ہندوستان

اسکول ومدارس کے مدرسین کوڈی ایل کورس کی جوابی کارروائی اردو میں لکھنے کی اجازت

دربھنگہ۔ ۶؍فروری: (رفیع ساگر) ریاست کے اسکول ومدارس میں تعلیمی خدمات انجام دے رہے ان ٹرینڈ ٹیچروں کو این آئی او ایس سے کرائے جارہے ڈی ایل ایڈ کورس کی جوابی کاپی یا اسائمنٹ اردو میں لکھنے میں کوئی دقت درپیش نہیں ہوگی بلکہ ٹریننگ کر رہے ٹیچروں کو اردو زبان میں بھی جوابی کاپیاں لکھنے کی اجازت ہو گی۔ قابل ذکر ہے این آئی او ایس نے یہ وضاحت اسکول کے ایک ٹیچر کی جانب سے ادرو میں کاپی لکھنے سے متعلق مانگی گئی آر ٹی آئی کے جواب میں پہلے ہی کرچکی ہے۔حالانکہ این آئی او ایس کے ویب سائٹ پر اردو مواد موجود نہیں ہے اس پر موجود انگریزی اور ہندی کے مواد کا اردو ترجمہ کرکے بازاروں میں کئی طرح کے گائڈس موجود ہیں جس کے مطالعہ سے امیدواروں کو رہنمائی مل سکتی ہے۔پہلے تو امیدوار کشمکش میں مبتلا تھے لیکن آر ٹی آئی میں اردو سمیت دیگر علاقائی زبان میں امتحان دے سکنے کی اجازت ملنے پر اردو امیدواروں میں سکون واطمینان کا ماحول ہے وہیں علاقہ کی علمی برادری نے اس فیصلے کو اردو کے تئیں ایماندارانہ رویہ سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے اس سے اردوں داں طبقہ کو ایک خاص قسم کا اطمینان حاصل ہوگا اب اردو داں طبقہ کو کسی بھی طرح کی تشویش میں مبتلا ہونے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے کہا کہ اردو ایک ایسی زبان ہے جس نے ہمیشہ اپنی میٹھی بول چال سے اس ملک کی تعمیر وترقی اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت میں مثالی کردار ادا کیا ہے اس لئے این آئی او ایس کے ذریعہ ڈپلومہ ان الیمینٹری ایجوکیشن میں اردو کو شامل رکھنے کے فیصلہ کو میں خوش آئند مانتا ہوں اور ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ اس فیصلے سے اردو داں طبقہ میں ایک نئے جوش و ولولہ کے ساتھ خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے ساتھ بھلے ہی سیاسی سطح پر ملک بھر میں دوہرا رویہ اپنایا جاتا رہا ہو مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب تک اردو بولنے لکھنے اور سمجھنے والے لوگ ہندوستان کی سر زمین پر موجود رہیں گے ان کے ارادوں کو تقویت نہیں ملے گی۔ مولانا فیضی نے کہا کہ جو لوگ ٹرینگ کر رہے انہیں کسی بھی طرح کے احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی بجائے مکمل خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر نی چاہئے کیونکہ اردو زندہ قوموں کی زبان ہے اور اسے ہماری کوششیں ہی زندہ رکھ سکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو طلبہ اردو سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور جو اسکول ومدارس میں اردو کی تعلیم دے کر اس زبان کو زندگی کی نئی سمت پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ان کے لئے بلاشبہ فکر مندی کی بات تھی اور اگر ان کے لئے اردو میں پیپر لکھنے کی اجازت نہ ہوتی تو دشواریاں بڑھ جاتیں مگر این آئی او ایس کی وضاحت سے سارے مسئلے کا حل نکل چکا ہے جس پر مسرت کا اظہار ایک فطری بات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker