Baseerat Online News Portal

’’مدارس شدت پسند یا امن پسند‘‘ ایک حساس مذاکرہ

ڈاکٹریاسر ندیم الواجدی
اس ملک کے ایک فراڈی وسیم رضوی نے مدارس اسلامیہ کے خلاف بیان دے کر تمام ذرائع ابلاغ کو ایک سلگتا ہوا موضوع فراہم کردیا، میڈیا میں اس وقت تک اس موضوع پر بحث ہوتی رہی جب تک اس سے بڑا فراڈ سامنے نہیں آگیا۔ ہم نے اس موضوع پر گفتگو کے لیے اپنے ہفتہ واری مذاکرے سرجیکل اسٹرائیک شو میں سابق مرکزی وزیر عارف محمد خان اور ڈاکٹر ایلا مشرا کو مہمان خصوصی کے طور پر دعوت دی تھی۔ اس شو کی خاص بات یہ رہی کہ ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئی پیدائشی ہندو خاتون مدارس کو امن پسند اور محب وطن ثابت کررہی تھی جب کہ ایک پیدائشی مسلمان مدارس کو شدت پسند ثابت کرنے پر تلا تھا۔ آج سے گیارہ سال پہلے میں نے ٹائمز آف انڈیا میں پہلی بار عارف محمد خان کا نام پڑھا تھا، انھوں نے اس وقت ایک مضمون کے ذریعے یہی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ مدارس شدت پسند ہوتے ہیں۔ میں نے ایک جوابی مراسلہ لکھا جو اخبار نے واضح اسباب کی بنا پر شائع نہیں کیا۔ سوشل میڈیا کے طفیل اب جاکر یہ موقع مل سکا اور عارف محمد خان سے روبرو گفتگو ہوئی۔
میرے ایک محترم کرم فرما جنھوں نے مجھے عارف خان صاحب کا رابطہ نمبر دیا تھا، مجھ سے کہا تھا کہ یہ شخص مانے گا نہیں، لیکن میں چاہتا تھا کہ ہماری بات مثبت انداز میں عارف خان صاحب تک پہنچے اور حجت تمام ہوجائے، نیز اگر ان کی کسی بات میں کوئی دم ہے تو ہم بھی اس پر غور کریں۔ انھوں نے دوران گفتگو ایک فقہی کتاب کی اردو شرح کا حوالہ دیا اور اس کے کچھ مندرجات پڑھ کر سنائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری کچھ کتابیں جو کہ جمہوری دور میں لکھی گئی ہیں، ان کے مؤلفین ابھی بھی قرون اولی اور وسطی کی ذہنیت کے حامل ہیں۔ جب ان کتابوں میں یہ لکھا جائے گا کہ جہاد کا مقصد شرک کا خاتمہ ہے تو یہ سوال ضرور ہوگا کہ پھر مشرکوں میں آپ کا کیا کام۔ اگر یہ لکھا جائے گا کہ قیامت تک جہاد ہمیشہ چلتا رہے گا لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ جہاد کو منظم کریں ورنہ غیر منظم طور پر جاری رہے گا، تو سوال تو ہوگا کہ پھر ان شارحانہ عبارتوں سے وہ گروہ استدلال کیوں نہ کریں جن کے خلاف ہمارے علماء نے دوہزار آٹھ میں فتوی دیا تھا۔ جماعت اہل حدیث کی ایک معتبر اردو تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ جس ملک میں شرک عام ہو وہاں رہنا جائز نہیں ہے، تو پھر ملا بھاگو پاکستان کا نعرہ کیوں نہ لگے۔
یہ مت سمجھیے کہ یہ لٹریچر اردو میں ہے تو کسی کو کیا پتہ۔ عارف محمد خان جیسے بہت سے لوگ ہیں جو اس لٹریچر کو پڑھتے ہیں، ترجمہ کرتے ہیں اور آگے بڑھاتے ہیں، اس لیے اس ثانوی لٹریچر میں جس کی حیثیت نہ قرآن کی ہے اور نہی حدیث کی از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسی کتابوں کی تطہیر ممکن ہو تو فورا یہ عمل انجام دیا جائے ورنہ ان کو تاریخ بناکر لائبریریوں کے تبرکات والے حصے میں رکھ چھوڑا جائے، بصورت دیگر ان غیر محتاط مؤلفین کی وجہ سے اسلام کو شدت پسندی کا طعنہ دیا جاتا رہے گا۔
اسی اثناء میں یہ خبر بھی آئی کہ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے نئی تعلیمی پالیسی وضع کرنے کے لیے ایک میٹنگ بلائی ہے۔ غالبا ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس میٹنگ میں دارالعلوم دیوبند کو بھی دعوت دی گئی ہے اور ادارے کی انتظامیہ نے جناب مولانا اسماعیل صاحب رکن شوری کو ترجمانی کے لیے منتخب کیا ہے۔ کم از کم اتنا صاف ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کے تعلق سے یہ کوشش کی جارہی ہے مدارس کے نصاب میں بھی تبدیلی ہو۔ یہ کوشش ایک عالمی سازش کا حصہ ہے اور امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹس کی بنیاد پر سعودی عرب میں نصابی تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ہندوستان میں یہ تبدیلی اسی شدت پسندی کے الزام کے تحت مسلط کی جائے گی، ہم دلیل دیں گے کہ دستور نے ہمیں آزادی کے ساتھ اپنے تعلیمی ادارے چلانے کی اجازت دی ہے، تو حکومت دو ہزار انیس کے بعد دستور کی دفعہ 26 میں صرف ایک لفظ: (حکومت کی نگرانی میں) میں بڑھا کر تمام مدارس کو مجبور کردی گی کہ وہ نام نہاد قومی دھارے میں شامل ہوں۔ ہم نے ہمیشہ ردعمل کے طور پر پالیسیاں بنائی ہیں، اقدامی پالیسیاں دیکھنے کے لیے ہماری نسلیں ترس چکی ہیں۔ اس دور میں ایک دن ایک سال کی اہمیت رکھتا ہے اور آج یہ کہاوت کہ’’لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی ہے‘‘ پہلے سے زیادہ سچ ثابت ہورہی ہے، اس لیے ارباب مدارس کو اس تعلق سے فوری طور پر غور کرنے اور تطہیری پالیسی بناکر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like