شخصیاتمضامین ومقالات

استاذالمحدثین امام اہلسنت حضرت مولاناسرفرازخان صفدرؒ

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی
ہمارے اکابر کی خدمات کامعترف ساراجہاں ہے ان کی دینی وملی خدمات کی خوشبوپورے جہاں سے آرہی ہے ،خدمت اسلام ہی زندگی کاحقیقی مقصد ہے ،جن لوگوں نے اپنی زندگیاں اس کام میں صرف کیں ہیں انہوں نے نہ پھر رات دیکھی اورنہ دن،اپنے آپ کورب کے حضورسپرد کردیاوہ لوگ راتوں کومصلیٰ پہ اوردن کواپنے مسند پہ قال اللہ وقال رسول ﷺ کی صدائیں بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں ان جواہراسلام کاذکرچندسطورمیں کرنانامناسب ہے ،اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنے سے ایمان تازہ ہوتاہے اوران کی تحریرات کوپڑھ کر دل کی روشنی بڑھتی ہے ،
تلخی درد کوسینے میں چھپانے والے
اب کہاں لوگ ہیں وہ اگلے زمانے والے
ان اللہ والوں میں ہم نے ایک ایسے خادم ِاسلام کودیکھاکہ جس نے اپنی زندگی کواسی کام پہ لگادیاجس کادرس بڑوں سے سنامیری مراد،مصنف جلیل ،مئولف نبیل ،امام العرب والعجم مولاناسیدحسین احمدمدنی ؒ کے شاگردرشید،استاذالمحدثین امام اہلسنت حضرت مولاناسرفرازخان صفدرؒ ہیں جنہوں نے زندگی کواس شعر کی صورت میں بیان کردیا
؎میری زندگی کامقصدتیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں ،میں اسی لیے نمازی
امام اہلسنتؒ کے قلم کواللہ پاک نے اتنی طاقت عطافرمائی کہ اپنے اوربیگانے بھی اس قلم کافائدہ حاصل کرتے ہوئے دکھائی دیے آج امام اہلسنت ہم میں موجودنہیں البتہ ان کاقلم آج بھی ہمیں حرکت کرتادکھائی دیتا ہے کیونکہ کوئی فتنہ بھی جب سراٹھاتاتوامام اہلسنت اپنے قلم کی نوک سے اس کے سرکوجھکنے پہ مجبور کردیتے ،کسی بھی فتنہ کامقابلہ کرناہوتوحضرت امام اہلسنت کی کتب کی طرف ہاتھ بڑھ جاتاہے اوردل گواہی دیتاہے
کہ امام اہلسنت مولانامحمدسرفرازخان صفدرؒ ایک شخص کانام ہی نہیں بلکہ ایک تحریک تھی جس نے اٹھتے طوفانوں کواپنی اوقات میں رہنے پہ مجبور کردیا
امام اہلسنت کاخاندان الحمدللہ علمی خاندان ہے آپ ؒ کے بھائی شیخ التفسیرحضرت مولاناصوفی عبدالحمیدسواتی ؒ بھی ایک تحریک رکھتے تھے وہ بھی ایک انجمن تھے
لگتاہے کہ شاعر نے شاید ان دونوں حضرات کودیکھ کریوں کہا:
؎جن سے ہے یہ وجود،زبان ہے،کلام ہے
ان دوعظیم روحوں کومیراسلام ہے
امام اہلسنت مولانامحمدسرفرازخان صفدرؒکی کتب کوجب انسان پڑھتاہے توایمان کوجلاملتی ہے ان کی کتب کی کثیرفہرست دیکھ کربندہ یہ کہنے پہ مجبورہوجاتاہے
؎گہرجودل میں نہاں ہیں خداہی دے توملیں
اسی کے پاس ہے مفتاح اس خزانے کی
امام اہلسنت مولانامحمدسرفرازخان صفدرؒڈھکی چیڑاںداخلی،کڑمنگ بالاسابق ڈاکخانہ بٹل علاقہ کونش تحصیل وضلع مانسہرہ نوراحمدخان ولدگل احمدخان (قوم سواتی)کے گھر1914؁ء میںپیداہوئے(امام اہلسنت ؒ سے مولاناصوفی عبدالحمید سواتی ؒ تقریباً3سال چھوٹے تھے)امام اہلسنت ؒ کے والدماجد کی پہلی شادی اپنے حقیقی چچاکی لڑکی سے ہوئی یہ شیخ کی سوتیلی والدہ تھیں جن کاانتقال 1949؁ء میں گوجرانوالہ میں ہوا۔اس کے بعد مولاناکے والد ماجد نے دوسری شادی ڈنہ مانسہرہ گوجرقوم کی گوت چیچی کی پندرہ سولہ سال کی ایک خاتون بی بی بختاور سے کی( جومولانامحمدسرفرازخان اورمولاناصوفی عبدالحمیدسواتی ؒ کی حقیقی والدہ ہیں)
امام اہلسنت نے اپنی زندگی کامقصدیہی بنایاکہ علم کی شمع روشن کرتے ہوئے آگے ہی اگے بڑھناہے ان کی شمع جوانہوںنے خود جلائی وہ آج بھی روشن ہے اورلوگ مستفید ہوتے جارہے ہیں
امام اہلسنت نے اپنے قلم کوچلاکرامت پہ احسان کیااورذخیرہ کتب امت کے سامنے رکھ دیاان کی کتب میں مایہ نازکتب درج ذیل ہیں
گلدستہ توحید،دل کاسرور،عبارات اکابر،آنکھوں کی ٹھنڈک،راہِ سنت،بابِ جنت،ہدایۃ المرتاب،ازالۃ الریب،احسن الکلام ،طائفہ منصورہ،مقام ابوحنیفہ،صرف ایک اسلام،چراغ کی روشنی ،علم غیب اورملاعلی قاری،تسکین الصدور،انکارِحدیث کے نتائج،آئینہ محمدی اورمزیدکتب بھی ہیں
امام اہلسنت ؒ ایک عظیم مصنف ومبلغ تھے ،وہ اپنے بچپن کے حالات میں لکھتے ہیں کہ ہمارے علاقہ میں جہاں میری پیدائش ہوئی تھی لوگ بڑے جاہل تھے اب الحمد للہ بڑے سمجھدار ہوگئے ہیں تعلیم آگئی ہے ،جہالت کے زمانے میں لوگ بزرگوں کی قبروں پہ چڑھاوے چڑھاتے ،اورپہاڑی علاقہ ہے پہاڑوں پہ چیڑھ ،دیاراوربہار کے درخت ہیں ان درختوں پہ جھنڈے لٹکاتے جوقبروں کے پاس ہوتے ،میں اس وقت نابالغ تھااورمیراطالب علمی کازمانہ تھا،حضرت مولاناغلام غوث ہزاروی ؒ کی تقریریں سنتاتھااور ان سے بڑامتاثر تھا
وہ تقریروں میں ان جھنڈوں کی بڑی تردید کرتے تھے اور میں درختوں پہ چڑھنے کابڑاماہر تھامیں ان مشکل درختون کی چوٹیوں پہ چڑھ کر جھنڈے اتار کر طالبعلوں کودیتاتھاکوئی ان کوسلوادیتاتھاتوکئی قرآن کریم پہ غلاف چڑھادیتاتھاایک دفعہ میںدرخت پہ چڑھ کر جھنڈااتاررہاتھاکہ لوگ آگئے اورکہنے لگے کہ یہ قبر والاباباتجھے تکلیف پہنچائے گا۔چونکہ الحمداللہ ذہن پختہ تھا،میں نے کہاکہ تم مجھے نہ چھیڑو’’باباجانے اورمیں جانوں‘‘تم نے مجھے کچھ نہیں کہنا۔وہ انتظار میں تھے کہ یہ اب گرے گااوربابا اس کی ٹانگ توڑدے گا۔میں جھنڈے اتارکر نیچے اتر آیااوروہ دیکھتے رہ گئے کہ اسے کچھ نہیں ہوا۔(ذخیرۃ الجنان)
فرماتے ہیں کہ ہم بخاری شریف کاسبق پڑھ رہے تھے حضرت مدنی ؒ کوکسی نے اخبار کاتراشہ دیاکہ ظاہر شاہ نے روس کی پیشکش کوقبول کر لیاہے اورپیشکش یہ تھی کہ میں اپنے خرچہ پرتمہارے سکولوں اورکالجوں میں ماسٹراورپروفیسربھیجتاہوں،یعنی ان کے اخراجات اورتنخواہیں میرے ذمہ ہیں تم قبول کر لو،پیشکش کادوسراحصہ یہ تھاکہ تم اپنے لڑکے ہمارے کالجوں میں بھیجو،ان کے تمام اخراجات بھی ہم برداشت کریں گے ،حضرت مدنی ؒ سبق پڑھاتے ہوئے روپڑے اورفرمایا:ظاہرشاہ!تونے بڑی نادانی کی ہے ۔ظاہرشاہ!تونے بڑی نادانی کی ہے ۔ظاہرشاہ!تونے بڑی نادانی کی ہے ۔وہاں سے جومعلم اوراساتذہ آئیں گے وہ کفرسکھائیں گے اورجوتمہارے بچے روس میں جاکر پڑھیں گے وہ کافر بن کر وہاں سے نکلیں گے (ذخیرۃ الجنان)
امام اہلسنت ؒ کاکردارایک روشن کتاب ہے ان کی دینی وملی خدمات کاثبوت ان کے لاتعدادشاگرد ہیں جوآج بھی حضرت کے فیض کوپھیلارہے ہیں ۔حضرت والدمحترم (مولاناقاضی محمداسرائیل گڑنگی)بھی حضرت کے شاگرد خاص ہیں والد محترم اکثر امام اہلسنت کاتذکرہ کرتے ہیں اورچہرہ کوآنسوئوں سے سجالیتے ہیں ،فرماتے ہیں کہ میں دوسال حضرت شیخ کی خدمت میں رہاان جیساڈھونڈنے سے بھی اب نہیں مل سکتا،فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ سے کسی نے پوچھاکہ کیاآپ حافظ ہیں ،مسکراتے ہوئے فرمایاکہ میں حافظ نہیں بلکہ حافظوں کاباپ ہوں ،الحمدللہ حضرت شیخ کے ساری اولاد حافظ قرآن ہے اوروالد صاحب بھی شیخ کی یہ سنت زندہ کر چکے ہیں ،والد محترم فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیخ صاحب کوایک کتاب کی ضرورت پڑی کافی تلاش کی نہ ملی کلاس میں اعلان کیاکہ جوبندہ یہ کتاب لاکر دے اسے میں انعام دونگاچھٹی کے دن میں نے گوجرانوالہ کے تمام مکتبوں کوچھانااوربالآخر وہ کتاب لے ہی آیاہفتے کوشیخ صاحب کی خدمت میںپیش کی شیخ بہت خوش ہوئے انعام بھی دیااورڈھیر ساری دعائیں دیں انہیں دعائوں کانتیجہ ہے کہ والد محترم نے 200سے زائد کتب ورسائل تصنیف کر لیے ہیں (الحمدللہ علیٰ ذلک)
حافظ عبدالرئووف راسخ ؔ صاحب نے امام اہلسنت شیخ الحدیث حضرت مولاناسرفرازخان صفدرؔ ؒ کی دینی وملی خدمات کوکچھ اس طرح سے خراج عقیدت پیش کیا
رب کے نیازمند تھے اوروں سے بے نیاز
شیخ الحدیث حضرت مولاناسرفراز
قرآن اورحدیث پڑھاناتھامشغلہ
تھے دین دارخودبھی،معاًدیندارساتھ
تقریریں پُراثرتھیں ،بیانات دلنشیں
رکھتے تھے چونکہ سینے میں اپنے دلگداز
کہلایاخودکوخادمِ علماء دیوبند
کرتاتھادیوبندادارہ بھی ان پہ ناز
پایاتھافیض کیادرمدنی سے آپ نے
اعزازسے تھاجبکہ تعلیم کااعتزاز
رھاعلم جس قدر بھی عمل تھااس قدر
کرتے مخالفت سے ہمیشہ تھے احتراز
چھوٹے بڑے ہر ایک پہ یکساںشفیق تھے
ان کی نظرمیں ایک تھے محموداورایاز
صفدرساآدمی نہیں تنہاں جہاں بھی ہو
رہتے ہمیشہ ساتھ میں ایمان اورنماز
سن کر صحیح جواب نکیرین کہہ اٹھے
دنیامیں سرفرازتھے یاںبھی ہوسرفراز
راسخ کوہے یہ امیدپروردگارسے
کردے گاان کی خاک غباررہِ حجاز
امام اہلسنت حق کے ترجمان اوربے باک لیڈر تھے ہر میدان میں امت مسلمہ کی ترجمانی کاحق اداکیا98سالہ آپ کی زندگی دین اسلام کی خدمت میں گھومتی دکھائی دیتی ہے
؎یہی ہیں جن کے سونے کوفضیلت ہے عبادت پر
انہی کے اتقاء پر ناز کرتی ہے مسلمانی
انہی کی شان کوزیبانبوت کی وراثت ہے
انہی کاکام ہے دینی مراسم کی نگہبانی
امام اہلسنت 5مئی 2009کووصال فرماگئے تھے ا للہ تعالیٰ حضرت کی دینی وملی خدمات کوقبول فرماکر ہمیں بھی ان کے نقش قدم پہ چلائے (آمین یارب العالمین)
(بصیرت فیچرس)

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker