ہندوستان

دارالعلوم دیوبند کے سابق استاذ مولانا فضل الرحمن قاسمی کا انتقال

علمی حلقے میں غم کی لہر، مدرسہ قاسمیہ میں تعزیتی نشست کا انعقاد
دربھنگہ۔ ۲۲؍جنوری: (رفیع ساگر) مقامی بلاک کے دوگھرا پنچایت کے چندردیپا گاوں باشندہ بزرگ عالم دین و دارالعلوم دیوبند کے شعبہ خطاطی کے سابق استاد مولانا فضل الرحمن قاسمی کا انتقال ان کے گھر پہ ہوگیا۔ان کے انتقال سے گاوں اور علاقےمیں غم کا ماحول ہے۔ مولانا کے انتقال کی خبر سن کر مولانا کی رہائش گاہ قاسمی منزل میں گاوں اور علاقے سے آخری دیدار کے لیے لوگوں کا ہجوم امڈ پڑا۔ مولانا قاسمی شیخ الاسلام مولانا حسین احمدمدنی، مولانا اعجاز علی، علامہ ابراہیم بلیاوی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمی کے شاگردوں میں تھے۔مولانا موصوف 1985 سے دارالعلوم دیوبند کے شعبہ خوشخطی سے وابستہ تھے۔تقریباً 25؍ برسوں تک درالعلوم دیوبند میں استاد رہے۔ ان کے شاگردپوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ فتاوی دارالعلوم دیوبند کی کتابت بھی مولانا فضل الرحمن نے ہی کی تھی۔ قضیہ دارالعلوم دیوبند کے بعد وہ مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحی سے سب سے زیادہ قریب تھے۔ چند سال قبل دیوبند میں گرجانے کے سبب مولانا کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی،جس کے بعد دارالعلوم دیوبند سے سبکدوش ہوکر اپنے گاوں چندردیپا میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔ وہ تقریباً 85؍ برس کے تھے۔ پسماندگان میں 4؍ لڑکے اور 3 لڑکیاں ہیں۔ پیر کو بعد نماز ظہر مرحوم کے تیسرے صاحبزادے مولاناحافظ عنایت الرحمٰن قاسمی نے نمازجنازہ پڑھائی اور ہزاروں لوگوں کی موجود گی میں نم آنکھوں سے مقامی قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔ نمازجنازہ میں مدرسہ قاسم العلوم حسینہ دوگھرا کے پرنسپل مولانا اسرارا حمد شگفتہ، مدرسہ اسلامیہ شاہ پور بگھونی کے سابق پرنسپل مولانا طاہر حسین قاسمی،مولانا اظہار علی اجمل ندوی، الحاج ماسٹر مفید عالم، مولانا ڈاکٹر اذکار احمد شمسی،مولانا جابر حسین قاسمی، مولانا مطیع الرحمٰن مظاہری، مولانانعیم الدین قاسمی،سماجی کارکن نورالحسن انصاری،محمد اسمائیل انصاری،مولانا عبدالقدوس رضا،صادر حسین، پروفیسر سیف الاسلام، حافظ ابوسفیان ،مولانا خالدسیف اللہ ندوی کے علاوہ بڑی تعداد میں گاوں اور علاقے کے لوگ شریک تھے۔ادھر دوگھرا میں قائم لڑکیوں کے ادارہ معہدالصالحات میں پیر کو مولانا رضاء اللہ قاسمی کی صدارت میں تعزیتی نشست کا انعقاد کر مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ادارہ کے بانی مولانا جابر حسین قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن جیسی شخصیت کا جدا ہو جانا فن خطاطی کا ایک بڑا نقصان ہے ۔علاقہ بھی ایک نامور اور بزرگ عالم سے محروم ہوگیا جس پر ہر کوئی رنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے انتقال سے ہمیں جو صدمہ پہنچا ہے اس کا بیان ممکن نہیں۔اس موقع پر حافظ شبیر احمد،حافظ نقی امام سمیت کئی اساتذہ اور ادارہ کی بچیاں شریک ہوئے۔اس کے علاوہ ان کے انتقال کئی مدارس کے ذمہ داروں ،سیاسی و عوامی نمائندوں سمیت دیگر سرکردہ شخصیات نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور غمزدہ کنبہ والوں سے ملاقات کر ہمدردی کا اظہار کیا اورمرحوم کے لیےدعائے مغفرت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker