مضامین ومقالات

مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ؟!

مولانا اسرار الحق قاسمی
بہار کے اسمبلی انتخابات میںبھارتیہ جنتا پارٹی کی شرمناک شکست کے بعد جب وزیر اعظم نریندر مودی اپنا غم غلط کرنے کے لئے لندن روانہ ہونے والے تھے‘ اس سے عین ایک دن قبل پارٹی کے چند بزرگ سیاستداںحاشیہ سے ابھر کر اچانک سرگرم نظر آئے۔مرلی منوہر جوشی‘ یشونت سنہا ‘شانتا کماراور خاص طورسے کسی زمانے میں پارٹی کے روح رواںسمجھے جانے والے لال کرشن اڈوانی نے‘جو گزشتہ کئی سال سے متروک سکہ کی طرح اپنی کھنک اور چمک سے محروم ہو چکے ہیں اور پارٹی کی نو مولود بزم کے دستور زباں بندی کے سبب خاموشی کی ردا اوڑھے محرومی اقتدار کی سزا کاٹ رہے ہیں‘اپنی زبانیں کھولیں اور مودی اور امیت شاہ کی بالادستی کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ بہار میں زعفرانی پارٹی کو شکست سے اسلئے دوچار ہونا پڑا کہ دہلی کی ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ان لیڈروں کے ساتھ ساتھ بہار سے تعلق رکھنے والے کئی ممبران پارلیمنٹ بشمول بھولا سنگھ ‘ شتروگھن سنہا نے بھی پارٹی کے ذریعہ یکسر نظر انداز کئے جانے اور انتخابی مہم سے متعلق تمام معاملات محض مودی اور شاہ کی جوڑی کی مٹھی میں بند رکھنے کا رونا رویا۔
یہ تو خیر ان کے دل کی بھڑاس تھی اور پارٹی میںبے وقعتی کا درد تھاجو ایک مناسب موقع پر چھلک گیا تھا۔ لیکن میرے خیال سے بہار کی کراری شکست کی سب سے بڑی وجہ بی جے پی کی حکومت اور اسکے لیڈروں کا ملک کی اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کے تئیںعدم تحمل اور عدم برداشت کا روز بروز بڑھتا ہوا وہ رویہ تھا جسکے نتیجے میں شر پسند ہندوئوں کے ایک ہجوم نے گائے کا گوشت کھانے کی محض افواہ کی بنیاد پر دادری میں ایک مسلمان شخص محمد اخلاق کو پیٹ پیٹ کر ہلاک اور اسکے نوجوان بیٹے کو ادھمرا کر دیا تھا۔اس شکست کے بعد بھی بی جے پی لیڈران اور اس سے بھی بڑھکر بی جے پی کے مقرر کردہ ریاستی گورنروں کے عدم رواداری کو ہوا دینے والے ایسے شرمناک بیانات سامنے آرہے ہیں جن کی روشنی میں پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ بہار میںشکست کی اس سب سے بڑی وجہ سے حکمراںبی جے پی نے واقعی کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے اورمسلمانوں کے خلاف وہ تمام نفرت انگیز حرکتیں اسی شدت کے ساتھ جاری ہیں جنہیں اس پارٹی کے رہنمائوںاور وفاداروں نے اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر پی بی آچاریہ‘ جو 2014 میں مرکز میں این ڈی اے حکومت قائم ہونے کے بعد آسام کے گورنر بنائے گئے ہیں‘گزشتہ ہفتے ایک کتاب کی رسم اجرا کی تقریب میں ایسی گفتگو کرنے لگے جو یقینی طور پر نہ صرف نفرت پھیلانے کے زمرے میں شمار ہوتی ہے بلکہ گورنر جیسے جلیل القدر آئینی عہدے کے وقار اور مریادا کے بھی یکسر خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان صرف ہندوئوں کے لئے ہے‘‘ اور ’’ہندوستان کے مسلمان پاکستان جانے کے لئے آزاد ہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ ایسا کہ کر انہوں نے بی جے پی‘ آر ایس ایس اور اس قبیل کی دوسری تنظیموں اور جماعتوں سے اپنی پرانی وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے نظریہ کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے جس کے مطابق پندوستان کا ہر شہری جو ہندو نہیں ہے اگر ہندوستان میں رہناچاہتا ہے تویا تواسے ہندو بننا ہوگا یا دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا ہوگا۔ جبکہ ملک کا آئین ملک کے تما شہریوں کو مساوی درجہ عطا کرتاہے خواہ وہ ہندو ہوں مسلمان یا سکھ یا عیسائی ؛ اور سب کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دیتاہے‘ اپنے مذہب اور کلچر کے فروغ کے لئے تعلیمی وثقافتی ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے کی آزادی بھی دیتاہے۔
گورنر ماضی میں خواہ کسی بھی پارٹی سے وابستہ رہا ہو لیکن جیسے ہی وہ اس آئینی عہدے کی حلف لیتا ہے‘ اسے جانبداری سے کام لینا پڑتا ہے اور حکومت کوئی آئین مخالف عمل کرے تو وہ اس کی گرفت کرتا ہے۔ آئین پر عمل آوری کو یقینی بنانا ہی گورنر کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن اس کو کیا کہا جائے کہ آسام کے گورنر نے اپنے عہدے کی تمامتر مریادا کو توڑتے ہوئے ایسی بات کہ ڈالی جو سراسر آئین کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے‘ ہندوئوں اور مسلمانوں کے بیچ دشمنی پیدا کرنے والی بات کہ کر گورنر موصوف نے خود کو خود کو یوگی آدتیہ ناتھ‘ ساکشی مہاراج ‘ سادھی پراچی‘ پروین بھائی توگاڑیہ‘ سنگیت سوم ‘ گری راج سنگھ جیسے زہریلے لیڈروں کی صف میں شامل کر لیا ہے جن کی زبان مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے لئے ہی کھلتی ہے اور جو بار بار مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کے غیر آئینی‘ غیر مطلوب ‘ غیر ضروری‘نا قابل عمل‘ مہمل اور ناقص مشورے سے نوازتے رہتے ہیںاور ہر اس کوشش میں پیش پیش رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو اور ملک کے دوسرے طبقات میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات کی پرورش ہو۔
گورنر آچاریہ اکیلے نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے اس قماش کے دوسرے گورنر بھی ملک میں موجود ہیں جو مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اورزہر افشانی کرتے رہتے ہیں۔ اسی نومبر ماہ میں تریپورہ کے گورنر تتھاگت رائے نے ‘جو پہلے مغربی بنگال بی جے پی کے صدر تھے‘ ایسا بے تکا بیان دیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے فرمایاتھا کہ ملک میں عدم رواداری پر جاری بحث اسی وقت متوازن ہو سکتی ہے جب مسلمان عوامی طور پر خنزیر کا گوشت کھانا شروع کردیں۔ رائے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کے لئے خاصے بدنام رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی فسطائی ذہنیت کا ثبوت اس وقت دیا تھا جب ممبئی دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کی پھانسی کے بعد اسکی نماز جنازہ میں شامل تمام لوگ( مسلمان )انہیں ممکنہ دہشت گردنظر آنے لگے تھے اور انہوںنے سکیورٹی ایجنسیوں کو ان پر نگاہ رکھنے کے مشورے سے بھی نواز دیا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی اپنے اس بیان پر ہٹ دھرمی سے قائم رہتے ہوئے انہوں نے مزید کہا تھا کہ’’ عوامی مفادات سے متعلق معاملات کو عوام کے روبرو لانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔‘‘ سیکولر حلقوں نے بجا طور پر یہ محسوس کرتے ہوئے کہ گورنر رائے کھلے طور پر مسلم کمیونٹی کو ٹارگٹ کرر ہے ہیں‘ انکے بیان کی شدید مذمت کی تھی۔ اس سے پہلے بھی مسٹر رائے الگ الگ موقعوں پر اپنے متنازعہ ٹویٹ سے اپنی مسلم مخالف ذہنیت آشکار کرتے رہے ہیں۔ مثلاٰ ایک ٹویٹ میں انہوں نے گجرات فسادات کے دوران ہندوئوںکی کارستانی (مسلمانوں کے قتل عام) پراپنی بے پایاں خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ایک اور موقع پر انہوں نے ٹویٹ کر کے لو جہاد کا ایشو اٹھانے کے لئے اتر پردیش بی جے پی کو مبارکباد پیش کی تھی اور کہا تھا کہ ہندو لڑکیوں کو بچانے کے لئے مغربی بنگال بی جے پی بھی ایسا ہی قدم اٹھائے گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت آئین کی دھجیاں اڑانے والے ان گورنروں کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی یا انہیں برطرف کرے گی اسکی امید نہیں کی جا سکتی کیوںکہ آچاریہ اور رائے جیسے وفادار بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہی نظریہ کو فروغ دے رہے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہیکہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی اور اشتعال انگیزی پھیلانے والے وائرس ہندوتوا لیڈروں ‘ اراکین پارلیمنٹ اور وزیروں سے بھی آگے نکل کر غیر جانبدار سمجھے جانے والے اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز گورنروں تک پھیل چکے ہیں اور پورے ملک کو آلودہ کر رہے ہیں۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی اس سے فکرمند ہیں اور کئی موقعوں پر انہوں نے عدم رواداری کے فروغ پر اپنی بے چینی اور تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن اب حالات شاید کسی ٹھوس کارروائی کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ گورنرکا تقرر ‘ تبادلہ اور بر طرفی پورے طور پر صدر کی پسند اور رضا پر منحصر ہے۔ صدرگورنر آچاریہ اور رائے کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھا کر پورے ملک کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنے ہی بڑے عہدے پر ہو ‘ ملک کے آئین سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
(مضمون نگار ممبرپارلیمنٹ اور آل انڈیاتعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے صدرہیں)
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker