مضامین ومقالات

ایک کہانی جو ادھوری ہے ابھی

حرف آگہی:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
انتخاب گذر گیا ، نتائج آگیے، دیوالی سے پہلے دیوالی ہو گئی ، ملک وبیرون ملک میں فرقہ پرستی کے بڑھتے قدم کو روکنے کے لیے بہاریوں کی سیاسی بصیرت کی واہ واہی ہوئی اور پوری دنیا میں فخر سے کہو ’’ہم بہاری ہیں ‘‘کی صدائے باز گشت نے ہمارے سینے کو فخر سے پُھلا دیا ، یہ سب کچھ مسلمانوں کے اس متحدہ ووٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ، جس نے اس معاملے میں اپنے ہم مذہب امید واروں کی بھی پرواہ نہیں کی، نہ چاندافق پر طلوع ہو سکا ، نہ پتنگ اڑ سکی اور نہ سائکل چل سکی ،لالٹین کی روشنی میں انڈین نیشنل کانگریس کے ہاتھ سے تیر نشانے پر جا کر لگا اور کنول کی پنکھڑیاں فضاؤں میں منتشر ہو گئیں، کام محمد اخلاق کے خون نے بھی کیا، اور اس غرور نے بھی جو اپنے اتحادیوں کو بھی منہ لگانے کو تیار نہیں تھا ، ان ڈی اے کے بجائے ’’اب کی بار بھاجپا سرکار‘‘ کے نعروں نے بھی حلیف جماعت کے حامیوں کے کان کھڑے کئے ،’’لوجپا‘‘ اور’’ ہم‘‘ کے قائدین کی آپسی رسہ کشی بھی عظیم اتحاد کے حق میں گئی، رزرویشن پر آر ، اس ، اس سر براہ موہن بھاگوت کا غیر ذمہ دارانہ بیان اور وزیر اعظم کے پاکستان میں پٹاخۃ پھوٹنے اور آتش بازی کے بیان نے دلتوں، مسلمانوں اور سیکولر اقدار پر یقین رکھنے والوں کو متحد کر دیا اور اس کا سیدھا فائدہ سیکولر امید وار وں کو پہونچا لالٹین کی تیز روشنی نے الکٹرک کے اس دور میں بھی آنکھوں کو چکا چوند کر دیا ، دستور کی حفاظت کے خیال نے بھی رائے دہندگان کے رخ کو عظیم اتحاد کی طرف موڑا ، حقائق کچھ اور بھی ہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں نے عموما اور ہندوستانی مسلمانوں نے خصوصا نالۂ نیم شبی اور آہ سحر گاہی کا بھی اہتمام کیا ، نتائج آنے شروع ہوئے تو سیکولر اقدار پر یقین رکھنے والوں کے چہرے پژمردہ تھے، اور دیکھتے دیکھتے پانسہ پلٹااور ایسا پلٹاکہ اکزٹ پول والوں کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گیے ، بی جے پی کو ایک سوپچپن سٹ دینے والے نے بھی منہہ کی کھائی اور پچاسی سیٹ دینے والوں نے بھی مہہ چھپانے ہی میں عافیت محسوس کی ، میں نے اپنی زندگی میں کسی انتخاب کے نتیجے پر پورے ہندوستان میں اس طرح خوشی کی لہر محسوس نہیں کی ، انتخاب ایک ریاست کا اور جشن پورے ملک میں ، میں اس دن کیونجھر اڑیسہ کے شہر جوڑا میں تھا ، مٹھائیاں اس طرح تقسیم ہو رہی تھیں؛ جیسے کوئی اہم تہوار ہو، پٹاخے اس طرح پھوٹ رہے تھے؛ جیسے دیوالی آج ہی آگئی ہو ، پورا ملک مسرور ، شاداں وفرحاں تھا؛ کیونکہ اس ملک کی جمہوری اور سیکولر اقدار کی حفاظت کا بڑا کام بہار یوں نے کر دکھایا تھا ، جو پیغام یہاں سے دیا گیا ہے، وہ سارے ہندوستان کو مل گیا ہے اور جوطریقہ کار اختیار کیا گیا، اس نے سارے ملک کی راہ نمائی کردی ہے، دیکھنا ہے اس کے اثرات کہاں کہاں پڑتے ہیں، اتر پردیش، آسام، بنگال وغیرہ میں فرقہ پرست طاقتوں کو دھول چٹانے کے منصوبے کس طرح رو بعمل لائے جاتے ہیں؛ اس لئے کہ یہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ اشارے کچھ ایسے مل رہے ہیں کہ یہ لڑائی تیز سے تیز تر ہوگی، باطل اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس ملک کے سارے نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے حملہ آور ہو گا جس کا آغاز ٹیپو سلطان سے متعلق تقریب کی مخالفت کے ساتھ ہو چکا ہے، یونی فارم سول کوڈ اور مطلقہ عورتوں کے حوالہ سے فاضل ججوں کے ریمارک آنے لگے ہیں، اور فضا بنائی جا رہی ہے کہ پھر سے اقلیتوں کے پرسنل لا کو ختم کرنے کی مہم چھیڑی جائے، فرقہ پرست طاقتیں اسے دستوری سے زیادہ غیر دستوری انداز میں لڑنے کی کوشش کر یں گی ، ایسے میں ہماری حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ ہم انہیں دستوری لڑائی لڑنے پر آمادہ کریں اور واضح کر دیں کہ دستور میں دیے گیے اقلیتوں کے حقوق سے چھیڑ چھاڑ نہ کیا جائے اور بتادیا جائے کہ دنیا کی بڑی جنگیں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان نہیں، ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے درمیان لڑی گئی، مسلم دور حکومت میں بھی کئی لڑائیاں آپس میں لڑی گئیں اس لیے یونیفارم سول کوڈ مسئلہ کا حل نہیں ؛ بلکہ یہ خود مسئلہ پیدا کرنے والی چیز ہے ؛اس لیے اس سے ہر حال میںگریز کرنا چاہیے۔
اس انتخاب کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ رائے دہندگان نے ووٹ کٹوا امیدار وں کو باہر کی راہ دکھادی ہے اور لالو جی کے دونوں بیٹوں کی کامیابی کے علاوہ بھائی بھتیجہ واد کے نام پر ٹکٹ دینے والوں کو بھی سبق سکھا دیا ہے، یہ جمہوریت کے لیے ا چھی علامت ہے، اور ہمیں اس کو سراہنا چاہیے۔ عظیم اتحاد کی جیت اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہے، اور اب لوگ دھیرے دھیرے اس موضوع پر سوچنے لگے ہیں کہ کیا مسلمان کے ساتھ نتیش جی کے اس پانچویں دور میں انصاف ہو سکے گا ، قبل اس کے کہ امید کی ڈور ٹوٹنے لگے، حکومت کو چاہیے کہ پہلی فرصت میںا ن تمام کاموں کو جو مسلمان ، زبان اور مدارس اسلامیہ کے حوالہ سے تعطل کا شکار رہے ہیں اور جنہیں عدالتوں کی آڑ میں لٹکایا جا تا رہا ہے، اسے فورا رو بعمل لایا جائے، ٹی ای ٹی کے کامیاب امید واروں کو فوری طور پر بحال کرنا چاہیے اور عدالتی رکاوٹوں کو دور کر نا چاہیے ؛اسی طرح مدارس اسلامیہ کا معاملہ ہے ، نیے مدرسوںکی منظوری تو دی جا چکی ہے ، نوٹی فکیشن ہو چکا ہے؛ لیکن ان کی تنخواہوں کی ا دائیگی ضابطہ ٔ اخلاق کے نفاذ کی وجہ سے تعطل میں چلا گیا تھا ، اسے فورا جاری کرنا چاہیے ، ٹھیکہ پر بحال اسا تذہ کی تنخواہیں اسکیل کے زمرے میں لائی جا چکی ہیں اور تین ماہ کی ان کی تنخواہ کی ادائیگی بھی ہو گئی ہے ؛لیکن نئے منظور شدہ مدارس کے اساتذہ کے تنخواہ کی ادائیگی اب بھی نہیں ہو سکی ہے؛ بلکہ یہاں تو بڑی تعداد میں ایسے اساتذہ قدیم ہیں جن کی بحالی کا اشتہار اسکیل پرہوا تھا ، اسکیل کے مطابق ان کی تنخواہیں ملی بھی تھیں، انہیں بعد میں ٹھیکہ پر کر دیا گیا ، ضرورت ہے کہ ایسے تمام اساتذہ ہی نہیں؛ بلکہ مدارس کے اساتذہ کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے اور تمام لوگوں کی بحالی کو اسکیل کے تحت لے آیا جائے ؛ کیونکہ انصاف کا یہی تقاضہ ہے اور یہ حکومت انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے بلند بانگ نعروں کے ساتھ وجود میں آئی ہے، ہرہائی اسکول میں ایک اردو استاذ کی تقرری کا خواب بھی بہت پہلے سے دکھایا جاتا رہا ہے ، تعبیراب تک نہیں ملی، اوقاف کی جائدادوں کو غیر قانونی قبضے سے خالی کرانا بھی ایک بڑا کام ہے ،اس سے اعتماد ویقین کی فضا قائم ہوگی ، اور اچھا پیغام جائے گا ، اوپن ڈسٹنس لرننگ (ODL)کے پانچ سو دس اساتذہ کا رزلٹ صرف اس لیے پینڈنگ میں ہے کہ انہوں نے ہندی کاشکھن شاستر کی کاپی اردو زبان میں لکھ دیا تھا ، افسران ان کی کچھ سننے کو تیار نہیں ہیں اور چوتھا سمسٹر شروع ہو چکا ہے، ان حضرات کو داخلہ سے روک دیا گیا ہے، اگر اسے ہندی میں ہی لکھنا لازم تھا تو اس کی صراحت ہدایات میں ہونی چاہیے ،نئی حکومت سے ان اساتذہ نے بھی توقعات لگا رکھے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل ہو کر رہے گا۔توقعات اور امیدوں کی فہرست بہت طویل ہے اور یقینا ان کی تکمیل بہت آسان نہیں ہے؛ لیکن حکومت چاہ لے تو یہ چند روز میں کر سکتی ہے، موانعات اور رکاوٹیں دور کرنا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بہت کھل کر اور سوچ سمجھ کر یہ باتیں کہی گئی ہیں، ہم جیسے لوگ جن کا اصل کام صحافت اور مضمون نگاری کے ذریعہ عظیم اتحاد کے حق میں رائے عامہ پیدا کرنا تھا ، و ہ کر چکے اور کامیابی نے قدم چوم لیے، اب حکومت کی باری ہے اور گیند اس کے پالے میں ہے، دیکھنا ہے عوام کی توقعات کس طرح پوری ہوتی ہیں، عوام کا حافظہ پہلے کبھی کمزور رہا ہو ، لیکن ا ب بہت قوی ہے اور اسے انتخابی منشور اور انتخابی مہم کے دوران کیے گیے سب وعدے یاد ہیں، اور ہم سب جانتے ہیں کہ وعدوں کے سہارے بہت دیر تک زندہ نہیں رہا جاسکتا ۔(بصیرت فیچرس)
*مضمون نگار مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ کے نائب ناظم اور وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ کے ناظم ہیں-

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker