ہندوستان

ظالم اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کیخلاف ممبئی سراپا احتجاج

حکومت کی اسرائیل نوازی کے خلاف بایاں بازوجماعتوں کے ساتھ مختلف تنظیموں کا احتجاجی مظاہرہ , اسرائیل سے دوستی دشمنوں کی فہرست میں اضافہ کرنے کے مترادف ممبئی میں شرکاء کا اظہار خیالات
ممبئی۱۵؍ جنوری ( نمائندہ خصوصی ) ممبئی میں اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے دورہ ہند کے خلاف نتن یاہو واپس جائو کے ایک طرف نعرے بلند کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف بائیں بازو کی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرےکا بھی اعلان کر دیا ہے۔ نتن یاہو کی آمد سے پورا ہندوستان سراپا احتجاج بن گیا ہے ۔ نتن یاہو کے دورہ ہند کے خلاف بایاں محاذ جماعتوں کے ساتھ تمام سیکولر پارٹیوں نے احتجاجی مظاہرے اور نتن یاہو واپس جائو کے نعرے بلند کر دئیے ہیں ۔ گاندھی جی کے پر پوتے تشار گاندھی نے ممبئی کے مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ انڈیا فلسطین سولڈیٹری فورم کے توسط سے فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کی مخالفت کر نے کی مکمل حمایت کی ہے اور کہا کہ ہندوستان کی یہ پالیسی رہی ہے کہ اس نے فلسطینیوں سے ہمدردی اور ان کی حمایت کی ہے لیکن اب حکومت کی پالیسی اسرائیل نواز ہوچکی ہے اس کی ہم مذمت کر تے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے دورےکے خلاف احتجاجی مظاہرےکو درست ٹھہرایا اور کہا کہ اسرائیل سے ہماری نزدیکی انتہائی تشویشناک ہے ۔ شلیندرکامبلے نے کہا کہ مودی حکومت کی اسرائیل نوازی اس ملک کے لئے خطرناک ہے یہ حکومت ہندوئوں اور مسلمانوں میں خلیج پیدا کرکے تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں ہندوستان ہمیشہ سے ہی سینہ سپررہا ہے اور اب بھی ہم فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کر کے 18 ؍جنوری کو آزاد میدان میں نتن یاہو واپس جائو کا نعرہ بھی بلند کریں گے ۔ اس احتجاجی مظاہرہ میں اگر پولیس نے کوئی غلط تاثر یا پیغام دینے کی کوشش کی تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا ،ہم جمہوری طریقے سے احتجاجی مظاہرے کا حق رکھتے ہیں اسی نہج پر مظاہرہ کیا جائیگا ۔ کامریڈ پرکاش ریڈی نے کہا کہ اسرائیل خود دہشت گرد ملک ہے اس کے سبب ہی پورے عالم میں فتنہ برپا ہورہاہے مودی حکومت اسرائیلی پالیسیوں کی جانب مائل ہو رہی ہے جو انتہائی تشویشناک ہے اسرائیل دوستانہ تعلقات سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا اسرائیل سے تربیت حاصل کرنے کے بعد بھی ہمارے ملک میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیںکیا یہ اس بات کا غماز نہیں کہ اسرائیل ہر محاذ پر ناکام اور تنہا ملک ہے جو اپنی طاقت اب کھو چکا ہے ۔سنیئر صحافی حسن کمال نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنے حق کے لئے جہد مسلسل کر رہے ہیں ااور ہندوستان ہمیشہ سے ہی اسرائیل نواز رہا ہے برطانیہ جس نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا بلکہ ایک ملک کا درجہ اسے دیا لیکن اس بار وہ بھی اسرائیل کے خلاف ووٹ ڈالنے پر مجبور ہوگیا آہستہ آہستہ عوام اور حکمراں کے خیالات اور نظریات تبدیل ہو رہے ہیں فلسطین عوام پر ہونے والے مظالم سے پہلے ہم واقف نہیں تھے لیکن اب ہر کوئی فلسطینی عوام کے مظالم کے خلاف اٹھ رہا ہے اور امن پسند عوام اس کی کھل کر مذمت بھی کررہے ہیں ۔ حسن کمال نے اسرائیلی ٹکنالوجی اور ہتھیاروں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ڈرائون چھتیس گڑھ کے جنگلوں میں ناکام ہو چکے ہیں اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کیونکہ یہ ڈرائون صرف صحرامیں کام کر سکتے ہیں جنگلات میں نہیں اسرائیل خود ایک بڑا دہشت گرد ہے اور شام میں داعش کی پس پردہ حمایت بھی کررہا ہے ۔ کامریڈ واسو دیو نے فلسطینی عوام کی حمایت کر تے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم فلسطینی عوام کا قاتل ہے اس سر زمین پر ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو غاصب بھی قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے اس کی سب طرف مخالفت اور مذمت ہو رہی ہے اس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اسرائیل کمزور ہوگیا ہے ۔فیروز میٹھی بور والا نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ ہند کے خلاف ہم پوری شد و مدکے ساتھ ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور اس میں تمام پارٹیاں ہمارے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا داخلہ ہمارے ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے جب اسرائیل نے عرب ممالک پر تسلط حاصل کیا تھا وہ وقت اور تھا لیکن اب وہ فلسطینیوں پر تسلط نہیں کر سکتا وہ عزہ اور فلسطین کے چھوٹے موٹے علاقوں میں ناکام ہوچکا ہے ۔ فیروز میٹھی بور والا نے اسرائیل پر سنگین الزام عائد کر تے ہوئے کہا کہ امریکہ کی خفیہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل شام میں القاعدہ اور داعش کے ساتھ سر گرم عمل ہے جب کہ یہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں ہیں ۔اس پریس کانفرنس سے بھارپ بہوجن کے جے وی پوار , جیوتی بڑیکر نے بھی خطاب کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker