مضامین ومقالات

پٹنہ کے گاندھی میدان میں جشن ِ سیکولرازم

حفیظ نعمانی
بہار میں جب نریندر مودی ’’کرو یا مرو‘‘ کے انداز سے الیکشن لڑرہے تھے تو انہوں نے کہا تھا لالوجی 2014 ء میں اپنی بیٹیوں کو سِٹ کررہے تھے۔ اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو اب بیٹوں کو سِٹ کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مودی نوازوں کو یہ اچھا لگا ہو۔ لیکن ہم جو نہ لالو نواز ہیں نہ نتیش نواز۔ ہمیں اس لئے اچھا نہیں لگا کہ ہم بھی بیٹوں والے بھی ہیں اور بیٹی والے بھی اور ایک باپ کا فرض ہے کہ وہ سب کو سِٹ کرے۔ ہمارا چھوٹا سا کاروبار تھا اور ہمارے کچھ دوست سرکاری ملازم تھے۔ ہم نے بہت باریکی سے دیکھا تو ہمیں اپنا کاروبار وہ چھوٹا ہو یا بڑا ملازمت سے اس لئے اچھا لگا کہ ملازمت میں کسی نہ کسی اسٹیج پر غلامی کرنا پڑتی ہے اور دوسروں کی پابندی۔
ہم نے سیاسی دنیا کے کئی بڑے لیڈروں کو یہ کہتے سنا ہے کہ سیاست میں زندگی گذارنے والے باپ کا بیٹا سیاسی ہو تو کیا غلط ہے؟ لالو یادو کی پوری زندگی سیاست میں گذری ہے وہ جیل میں بھی رہے اور دوسری پارٹی کی مخالفت میں نعرے بھی لگائے اور بہار کے وزیر اعلیٰ بھی بنے اور مرکز میں وزیر ریل بھی۔ ان کے اگر دونوں بیٹوں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ وہ سیاست میں آئیں گے تو کیا غلط کیا؟ اور اگر لالو جی نے دونوں کو وزیر بنوایا تو کون سی نئی بات کی؟ راجیو گاندھی، بے نظیر بھٹو یا عمرعبداللہ اور اکھلیش یادو اگر کسی طرح کے تجربہ کے بغیر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں تو لالو یادو کے بیٹے ایم ایل اے بن کر کیوں وزیر نہیں بن سکتے؟
یہ بات ایسی ہے جس کی ہندوستان کی تاریخ میں دوسری مثال نہیں ہے کہ دس سیٹیں زیادہ ممبروں والی پارٹی کم ممبروں والی پارٹی کو حمایت دے رہی ہے۔ اب اگر اس نے نائب وزارت کا عہدہ مانگ لیا تو کون سا ظلم کرلیا؟ مہاگٹھ بندھن کے مخالفوں کو اعتراض ہے کہ لالو کے بیٹوں کو اہم محکمے کیوں دیئے گئے۔ وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ محکمے لالو نے لئے ہیں اور وہ اپنی کارکردگی سے دکھائیں گے کہ حکومت اور وزارت اس طرح کی جاتی ہے؟ لالو یادو کے جس بیٹے کو چھوٹا اور جسے بڑا کہا جارہا ہے وہ ووٹرلسٹ کی غلطی ہے جس کا بہت شور ہوچکا ہے۔ یہ تو گائوں کے اندراجات ہیں۔ پندرہ سال پہلے لکھنؤ کے آرٹ کالج کے ایک پروفیسر اسد صاحب ہمارے پاس آئے تھے کہ اپنے… دوست وکیل کے پاس لے چلئے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہم ریٹائر ہورہے ہیں اور ہمارے بڑے بھائی جو دو سال بڑے ہیں وہ اب سے دو سال کے بعد ریٹائر ہوں گے۔ آپ ہمارا مقدمہ ہائی کورٹ میں پیش کرادیجئے۔ وکیل صاحب نے کہا کہ ہائی اسکول میں آپ کی عمر کیا لکھی ہے؟ اسد صاحب نے بتایا کہ اس میں تو ہم اپنے بھائی سے دو سال بڑے ہیں۔ اس کا جواب یاد ہے کہ اب آپ سپریم کورٹ میں بھی چلے جائیں۔ یا اس دایہ کو بھی بلاکر جس نے ولادت کرائی تھی اس کا حلفیہ بیان دلوادیں کہ آپ چھوٹے ہیں تب بھی وہ سب اس لئے بیکار ہے کہ ہائی اسکول کا اندراج پتھر کی لکیر ہے جسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔
نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ تسلیم کرنا اور لالو یادو کے بیٹوں کا ان کے پائوں چھونا اور لالو کا اتنا ہی خوش ہونا جیسے وہ خود وزیر اعلیٰ بن رہے ہیں اس کا ثبوت ہے اور آنے والے معزز مہمانوں میں سے ہر کسی کو گلے لگانا اس کا ثبوت ہے کہ لالو کو 80 سیٹوں کے بعد بھی نتیش کو بنانا اتنا ہی اچھا لگا جتنا بیٹے کے بننے سے لگتا۔ آنے والے کل پرسوں کو یا ماہ و سال کو کس نے دیکھا ہے۔ اس وقت تو اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی پوری طاقت ذات برادری کی مخالفت میں جھونک دی اور وکاس وکاس کے نعرے ہی لگاتے رہے۔ لیکن لالو کو 80 سیٹوں پر کامیاب کراکے پوری یادو برادری نے نریندر مودی کو جتا دیا ہے کہ جیسے اُترپردیش کے جاٹوں کے واحد لیڈر چودھری چرن سنگھ تھے اس طرح بہار میں یادو لیڈر لالو ہیں۔ وہ اپنی بیوی کو بڑھائیں بیٹی کو بڑھائیں یا بیٹوں کو کسی کو کوئی شکایت نہیں ہے۔
اسے قدرت کا نظام نہ کہیں تو کیا کہیں کہ مودی صاحب اور ان کے وزیروں نے پوری طاقت لالو کو حقیر بنانے اور کانگریس کو ذلیل کرنے میں لگادی اور نتیش کو اس لئے نہیں چھیڑا کہ بہار کی بدلی ہوئی صورت اس کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ لیکن ہوا اُلٹا کہ کانگریس چار سے 27 ہوگئی لالو 22 سے 80 ہوگئے اور نتیش کے ممبروں میں کمی ہوگئی۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عوام نے صرف مودی کو ہرانے میں دلچسپی دکھائی ہے اور یہ تو شاید کسی کی سمجھ میں نہ آسکے کہ جشن ِ فتح میں اگر ممتا بنرجی آرہی تھیں تو سیتا رام یچوری کیسے آگئے؟ اور مودی کی ہار کا جشن تھا تو اس میں اکالی دل اور شیوسینا کی شرکت کو کیا سمجھا جائے؟ اور شرد پوار کے طارق انور جب لالو اور نتیش سے ناراض ہوکر تیسرے محاذ میں شامل ہوگئے تھے تو پوار صاحب کیا لینے آئے تھے؟ رہی کانگریسی وزراء اعلیٰ کی فوج تو انہیں تو اس لئے آنا ہی تھا کہ ان کی جو پارٹی اٹھارہ مہینے سے کوما میں پڑی تھی وہ اچانک کروٹ لے کر کھڑی ہوگئی اور اس نے راہل میں نئی روح پھونک دی۔
سمجھنے والوں کا ایک طبقہ یہ تعبیر کررہا ہے کہ جنتا پارٹی کی طرح یا تحویل آراضی بل کی مخالفت میں جیسے تمام پارٹیاں حکومت کے سامنے آگئی تھیں۔ شاید ایسی ہی کوئی چیز پھر بننے جارہی ہے جو عدم رواداری، عدم تحمل اور عدم برداشت والی ذہنیت سے مورچہ لے گی اور اب صرف سیکولر ہندوستان یا کمیونل ہندوستان کے لئے زور آزمائی ہوگی۔ بہار کے پورے الیکشن میں اور اس کے بعد راہل گاندھی نے آر ایس ایس پر نام لے کر حملے شروع کردیئے ہیں اور وہ پردہ جسے کانا پردہ کہا جاتا ہے آر ایس ایس نے کیا ہٹایا کہ مخالفوں نے اسے تار تار کردیا اور اب بات بی جے پی کی نہیں آر ایس ایس کی ہونے لگی ہے۔ اور بار بار موہن بھاگوت کے ریزرویشن والے بیان پر کروٹیں بدلنے کے باوجود ہر کسی نے بہار کے الیکشن میں اتنی ذلت کا بنیادی سبب اسی بیان کو بتادیا۔ تمام قارئین کرام نے الیکشن کے آخری دنوں میں مودی کو یہ تک کہتے سنا ہوگا کہ میں ریزرویشن کے لئے جان بھی دے سکتا ہوں یا دلتوں کو یہ کہہ کر بھڑکانا کسے یاد نہ ہوگا کہ تمہارے ریزرویشن کے میں سے لالو نتیش کاٹ کر مسلمانوں کو دے دیں گے۔ لیکن یہ سب اس وقت کہا گیا جب زہر اثر کرچکا تھا اور جب لالو نتیش نے کہا کہ مودی جی اور امت شاہ جھوٹ بولنا برا نہیں سمجھتے تو سب کو اس لئے یقین ہوگیا وہ جھوٹ کے تیر کھائے بیٹھے تھے۔
اب جو بھی مقابلہ ہوگا وہ سیدھا آر ایس ایس سے ہوگا اور امید یہ ہے کہ ہندوئوں کی اکثریت آر ایس ایس کے خلاف جائے گی جس کا ثبوت یہ ہے بہار میں دو لاکھ ورکر سنگھ نے جھونک دیئے تھے جن کا کام صرف ہندوئوں کو اس پر تیار کرنا تھا کہ وہ ووٹ دینے ضرور جائیں اور کمل کا بٹن دبائیں۔ ہم نے سنگھ کے ورکروں کو دیکھا ہے۔ ان کی محنت سے واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ستو چنے گڑ لیّا پر وہ پورا دن گذار دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی معلوم ہے کہ ایک بار تو ان کا جادو اثر کرتا ہے بعد میں حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد سب ایسے ہی دور ہوجاتے ہیں جیسے اٹھارہ مہینے کے بعد پورا ملک مودی اور بابا رام دیو سے دور ہوگیا۔
ہم اپنی طرف سے اپنے اخبار کی طرف سے نتیش کمار اور لالو یادو کو دل سے مبارکباد دے رہے ہیں۔ اس لئے کہ ہم نے اسی دن کے لئے بہار کے الیکشن پر اتنا لکھا جتنا اُترپردیش کے الیکشن پر لکھنا چاہئے تھا۔ مودی صاحب کے وزیر اعظم بننے اور ان کے انقلابی اعلانات سے ہم نے بھی سب کی طرح کچھ توقعات وابستہ کرلی تھیں لیکن پندرہ مہینے کے بعد یہ دیکھ کر کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے اور یہ آج بھی سنگھ کے وہی پرچارک ہیں جو خاکی نیکر کالی ٹوپی اور سفید قمیض میں مخصوص سلوٹ کرتے ہیں تب ہمیں پٹری بدلنا پڑی اور پروردگار کا کرم ہے کہ اس نے لاج بھی رکھ لی اور جو ہوا وہ ہماری صحت کے لئے بہت اچھا ہے۔
فون نمبر: 0522-2622300
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker