کتنی اہم ہے۔ یوں انسانی حقوق کے حوالے سے ریڈ لائینز کو از سر نو مرتب کرنا ہو گا۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker