ہندوستان

۲۹؍جنوری سے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع

ٹرپل طلاق مخالف بل پاس کرانے کی پوری کوشش کی جائے گی
پدماوتی تنازعہ اور عدلیہ کے بحران پر بھی گرما گرم بحث متوقع
نئی دہلی، 28 جنوری-پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن پیر کو شروع ہورہا ہے ۔ تین طلاق بل جو سرمائی اجلاس میں راجیہ سبھا میں پاس نہیں ہوسکاتھا۔ اب مرکزی حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ بجٹ اجلاس میں وہ بل راجیہ سبھا میں پاس کرالیا جائے ۔ حالانکہ بل کو لے کر حکومت کواپوزیشن کی سخت مخالف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بجٹ اجلاس کی شروعات صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے خطاب کے ساتھ ہوگی۔ صدر کووند کے خطاب کے بعد دونوں ایوانوں میں اقتصادی سروے رپورٹ پیش کی جائے گی ۔ وزیرخزانہ ارون جیٹلی یکم فروری کو بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے اس میعاد کا آخری مکمل بجٹ پیش کریں گے ۔اجلاس کا پہلا مرحلہ نو فروری کو پورا ہوجائے گا ۔ دوسرا مرحلہ پانچ مارچ سے چھ اپریل کے درمیان ہوگا ۔ بجٹ سیشن میں بجٹ سے وابستہ معاملات کے علاوہ مودی حکومت کچھ دیگر اہم بلوں کو بھی پاس کرانے پر زور دے سکتی ہے ۔ تین طلاق سے متعلق بل کے علاوہ حکومت او بی سی کمیشن کو آئینہ درجہ دینے والے بل کو بھی پاس کرانے کی کوشش کرے گی ۔ یہ دونوں بل سیاسی طور پر کافی اہم ہیں۔
سپریم کورٹ کے چار ٹاپ ججوں اور چیف جسٹس کے درمیان تنازعہ، ‘پدماوت فلم معاملہ اور تین طلاق بل جیسے مسائل پر زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کو متحد ہونے کے درمیان پیر کو شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں حکومت کے لئے اپوزیشن کو خاموش رکھنا آسان نہیں ہو گا۔پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا پہلا مرحلہ 29 جنوری سے شروع ہوکر 09 فروری تک چلے گا۔ پہلے دن صدر رام ناتھ كووند دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطاب کریں گے۔ اپنے پہلے خطاب میں وہ حکومت کی ترقی اور اقتصادی پروگراموں کا خاکہ پیش کریں گے۔ اسی دن اقتصادی سروے کے ذریعے ملک کی معیشت کا حساب کتاب پیش کیا جائے گا۔بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ چھٹی کے بعد 05 مارچ سے 06 اپریل تک ہوگا۔عام بجٹ یکم فروری کو پیش کیا جائے گا جو مودی حکومت کا پانچواں بجٹ ہوگا۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات اور اس سے پہلے آٹھ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بجٹ میں مقبول اعلانات کئے جا سکتے ہیں لیکن اقتصادی اصلاحات پر حکومت کے زور کو دیکھتے ہوئے کچھ سخت قدم بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ملک میں ایک ٹیکس نظام ‘ گڈز اینڈ سروس ٹیکس ‘ نافذ ہونے کے بعد پہلی بار بجٹ پیش کیا جا رہا ہے اور اس کا اثر بھی بجٹ پر دکھائی دے گا۔تقریبا تمام اپوزیشن پارٹیوں کی ‘بی جے پی کی مخالفت کی پالیسی حکومت کے لئے سب سے بڑی مصیبت کا سبب ہے۔ کچھ ایشوز پر غیر جانبدار رہتی آرہی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے بھی اب کھل کر حکومت کے خلاف آنے سے جہاں اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کا حوصلہ بڑھا ہوا ہے وہیں حکومت پر اس کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ این سی پی لیڈر شرد پوار نے یوم جمہوریہ کے دن کچھ دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ‘آئین بچاؤ مارچ نکال کر حکومت کو گھیرنے کے اشارے دیئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker