جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

اردو زبان اور مونا ابولکلام آزاد

فکرامروز:مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹربصیرت میڈیاگروپ
اردو نہ صرف ہندوستان اور برصغیر بلکہ دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے اور ہندوستان میں بسنے والے کڑوروں لوگوں کی یہ مادری زبان ہے جن میں مسلمان ،ہندو، سکھ اورعیسائی کے علاوہ چھوٹے بڑے دیگر مذاہب کے لوگ بھی شریک ہیں ،جس کا نتیجہ ہے کہ آج ہندوستان کے دستور شیڈول 8میں شامل قومی زبان بولنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے ہندی ،بنگلہ ،تلگو ، مراٹھی اور تمل کے بعداردو ترتیب میں چھٹے نمبر پر ہے ،اس لئے اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان قرار دینا تنگ نظری کے سوااور کیا ہے؟ ? خاص بات یہ ہیکہ اردو ہندوستان کی پیداوار ہے ,اور ہندوستان میں بسنے والے تقریبا لوگ اس پیاری زبان کو بولتے ہیں لیکن اس زبان کے ساتھ اس ملک میں تعصبانہ برتاؤ بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ زبان ہندوستان کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی زبان ہے ,جوسراسر تنگ نظری ہے۔
زبان کے مسئلہ پر مولانا ابولکلام آزادرحمۃ اللہ علیہ کی رائے اور ان کے خیالات جو آزادی سے قبل تھے وہی آزادی کے بعد بھی رہے ،اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آئی , ، انہوں نے عوامی جلسوں سے ایوان بالا تک اپنے خیالات کا برملا اظہار کیا،ہندوستانی کمیٹی بہار سے 1937/میں اپنے خطاب میں فرمایا کہ ’’ اردو زبان ہی ملک کی ایسی زبان ہے جو سترہویں صدی کے آواخر میں قومی سطح پر ابھر کرسامنےآئی ،اور صرف اردو کو ہی قومی زبان کی حیثیت سے عوام وخواص اور حکام نے تسلیم کیا ،خواہ اسے مختلف وقتوں میں الگ الگ ناموں سے یاد کیا گیا ہو ،خواہ رسم الخط کا جھگڑا کھڑا کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہو ۔‘‘
آزادی کے بعد پارلیمنٹ میں زبان کے متعلق فیصلہ میں اردو زبان کو نظر انداز کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہ چھپانا نہیں چاہتا کہ بحیثیت مجموعی زبان کا مسئلہ ہم نے صحیح فیصلہ نہیں کیا ،صحیح فیصلہ اسی وقت ہوتا جب ہم قومی زبان کا نام ہندوستانی زبان رکھتے ،میں صفائی سے کہنا چاہتاہوں کہ آپ ایک مخصوص زبان کو ٹھوسنا چاہتے ہیں ،صحیح بات میری رائے میں یہی تھی کہ ’’ہندوستانی ‘‘قومی زبان ہو – اور تمام کارروائی ہندی رسم الخط میں ہو ،لیکن جہاں تک سرکاری کاغذات کی اشاعت کا تعلق ہے وہ اردو رسم الخط میں ہی ہونی چاہئے۔‘‘ (آزاد کی تقریریں :326 )
دہلی کے پلے گراؤند میں 10/فروری 1958کو انجمن ترقی اردو کی اردو کانفرنس سے بحیثیت وزیر تعلیم اپنی زندگی کی آخری تقریر کی ،جس کا افتتاح وزیراعظم نہرو جی نے کیا تھا، اس خطاب میں مولانا نے اس اہم اور حساس مسئلہ پر پوری سنجیدگی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
’’آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی زبان میں اردو کی جو واقعی جگہ ہو وہ ملنی چاہئے ،اب یہ سوال پیدا ہوتا ہیکہ اردو کی کیا جگہ ہے ? اس کی وہی حیثیت ہے جو دوسری زبانوں کی ہے۔ اردو ایک ایسی زبان ہے جوکثرت کے ساتھ بولی جاتی ہے نہ صرف شمال بلکہ جنوب میں بھی -‘‘
اردو کی واقعی اور حقیقی جگہ اور مقام وہی ہے جس کی طرف مولانا ابولکلام آزاد نے اشارہ کیا ہے ،لیکن افسوس کہ ابھی تک حکومت ہند نے اس زبان کو اس کی واجب جگہ نہیں دی اور اس کی حقیقی حیثیت تسلیم نہیں کی آج بھی مولانا ابولکلام آزاد کی روح ارباب حکومت سے یہی مطالبہ کررہی ہے ۔
لیکن نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ اس ملک میں اردو کے ساتھ جو تعصبانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے وہ قابل مذمت ہے ،اب حال یہ ہیکہ جو لوگ اردو کے نام پر روٹی سینک رہے ہیں وہ بھی سب زبانی جمع خرچ پر ہی محمول ہے ،ایسے لوگ اپنے بچوں کو اردو تعلیم کی بجائے انگریزی تعلیم کا دینا ہنر جانتے ہیں ۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker