Baseerat Online News Portal

کچھ بھی خلاف توقع نہیں ہوا!

خبردرخبر : محمدشارب ضیاء رحمانی
چلئے اب حلف برداری ہوگئی،ساری قیاس آرائیوں پربریک لگ چکاہے۔گذشتہ تین ماہ سے الیکٹرانک میڈیاسے لے کرپرنٹ میڈیاتک بس بہارہی بہارتھا۔اس سے ملکی سیاست کی ایک نئی سمت بھی نظرآئی۔راہل گاندھی ،کجریوال،ممتانرجی سمیت غیربی جے پی جماعتوں کے اہم لیڈران کی شرکت نے حکومت کے خلاف اپوزیشن کوگول بندکیاہے۔جس سے اپوزیشن کونئی توانائی بھی ملی ہے ،بہاررزلٹ نے مغربی بنگال اوریوپی کے آنے والے اسمبلی الیکشن کی سیاست کومتاثرکیاہے۔ان دونوں اہم ریاستوں میں بھی مہاگٹھ بندھن کاتجربہ اپنایاجاسکتاہے جویقیناََبی جے پی کیلئے ضرور مشکل کاباعث ہوسکتاہے۔سنگھ نوازمیڈیاکوجب کہ بی جے پی کی خفت کودکھاناچاہئے تھا،وہ تیج پرتاپ کی حلف برداری میںگڑبڑی اورلالو،کجریوال کے گلے ملنے کے منظرپربحث کرتارہا،خیرحقیقی موضوع سے ہٹ کربے سرکی باتوں پربحث تواس کاوطیرہ ہے ہی ۔
نتیش نے محکموں کی تقسیم کرتے ہوئے وزارت داخلہ اپنے پاس رکھی جومناسب فیصلہ ہے۔اوروزارت خزانہ عبدالباری صدیقی کوملی جوخلاف توقع نہیں ہے۔حالانکہ ان کے اسپیکربنانے کی بھی پیش قیاسی ہورہی تھی ساتھ ہی نائب وزیراعلیٰ بنائے جانے کامطالبہ بھی کیاجارہاتھالیکن یہ سچ ہے کہ نائب وزیراعلیٰ بنانامسلمانوں کے مسئلہ کاحل نہیں ہے۔اوراگرانہیں اسپیکربنایاجاتاتویہ ایک اورحق تلفی ہوتی۔تیجسوی نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ تعمیرات عامہ وسڑک کی وزارت بھی سنبھالیں گے۔تیج پرتاپ جوحلف صحیح سے لے بھی نہیں پارہے تھے،انہیں وزارت صحت دی گئی ہے۔ہمیں اس پرکوئی اعتراض نہیں کہ پوری کابینہ میں سات کی بجائے بیس یادووزراء بنادیئے جائیں ،اعتراض بس اس پرہے کہ جس طرح ٹکٹ کی تقسیم میں ناانصافی کی گئی ہے یہاں بھی ڈنڈی ماری گئی ہے۔نتیش کابینہ میںیادوسات اورمسلمان چار،یہ کیاتناسب ہے۔مسلمانوں نے سب سے زیادہ تقریباََنوے فیصدووٹ انہیں دیاہے لیکن حکومت میں شراکت میںان پریادوئوں کوفوقیت دی گئی۔ان کے علاوہ مہادلت چار،کشواہاتین،کرمی دو،برہمن ایک ،دلت ایک وزیربنائے گئے۔حالانکہ یہ سب توپہلے سے ہی معلوم تھا،چوکنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔مسلمانوں میں یہ اہلیت کہاں کہ وہ نائب وزیراعلیٰ بنائے جائیں۔یہ ساری صلاحیتیں توبہاراوریوپی میںصرف یادئوں کے اندرہیں،اورقومی سطح پربرہمنوں میں ہی ہیں۔مسلمانوں کامصرف توصرف ووٹ دیناہے۔اقتداران کے بس کاروگ نہیں ہے۔MY(مسلم،یادو)سمیکرن کامطلب یہ ہرگزنہ سمجھاجائے کہ اقتدارمیں بھی حصہ داری ملے گی۔بلکہ صرف مسلم یادومل کرووٹ دے دیں اورنوے فیصدووٹ لے کر اقتدارتک پہونچ جائیں ۔کم ازکم مسلمانوں کوٹکٹ دینے کی سوچی سمجھی پالیسی کاہی نتیجہ ہے کہ اسمبلی میں چالیس فیصدیادواوردس فیصدسے بھی کم مسلم پہونچ پائے۔لیکن مطمئن رہیے ہی جمہوریت کی برکات ہیں،کیاپڑی ہے اورآپ کیابگاڑلیں گے،سافٹ اورہارڈکومنلزم کے درمیان مسلمان لٹکتے رہیں۔اس کے سوااورمسلمانوں کاکیالائحہ عمل ہے ۔انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں نے توکسی سے ڈرکرانہیںووٹ دیاہے۔کوئی حق رائے دہی کااستعمال توکیانہیںہے ۔مہاگٹھ بندھن کوووٹ دیناان پرکوئی احسان نہیں بلکہ مجبوری ہے ۔اگرایک وزارت بھی انہیں نہ ملتی توبھی مسلمانوں کوکوئی شکایت کاحق نہیں تھا۔اگرزبان کھولی توفرقہ پرست ،تنگ نظر،متعصب ،سیاسی امورسے نابلدسب کچھ مسلمان ہی ہوں گے۔مسلمان سیکولرصرف اسی وقت ہوسکتے ہیں جب(ایک گورنرکے مطابق)وہ خنزیرکاگوشت کھالیں،مندروں میں ماتھاٹیکیں،جے شری رام کے نعرے (فاروق عبداللہ کی طرح)لگائیں،ہندولڑکیوں یالڑکوںسے(شہنوازحسین،مختارعباس نقوی اورایم جے اکبرکی طرح)شادی کرلیں۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like