خواتین واطفالگوشہ خواتین

پیار گر سچا ہو بھرم رکھ لیتا ہے!!

شرف الدین عبدالرحمن تیمی،مدھوبنی
فہد جس کی عمر تقریبا 14 سال تھی اسے اپنے ہی کلاس میٹ’’آشنا‘‘نامی لڑکی سے پیار ہوجاتا ہے—–فہد کو اپنے پیار کا اظہار کرنے میں ایک چیز مانند دیوار بن کر حائل تھی کہ’’آشنا‘‘ کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا—–’’آشنا‘‘کی خوبصورت ادا،زلف وکاکول،رسیلے ہونٹ،پتلی کمر اور چھریرا بدن کی لچک رہ رہ کر آنکھوں کے سامنے گردش کر رہی تھی، لیکن پھر وہی غربت محبت کے اظہار میں آڑے آرہی تھی—–فہد اور ’’آشنا‘‘ کی محبت مزید پروان چڑھتی گئی—-ادھر فہد کی غربت اور ادھر آشنا کی امیرانہ روش ایک دوسرے سے اظہار محبت کی اجازت نہیں دے رہی تھی—–فہد کی محبت میں گرفتار آشابھی سوچ سوچ کر پریشان تھی کہ کوئ سبیل نکل آئے—–کیوں کہ اسکول کی چھٹی عنقریب ہونے ہی والی تھی—–اسکول کا آخری دن تھا—–فہد امید کا دامن تھامے ہوئے بستہ لیکر اسکول کے لئے روانہ ہوتا ہے—–راستہ چلتے چلتے اچانک فہد کی نظر سڑک پر گری ایک خوبصورت تصویر پر پڑتی ہے فہد فورا دوڑتا ہوا اس تصویر کو اٹھا کر جب غور سے دیکھتا ہے تو وہ تصویر آشنا کی ہوتی ہے فہد فورا اسے سینے سے لگا کر خوشی کے مارے رو پڑتا ہے اور اس تصویر کو بطور یادگار محفوظ کر لیتا ہے——بدلتے ایام کے ساتھ ساتھ فہد بڑا ہو کر بھی آشنا کی تلاش وجستجو میں لگا رہتا ہے لیکن تلاش بسیار کے بعد بھی وہ ہاتھ نہیں لگتی ہے——کچھ دنوں بعد فہد کی شادی ایک نہایت ہی حسین وجمیل لڑکی سے ہوجاتی ہے—–شادی ہوجانے کے باوجود فہد کی آنکھوں کا تارا،دل کا سرور اور بے پناہ محبتوں کا مرکز”آشنا”کو چاہ کر بھی بھلا نہیں پاتا ہے——ایک دن فہد ماضی کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے اپنے بیگ میں رکھی ہوئ آشنا کی اس خوبصورت تصویر کو نکال کر بڑی حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا تھا——دریں اثنا رفیق حیات کی آمد ہوئ اور پوچھا شوہر نامدار یہ کون لڑکی ہے؟؟اور یہ تصویر آپ کو کہاں سے ملی ہے؟؟شوہر نامدار نے اپنی شریک حیات سے کہتا ہے—–کیا تم اسے پہچانتی ہو؟؟بیوی نے کہا یہ تو میری ہی بچپن کی تصویر ہے——شوہر نامدار ہنستے ہوئے یہ تمہاری تصویر ہے——-جی ہاں یہ میری تصویر ہے——ہوا کچھ یوں کہ میں اسکول میں ایک لڑکے سے بہت پیار کرتی تھی اور اسے یہ تصویر دینے کے لئے اسکول لے جارہی تھی لیکن وہ تصویر میرے بستے سے کہیں راستے میں کھو گئ—–لگتا ہے کہ شاید یہ میرا پیار اللہ کو منظور نہیں تھا——شوہر نامدار نے اس لڑکے کا نام پوچھا اور کہا کہ کیا آج بھی تم اس لڑکے سے پیار کرتی ہو؟؟رفیق حیات نے نام بتاتے ہوئے کہا کہ ہاں——اب بھی میں ان کے علاوہ کسی اور سے پیار نہیں کرتی——شوہر نامدار جب نام سنا تو روتے ہوئے اپنے بچپن کی تصویر نکالا اور رفیق حیات کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا وہ یہی لڑکا ہے؟؟رفیق حیات نے کہا کیا وہ لڑکے آپ ہی ہیں؟شوہر نامدار نے سر ہلاتے ہوئے ہاں——پھر دونوں ایک دوسرے کا گلا پکڑ پڑتا ہے اور ایک سچا عاشق اور پیار کرنے والوں کو یہ محبت بھرا پیغام دیتے ہیں کہ’’پیار گر سچا ہو بھرم رکھ لیتا ہے‘‘۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker