جہان بصیرتخبردرخبر

نائب صدرجمہوریہ کابیان:حق گوئی پرفرقہ پرست چراغ پا

محمدشارب ضیاء رحمانی
نائب صدرجمہوریہ نے مسلم مجلس مشاورت کی گولڈن جبلی تقریب میں مسلمانوں کے مسائل کے حل ،ان کے ساتھ ہورہے امتیازی سلوک کے ازالہ اوریکساں مواقع کمیشن کے قیام کیلئے مودی حکومت سے اقدامات کامطالبہ کیاتھا،انہوں نے مسلمانوںکے ساتھ فرقہ ورانہ بنیادپرہورہے امتیازپرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاتھاکہ ’’سب کاساتھ سب کاوکاس کاہدف قابل ستائش ہے لیکن اس کے لئے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے ۔محترم حامدانصاری نے مزیدکہاتھاکہ سرکاری رپورٹوںکے تجزیہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمان بنیادی طورپرتحفظ،تشخص ،تعلیم ،سرکاری مراعات میں منصفانہ شراکت اورفیصلہ سازی میں منصفانہ حصہ داری کے مسائل سے دوچارہیں۔ان کے حل کے لئے انفرادی،سماجی اورحکومتی سطح پرقدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔نائب صدرکا یہ بیان فرقہ پرستوں کومرچ کی طرح لگ گیا،جہاں ایک طرف وشوہندوپریشدنے آئینی عہدہ پرموجوداہم شخصیت سے معافی کا اوربصورت دیگراستعفیٰ کامطالبہ کیاہے اوربی جے پی نے اسے آئینی اقدارکی خلاف ورزی قراردیا،وہیں عمیرالیاسی نے ایک بارپھرمودی حکومت کے تئیں اطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ سب کاساتھ سب کاوکاس کے وعدے پرمودی عمل پیراہیں ،انہیں امیدہے کہ وہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے ’’کچھ نہ کچھ ‘‘ضرورکریں گے ،ابھی مودی حکومت کی کارکردگی پرکسی طرح کاتبصرہ مناسب نہیں ہے۔لیکن خودساختہ قائدنے یہ نہیں بتایاکہ کب سے مودی حکومت کی تنقیددرست ہوگی؟۔کیاپندرہ مہینے کسی حکومت کی سمت کوسمجھنے کے لئے کافی نہیں ہیں؟۔سب کاساتھ اورسب کاوکاس کاکون ساایساکام ہورہاہے،مسلمانوں کی آبادی پرپابندی کامطالبہ اورہندوئوں کوپانچ بچوں پرانعام دینے کااعلان یہی یکساں حقوق ہیں،کون کیاکھائے ،کون کتنے بچے پیداکرے ،یہ طے کرنے والے یہ فرقہ پرست کون ہوتے ہیں؟۔امام نے مودی جی سے اپنی ملاقات کو’’اطمینا ن بخش ‘‘بھی قراردیاہے۔اس کے علاوہ ٹی وی چینلزپرنائب صدرپرتبصرہ شروع ہوگیاہے جس میں ظفرسریش والااورسیدشہنوازحسین نے مسلمانوں کی پسماندگی کاٹھیکراسابقہ حکومتوں پرپھوڑتے ہوئے کہاکہ جب دیش کی ترقی ہوگی توہرایک کی ہوگی اس میں کسی مذہب کوسامنے نہیں لاناچاہئے۔ترقی سب کی ہوگی اورایک ساتھ ہوگی۔مودی کے چشمے سے ہندومسلمان نہیں دیکھاجائے گا۔مودی جی نے اورنہ پارٹی نے کبھی گھرواپسی کاشوشہ نہیں چھوڑا،وہ پارٹی کابیان نہیں تھا۔مذہب کے نام پرہم سیاست نہیں کریں گے۔جوبیان بازی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے،سریش والانے کہاکہ حامدانصاری کی تقریربہت درست اورسنجیدہ ہے انہوں نے اہم مسائل اٹھائے ہیں۔
دوسری طرف جے ڈی یو لیڈر علی انور نے کہا ہے کہ حامدانصاری نے صحیح کہا ہے سچر کمیٹی کی جو حالت ہے سب جانتے ہیں، مسلمانوں میں بھی دلت ہے، عیسائیوں میں بھی وہ مذہب کی بنیادپر ریزرویشن نہیں مانگ رہے ہیںلیکن ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، انہوں نے بہت سے معاملات میں جیسے، ملازمتوں میں، یالوجہادکاشوشہ چھوڑکرپریشان کیا جاتا ہے۔وہیں کانگریسی لیڈر پرمود تیواری نے کہا ہے کہ نائب صدر نے صحیح کہا ہے جو انہیں لگا وہی کہا ہے۔ظفرسریش والااورشہنوازحسین کومخاطب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایاکہ مراٹھاریزیرویشن اورمسلم ریزرویشن کے مسئلہ پربی جے پی سرکارکیوں امتیازبرت رہی ہے؟،اسیمانندکے معاملہ کومذہب کے چشمہ سے وزیراعظم کیوں دیکھ رہے ہیں،سب کاساتھ سب کاوکاس یہ کوئی احسان نہیں بلکہ آئین ہندحکومت کواس کاپابندکرتاہے۔
وشو ہندو پریشد نے نائب صدر حامد انصاری کے تبصرے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک فرقہ وارانہ بیان ہے۔وی ایچ پی نے کہا کہ انصاری یا تو معافی مانگیں یاپھراستعفیٰ دیں۔ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ نائب صدر کے عہدے کا مکمل احترام کرتے ہوئے وی ایچ پی انصاری کے فرقہ وارانہ بیان کی مذمت کرتی ہے۔یہ ایک مسلم سیاستدان نے بیان دیا اور اس طرح کا بیان نائب صدر کے عہدے کے شخص کو زیب نہیں دیتا۔انصاری یاتو معافی مانگیں یا پھر استعفیٰ دے کر سرگرم سیاست میں شامل ہوں۔جین نے کہا کہ مسلمانوں کو دنیا کے کئی دیگر اسلامی ممالک کے مقابلے زیادہ آئینی حقوق حاصل ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کی برسوںسے مختلف ذرائع سے خوشامدکی جاتی ہے۔بی جے پی لیڈرکیلاش وجیورگیی نے سوشل ویب سائٹ پر لکھاکہ نائب صدر کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے، جس کا تعلق صرف ملک سے ہوتا ہے کسی پارٹی یا مذہب سے نہیں۔انصاری جی کا یہ کہنا کہ حکومت سب کا ساتھ، سب کا ترقی کے ساتھ مسلمانوں پر خصوصی توجہ رکھے، آئینی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔نائب صدر کے طورپرانصاری جی ملک احترام کرتا ہے لیکن وقت وقت پر وہ اپنا خاص طبقے سے تعلق ہونے کا احساس کرا دیتے ہیں۔
بات صرف اتنی سی ہے کہ نائب صدرجمہوریہ کے عہدہ پرحامدانصاری کی موجودگی فرقہ پرستوں کے لئے ناقابل ہضم رہی ہے،وہ مسلسل نائب صدرکوہدف تنقیدبنارہے ہیں۔یوم جمہوریہ کے موقعہ پرجب حامدانصاری نے پروٹوکول کے مطابق سلامی نہیں لی،چونکہ یہ صرف صدرجمہوریہ کااستحقاق ہے توفرقہ پرستوں کی جانب سے انہیں غداروطن تک کہاگیااورجم کران پرکیچڑاچھالے گئے لیکن نائب صدرکے دفترنے اس کی وضاحت کی کہ سلامی نہیں لیناہی دراصل پروٹوکول ہے توفرقہ پرستوں کوپھریہ نظرنہیں آیاکہ مودی جی نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کردی ،اورصدرکے استحقاق میں مداخلت کرتے ہوئے سلامی لے لی۔فرقہ پرستوں کی زبان اپنے مضبوط ترین وزیراعظم کی اس پروٹوکوک کی خلاف ورزی پرخاموش ہے۔بی جے پی اوراس کی ذیلی تنظیمیں ہرمسئلہ کوفرقہ وارانہ عینک سے دیکھتی ہے اوردوسری طرف تماشہ یہ ہے کہ دوسروں پرمعاملوں کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرتی ہے،حامدانصاری نے ایک عمومی بات کہتے ہوئے صرف حکومت کونہیں بلکہ سماجی ،ادارہ جاتی اورانفرادی ذمہ داری کااحساس دلایاہے اورعدم مساوات وتنگ نظری کے بڑھتے رجحانات کوختم کرنے کے لئے اقدامات کامطالبہ کیاہے تواس میں ناراض ہوجانے کی کون سی بات تھی،اورنہ ایساکوئی موضوع تھاکہ چینلزاسے موضوع بنائیں ۔میڈیاکودوسرے معا ملات نظرنہیں آتے لیکن جیسے ہی کسی معاملہ کومذہب کارنگ دیاجاتاہے توجمہوریت کاچوتھاستون سنگھی غلامی کاحق اداکرنے لگتاہے۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیاگروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker