طب وسائنسمضامین ومقالات

نسوار

نسوار جس کی طلب صدیاں گزرنے کے باوجود بھی کم نہیں ہوئی
ہونٹوں اورمنہ کے کینسر کا سبب بننے والی نسوار کسی زمانہ میں چین حکماء استعمال کر نے کی ہدایت کیا کر تے تھے
مسرت اللہ جان
نشے کی طلب کوپورا کرنے والی نسوار کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی لو گوں میں مقبول عام ہے اور اس کے استعمال کر نے والوں میں کم عمر بچے،نو جوان مر د اوربزرگوں کیساتھ ساتھ خواتیں بھی شامل ہیں جو کھلے عام یا چوری چھپے اس کا استعمال کر تے ہیں بر صغیر پاک و ہند خصو صا پاکستان اور صوبہ سر حد میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے او ر پٹھان لو گ اسے بہت زیادہ استعمال کر تے ہیں۔پاکستان کے صوبہ سر حد کے ہر تیسرے اور چوتھے شخص کی جیب میںنسوار کی پڑیا لازمی پڑی ہو تی ہیں گہرے سبز رنگ کی نسوار کی ہر بازار میںدکانیں ہیں اس کا استعمال بھی لوگوں میں اتنا عام ہے کہ لو گ دوران کام نسوار کی پڑیا نکال کر مخصوص گولی بناکر منہ میںڈال لیتے ہیں پٹھان لو گوں میں چائے اورنسوار کا بہت زیادہ استعمال ایک عام سی بات ہے پان کی طرح منہ میںڈال کر تمباکو کا نشا لینے والے لوگ نسوار کی خوشبو سے نسوار کی تا زگی کا اندازہ کر لیتے ہیں منہ میں بد بو پید اکر نے والی نسوار ڈاکٹروں کے مطابق ہو نٹوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے تاہم پھر بھی اس کے استعمال میں کوئی کمی نہیں آرہی اور صدیوں سے یہ استعمال ہو تی آرہی ہیں اس وقت نسوار کا سب سے زیادہ استعمال پاکستان، افغانستان اور ازبکستان اور سویڈن کے مختلف حصوں میں کیا جاتا ہے اس کا استعمال پاکستان اور افغانستان کے سر حدی علاقوں میں رہائش پذیر خواتین بھی بہت زیادہ کر تی ہیں تمباکو کے پتوں کو مخصوص انداز میں کوٹنے سے بننے والی نسوار میں راکھ،چونا اور بعض علاقوں میں الائچی استعمال ہو تی ہے نسوار ابتدا ء میںمعاشرے کا اعلی طبقہ استعمال کر تا تھااو ر اس کا استعمال بھی ایک سٹیٹس سمبل تھا ۔ماہرین کے مطابق اس کا آغاز سولہویں صدی میںپرتگیزیوں نے کیا تھا چین اور تائیوان میںفزیشن نسوار کو سر درد ،دانت،کھانسی،بخار اور نیند آنے کے لئے مریضوں کو استعمال کر نے کی ہدایت کیا کر تے تھے چین میں 1684میں اس کی استعمال کی شہادتیں ملی ہیں چینی لو گ نسوار کے لئے مخصو ص قسم کے مر تبان استعمال کر تے تھے او رہر چینی کے گھر میں نسوار کے لئے مخصوص قسم کے مر تبان پڑے ہو تے تھے یہ مر تبان سنگ مر مر ،شیشے ،ہیرے،مخصوص رنگین پتھر ،سونے اور چاندی کے بنے ہو تے تھے اور ہرچینی اپنی استطاعت کے مطابق گھر میں نسوار کے مر تبان رکھا کر تے تھے یہ ابتداء سے اتنے عام تھے کہ اب بھی تائیوان کے نیشنل پیلس میو زیم میںتمباکوکی پر انی بوتلیں پڑی نظر آتی ہیں جس پر اس وقت کے پینٹر مخصوص رنگین نقش و نگار کر تے تھے ۔بعض تاریخ دانوں کے مطابق کس طر ح یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تمباکو کا استعمال کب سے جاری ہے اس طرح نسوار کی تاریخ کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا تاہم ان کے مطابق جب کر سٹو فر کو لمبس نے نئی دنیا دریافت کی تو اس وقت ہیٹی اور نیو زی لینڈ میں اس کا استعمال عام تھا اور یو رپی شہریوں نے یہاں پر نسوار کا استعمال دیکھا اور بعد میں اسے استعمال کر تے رہے بعض تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یو رپ میں آنے سے قبل انڈین،امریکی نسوار استعمال کر تے تھے اور وہ تمباکونو شی کے بجائے نسوار کی شکل میںتمباکو کھاتے تھے اس سے وہ اپنے نشے کا شوق پورا کر تے تھے ان کے مطابق امریکہ کے اپنے دوسرے سفر میں 1994-96ء میں کولمبس نے دیکھا کہ انڈین پائو ڈر کی شکل میں تمباکو کھاتے ہیں جسے وہ اپنے ساتھ لے گیا اور اس کی وجہ سے نسوار سپینش اور فرانسیسی لو گوں میں بھی مقبول عام ہو گیا فرانس پر حملوں کے دوران بادشاہ چارلس نے نسوار دریافت کیا او روہ اسے اپنے ساتھ انگلینڈ واپس لے گیا جہاں اس نے نسوار کو متعارف کر ایا پھر یہ لو گوں میں بہت عام ہو گیا کنگ جارج تھری کی ملکہ چیرولیٹ بھی اس کی انتہائی دلدادہ تھیں اور وہ ماہانہ پائونڈ ز کے حساب سے نسوار کھاجاتی تھیں۔تاریخ دانوں کے مطابق پر تگال میں متعین فرانسیسی سفیر جین نکوٹ 1560ء میں جب وہ اپنے ملک واپس آرہا تھا تو وہ اپنے ساتھ تمباکو (نسوار) کی شکل میں فرانس لے آیا جہاں پر ملکہ کھیترین ڈی میگی نے اسے سر درد کے لئے استعمال کیا سویڈن میں نسوار کا استعمال 1600ء میں ہو ا 1700 ء میں ناک کے ذریعہ نسوار استعمال کر نا ایک فیشن تھا اور بعد میں یہ پورے سویڈن میں اتنا پھیل گیا کہ سویڈن میں نسوار کے لئے ایک علیحدہ فیکٹری بن گئی سویڈن میں نسوارکو اب سن یا ایٹن کہا جا تا ہے۔1702ء میں پہلی مر تبہ نسوار کا استعمال عام لو گوں میں پھیل گیا بر طانوی نیوی نے ایک چھاپے کے دوران متعدد سپینش جہاز پکڑے اور ان کے سیلرز سے جہازوں میں تمباکو(نسوار ) کی شکل میں ایک بڑی تعداد پکڑی گئی بر طانیہ واپسی پر سیلرز نے یہی نسوار انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں متعارف کرائی اور وہاں پر بھی نسوار بنانے کا عمل شروع ہو گیا وہاں پر ہر کوئی نسوار استعمال کرنے لگا شاعر الیگزینڈر پاپ نسوار استعمال کرتا تھا چارلس ڈائون اسے استعمال کر تا تھا ڈیوک آف و لنگٹن نسوار کے استعمال کا عادی تھا لارڈ نیلسن خود نسوار استعمال کرنے کا عادی تھا ۔چین کا اہم شہر بیجنگ ابتداء میں نسوارکے حوالے سے اہم رہا ہے یہاں پر چینی حکماء میڈیکل ادویہ کے طور پر نسوار استعمال کر نے کی ہدایت کیا کر تے تھے خصو صا ً دمے کے مریضوں کے لئے اس کا استعمال بہت لازمی تھا۔بیسویں صدی میں نسوار کا استعمال کم ہو گیا اور اس کے بجائے سگریٹ اور سگار کا استعمال عام ہو گیا تاہم یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ اتنی صدیاں گزر جانے کے با وجو د بھی نسوار کی طلب میں کوئی کمی نہیں اور لو گ اس کا استعمال اب بھی باقاعدگی سے کر تے ہیں کچھ لوگ اسے
گولی کی شکل میں جبکہ بعض نسوار ک وچورن کی شکل میں ہونٹ کے اندر دباتے ہیں اور مخصوص وقت گزرنے کے بعد اسے گرا دیتے ہیں نسوار کے عادی لو گں کو اس کے مختلف ؎ذائقوں کا پتہ چلتا ہے اور بقول ان کے جو لوگ نسوار نہیں کھا تے ان میں کسی بھی چیز کو بر داشت کر نے کا حو صلہ نہیں ہو تا نسوار کو پہلی مر تبہ استعمال کر نے پر چکر اور قے آنیکی شکایت ہو تی ہے جبکہ اس کو مسلسل استعمال کر نے والے افراد کو اگر یہ نہ ملے تو ان کا گزارہ مشکل سے ہو تا ہے دانتوں کے ڈاکٹروں کے مطابق یہ نہ صرف مسوڑھوں کو خراب کر نے بلکہ ہو نٹوں کا کینسر،دانتوں کو متاثر کر نے کے ساتھ ساتھ منہ کا ذائقہ خراب کر نے اور بد بو پیدا کر نے کا باعث بھی بنتا ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker