طب وسائنسمضامین ومقالات

مینڈک :جو چڑیوں کی طرح گاتا ہے

کاظمہ بتول جلالپور
دنیا کے اندر کتنی مخلوق ایسی ہے جس کے متعلق انسانی علم محدود ہے۔ان مخلوقات کی صفات، ان کے زندہ رہنے کا سلیقہ اور ان کے خصائل سبھی ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں۔ماہر حیوانیات اور سائنٹسٹ حضرات ان عجوبہ روزگار مخلوق کے احوال سے واقفیت حاصل کرکے دنیا کے علم میں اضافہ کررہے ہیں۔
دنیا کے اندر مینڈکوں کی جو اقسام پائی جاتی ہیں اور جن کے متعلق حال میں ہی مینڈکوں کی کچھ ایسے اقسام سامنے آئیں ہیں جو نہ صرف حیرت انگیز ہیں بلکہ ان کے عجب ترہونے میں بھی دو رائے نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں جنوبی افریقہ کے نہایت اندرونی پہاڑی علاقہ میں جہاں ریگزار تھا وہاںآدھ انچ سے بھی کم جسامت کا مینڈک پایاگیا تھا۔ابھی تک مینڈکوں کی جتنی بھی قسمیں دریافت کی گئی ہیں۔ان سے جدا اس مینڈک کے متعلق واقفیت دلچسپ بھی اورحیرت انگیز بھی تھی۔ رنگت،جسامت اور شکل وصورت کے اعتبار سے یہ مینڈک ابھی تک پائے جانے والے مینڈکوں سے بالکل جدا ہے۔
جس طرح میدانی علاقوں،رہائشی علاقوں،ریگستانی علاقوں ،پہاڑی علاقوں ،برساتی علاقوں اور جنگلی علاقوں میں پائے جانے والے مینڈک شکل وصورت ،جسامت ،رنگت ،غذائی عادات میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اسی طرح گرتے ہوئے آبشار کے پر شور آواز کے کنارے ،گرم جھیل کی لہروں کے پر شور اور گرج والے علاقہ میں رہنے والے کچھ نئی نسل اور اقسام کے مینڈکوں کی دریافت ہوئی ہے۔
پائے جانے والے دو قسم کے مینڈک چین کے مشرقی علاقوں سے قریب دریافت کئے گئے ہیں۔ان کے سماعت کا آلہ دیگر مینڈگوں سے بالکل جدا ہے اور اس کی ترکیب الٹرا سائونڈ قسم کی ہے۔ان پر پانی کے تیز گرج آبشار کی لہروں کی بھیانک آواز اثر انداز نہیں ہوتی۔ ان میں سے ایک قسم کے مینڈک کی آواز کسی چڑیا کے سریلے گیت کی طرح ہے لیکن آواز کی لہریںاتنی بلند ہیں کہ عام صوتی لہروں سے یہ تقریبًا سات گنا زیادہ تیز ہیں۔
ان کی تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا تعلق ایلی نوائذ یونیورسٹی کے اربانا چیمپیسن سے ہے ۔یہاں کے نیوروسائنس کے پروفیسر البرٹ فینگ نے یہ تحقیق کی۔ان کا کہنا ہے کہ اس حشرات الارض کو دودھ دینے والے جانوروں کے اول اقسام کے ساتھ رکھا جانا چاہئے جیسے دہیل اور ڈالفن ۔اس کے اندر الٹرا سونک خصوصیات پائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مینڈک کائناتی تخلیق کی آزاد حصول ہے جو اپنی زندگی گزارنے کے انداز میں نرالا ہے اور انتہائی تیز بھیانک چنگھاڑتی اور گرجدار آواز میں بھی زندہ ہے ۔البرٹ فینگ نے کہا کہ اس قسم کے مینڈک کے متعلق سب سے پہلی بار انہوں نے 2000میں کانل یونیورسٹی کے بائلو جیسٹ کریگ ایڈلر سے سنا تھا ۔کریگ نے البرٹ کو شنگھائی کے قریب ایک خوبصورت تفریحی مقام ہوانگ شانگ گرم پانی کے جھیل کاپتہ بتایا تھا۔اسی مقام پر انہوں نے ایسے مینڈک دیکھے تھے جو بلند پرشور آواز کو کم کرکے سننے پر قادر تھے ۔البرٹ نے کہا کہ میں نے اس مقام پر ایسے مینڈک دیکھے جن کے کان اندر کی جانب دبے ہوئے تھے۔میرا خیال تھا کہ یہ ایک منفرد شکل وصورت کی بات ہے جو مختلف طریقہ سے اپنی آواز نکالتا ااور سنتا ہے۔ہمیں یہ خیال بالکل بھی نہیں تھا کہ ان کے کان کی بناوٹ الٹرا سونک سائونڈ سسٹم سے ہے ۔
مشرقی چین میں ان لوگوں نے ایک ایسے مینڈک کو دریافت کیا جس کی کریہہ آواز اتنی بلند تھی کہ عام انسانی سما؎عت کی طاقت اسے برداشت نہیں کرسکتی۔یہ مینڈک نہایت تیز آواز میں اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے پر قادر ہیں۔یہ مینڈک تیز رفتار جھیل اور بلندی سے گرتے ہوئے آبشار کے قریب پائے گئے ۔ان آبشاروں اور جھیلوں کی بلند آواز سے اس کی آواز زیادہ تیز ہوتی ہے ۔عام آدمی کے سننے کی صلاحیت یعنی سماعت 20کلو ہرٹز کی بلندی تک ریکارڈ کی گئی ۔یہ آواز آبشار کے گرنے کی پرشور آواز اورجھیل کی تیز رفتار لہروں کی آواز پر بھاری تھی۔ قدرت نے مخلوق کے اندر بدترین حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیتیں ودیعت کی ہیں تاکہ وہ اپنے ہم جنسوں سے رابطہ قائم کرسکیں۔پروفیسر البرٹ نے کہاکہ یہ مینڈک جسے امولوپس ٹورموٹس کہا جاتا ہے اس کے پاس غیر معمولی آلہ سماعت (کان) کی بناوٹ ہے ۔اس کے کینل میں رکاوٹ ڈالنے والے آلے موجود ہیں جو باریک کان کے ڈرم کی حفاظت کرتے ہیں۔یہی باریک جھلیاں کان کے اندر جانے والی تیز آوازوں کے روک کا کام کرتی ہیں اور آواز کی اونچی لہروں کو جذب کرتی ہیں ۔یہ کان کے ایئر ڈرم اور کان کے درمیانی حصہ میں ہوتی ہیں۔یہ مینڈک کسی چڑیا کی طرح تیز کوک کی آواز نکالتے ہیں۔(یو این این)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker