مضامین ومقالات

مسجد اقصی : خیالات کا ایک سفر

مفتی محمد نوشاد نوری قاسمی
استاذدار العلوم وقف دیوبند(یوپی)
وہ کالی رات تھی، روشنی کا نام ونشان تک نہ تھا، نومبر کی سرد رات تھی، بستر سے لپٹ کر نیند لانے کی کوشش جاری تھی ، ایک انجانا سا ڈر لگ رہا تھا، ایسا شاید ہی پہلے کبھی ہواتھا، خوف اپنی ذات سے زیادہ ان لوگوں کا تھا، جو انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں ، ایک ایسی ظالم طاقت سے نبرد آزما ہیں ، جو ہرطرح کے جنگی اسباب سے لیس ہے ، اور دنیا کو مٹھی میں کرچکی ہے، دنیا ہر واقعہ کو انہی کی نگاہ سے دیکھتی اور انہی کے کان سے سنتی ہے،وہ جب چاہے دنیا کو کھڑا کردے اور جب چاہے بٹھادے ۔
آہ ! ان پر کیا بیت رہی ہوگی، آہ ! وہ یتیم بچے، آہ ! وہ بیوہ عورتیں ، آہ ! وہ پابند سلاسل مرد میدان، کیا کھا تے ہوں گے ؟ کیا پہنتے ہوں گے؟ اپنے ٹوٹے گھروں کو دیکھ کر ان کے دل میں حسرت ویاس کی کون سی کیفیت پید ا ہوتی ہوگی؟ سردی کی ٹھنڈی رات میں اپنے سرچھپانے کا کون سا سامان و ہ کرتے ہوں گے؟ ابھی کیا وقت ہو رہا ہے ؟ وہاں کیا وقت ہورہا ہوگا؟ کہیں کوئی نیا بم اور نیا میزائیل، ان کا تعاقب تو نہیں کررہا ہے ؟ موت ایک نئی بارات لے کر ، ان کی دہلیز پر دستک دینے کی تیاری تو نہیں کررہی ہے؟
میں انہی خیالات میں گم سم تھا، محسوس ہورہا تھا کہ جیسے میں فلسطین کی سرزمیں سے قریب ہورہاہوں ، دیکھتے ہی دیکھتے ’’قبۃ الصخرۃ‘‘ کی سنہری عمارت نظر آئی،وہی مسجد اقصیٰ کا سنہرا گنبد جو آج بھی اہل دل کے دلوں کا نور اورآنکھوں کاسرور ہے ، میرا دل دھڑکنے لگا، اس نے مجھے پہچان لیا، بدحواسی میں ، میں وادئ مقدس کا ادب ہی بھول گیا، نہ وضو کرسکااور نہ ہی جوتے اتارسکا ، میں نے ہوش وحواس ٹھکانے کیے، اور آداب بجالانے کی تیاری کرنے لگا، کہ ’’قبۃ الصخرۃ‘‘ سے آواز آئی: آہ تم کس ادب کی بات سوچ رہے ہو؟ کتنے غافل ہو؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اس سرزمین کے اقدار بدل گئے ہیں ، پانی کاوضو ، یہا ں جائزہی نہیں ہے ، یہاں تو خون جگر کا وضو ہوتا ہے ، یہ زمینیں جو تمہیں رنگین نظر آر ہی ہیں ، آخر کیوں رنگین ہیں ، یہاں تو خون کی محفلیں جما کرتی ہیں ، خوف وہراس کے سائے میں ، نماز عشق ادا کی جاتی ہے ، یہا ں جانوں کے نذرانے دییے جاتے ہیں ، یہ اب وادئ مقدس کہاں ؟ اجڑے ہوئے کچھ مسلمانوں کا قید خانہ یا یہودیوں کی تفریح گاہ ہے، اس کے محراب اب سجدوں کے نشانات سے نہیں ؛ بلکہ یہودیوں کے رقص وسرود سے آباد ہیں ، اور اور ۔
میں حیرت کی تصویر بن چکاتھا ، ’’قبہ الصخرۃ‘‘ کی زبان کا ایک ایک لفظ ، مجھے نشتر سا محسوس ہورہا تھا، وہ اپنے ہر لفظ میں ایک نئی داستان بتارہا تھا، سالوں سے اس کی زبان بند تھی ، مگر آج کھل گئی تھی، لگ رہا تھا آج وہ سب کچھ کہہ دینا چاہتا ہے ، یہ قبہ دور اموی کی یادگار ہے ، ابو الملوک خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اسے تعمیر کیا تھا، خلفاء بنی امیہ اپنی غیرت وحمیت میں مشہور رہے ہیں ، وہ فصاحت وبلاغت میں بھی، اپنی پہچان رکھتے تھے،اگر تاریخ کی کتابوں سے اس قبہ کی نسبت بنو امیہ کی طرف ثابت نہ ہوتی، تو بھی اس کی فصاحت سے ،میرے نزدیک یہ نسبت ثابت ہو جاتی ۔
میر ی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہوں ،اتنے میں میری نظر قبہ کے نچلے حصہ پر پڑی ، وہا ں کچھ سیاہی کے نشانات تھے، میں نے حیرت سے پوچھا : یہ آپ کے دامن میں سیاہی کا نشان کیسا ہے؟ جھلاکر جواب دیا: کیا پوچھتے ہو؟ آخر کتنے نشانات دکھاؤں ، اور کس کس کی وجہ بتاؤں ؟ یہاں اب رکھا کیا ہے کہ دیکھنے آئے ہو ؟ میں ایک زندہ لاش ہوں ، میری بنیاد کھوکھلی ہوچکی ہے، میرے جسم کا ایک زخم مندمل نہیں ہونے پاتا کہ دوسرا زخم لگادیا جاتا ہے، میری مثال اس جانور کی سی ہے ، قصائی جسے ذبح کرکے ، لکڑ ی پر لٹکادیتا ہے، اور نیچے سے کاٹنا شروع کردیتا ہے، بالآخر پور ے کو ہی کاٹ کر بیچ ڈالتا ہے۔
اب تو وہ کھیل بھی یہا ں شروع ہو گیا جو پہلے کبھی نہیں ہواتھا، میرے اندر آگ لگائی گئی ، اور مسجد اقصی کے کئی دروازوں کو جلانے کی کوشش کی گئی اور اب یہاں اسی طرح آگ وخون کا کھیل چل رہا ہے؛ لیکن یہ سب بھی میں گوارہ کرلیتا، اگر دوسر ے اسلامی مقامات میں امن وسلامتی کا بول بالا ہوتا، یہاں تو میری چاروں طرف آگ لگ رہی ہے ، عراق جل رہا ہے، شام سلگ رہا ہے، یمن میں طوفان بپا ہے، لیبیا میں لوٹ وغارت گری کی حکومت ہے، مصر میں فرعون وقت کشت وخو ن کا دردناک نظارہ پیش کررہا ہے، ایران اپنی مجرمانہ پالیسیوں سے عالم عربی کے نقشے بگاڑنے میں لگاہواہے، حزب اللہ ہوں کہ حوثی ، داعش ہوں کہ نصیری، سب ایک ہی مقصد کے لیے کام کررہے ہیں ، کہ وسیع اسرائیل کا خواب جلد از جلد پورا کردیا جائے، اب بتاؤ کہ اتنے زخم میں کیسے برداشت کروں ، اور یہ قصہء دردسناؤں تو کسے اور کیسے سناؤں ؟
اور ہاں ، یہ پوچھنا تو رہ ہی گیا کہ آخر تمہیں میری فکر کیسے ہوئی ؟ تم ہو کون؟کیا پیرس کا ڈرامہ ختم ہوگیا ؟ کیا دنیا میں کوئی بم نہیں پھٹا؟ اگر ہاں تو پھر یہاں سے جتنی جلد ی ہوسکے ، چلے جاؤ، سواد اعظم کے ساتھ رہو ، اسی میں خیر ہے، یہی شریعت ہے، تم تو جاؤ ، سواد اعظم کے ساتھ پیرس بم دھماکے کا رونا روؤ، ان کا چراغاں کرو، انہیں خراج عقیدت پیش کرو، اس کے قاتل کو تلاش کرو، اس کے خلا ف احتجاج کرو، دہشت گردی کے خلاف عالمی تحریک چلاؤ،سنو! ایک بھی دہشت گرد دنیا میں رہنے نہ پائے۔
اور ہاں یاد رکھنا ، میں نے تمہیں اپنے راز کا محرم بنایا ہے، اسے راز ہی رکھنا ، کسی سے بیان کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے، کہیں کسی کی نیند خراب نہ ہوجائے، کہیں کوئی پریشان نہ ہوجائے، کسی کا مفاد متأثر نہ ہوجائے، ایسی پیاری اور مست نیند ہرقوم کو نصیب کہاں ، یہ تو صرف خیر الأمۃ کا حصہ ہے، اسے سونے دو :
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے
(بصیرت فیچرس)
*مضمون نگار کا رابطہ نمبر:09557908412

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker