مضامین ومقالات

بابری مسجد کی جگہ رام مندر کتنے بھولے ہیں مولانا سید سلمان الحسینی ندوی

خبر پر نظر ؍شکیل رشید
ایڈیٹر ممبئی اردونیوز * سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن
یہ تو پتہ تھا کہ شری شری روی شنکر ’عالمی دلال‘ہیں..
یہ بھی پتہ تھاکہ سنگھ پریوار کے جو مختلف طرح اور مختلف انداز کے ہزار ہاتھ ہیں ان ہی میں سے ایک ہاتھ شری شری روی شنکر بھی ہیں۔جیسے ایک واچپئی کے ساتھ ایک اڈوانی ضروری تھے۔ یا ایک مودی کے ساتھ جیسے کہ ایک راج ناتھ سنگھ ضروری ہیں۔ اسی طرح کسی سادھوی ، پراچی،ساکشی مہاراج اور ونئےکٹیار جیسے سخت گیر کے ساتھ سنگھ پریوار کے معتدل چہرے کو اجاگر کرنے کے لیےایک شری شری روی شنکر بھی ضروری ہیں۔ کام سب کے ایک ہیں، ہندو راشٹر کاقیام اور ہندو توا کے ایجنڈے کا فرو ع ۔ یہ بھی پتہ تھاکہ شری شری روی شنکر دنیا بھر میں گھوم کر ’قیام امن‘ کےلیے کو شش کرتے بلکہ بین الممالک مسائل حل کراتے ہیں ۔ مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ ان میںایسی ’صفت‘یا ایسا ’کرشمہ‘ بھی ہےکہ عالم اسلام کی ایک نہایت ہی مقتدر اور بے باک ہستی بھی ان کے اثر میں آسکتی ہے۔ اور اثر بھی ایساکہ جو کچھ کہا اس سے وہ نہ کسی حال میں ییچھے ہٹنے کےلیے تیا ر ہے اور نہ ہی اپنی کہی ہوئی بات کو بے وقت کی راگنی ماننے کو آمادہ ۔ ذکر حضر ت مولانا سید سلمان الحسینی ندوی کاہے۔ شری شری روی شنکر کے ساتھ ان کا ذکر اس لیے کہ ان دونو ں کی ایک ملاقات ان دنوں مسلم حلقوں میں ہی نہیں غیر مسلم حلقوں میںبھی اور ’مودی نواز میڈیا‘میں بھی مو ضوع بحث بنی ہوئی ہے۔۔۔ اسے موضوع بحث بننا ہی تھا کیونکہ شری شری جی اور ندوی صاحب ان دونوں نے مل بیٹھ کر ایک قدیم مسئلے ۔۔۔بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازعہ ۔۔۔کا ’حل‘نکالنےکی کو شش ہی نہیںکی ’حل‘ تقریباً نکال لیاہے۔اب یہ اور بات ہےکہ جسے یہ دونوں ’حل ‘ سمجھ رہے ہیں اسے دوسرے’حل‘ نہ سمجھیں۔
حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندوی کی زبانی جو بھی ’حل‘ ہے وہ سن لیں:
’’ بابری مسجد پہلے بھی ویران تھی، مسلم محلے میں ستر اسی ایکٹر زمین ہمیں دے دی جائے، ہم مسلمان وہاں ذوق وشوق سے ایک شاندار مسجد کی تعمیر کریں گے ، اس کا نام ’مسجد الاسلام‘رکھیں گے ،بابری مسجد کی جگہ پر آپ نے مندر بناہی رکھا ہے چاہیں تو اسے اوربہتر بنالیں،وہ مندر کی جگہ ہوگی۔ اسلام کے چار مسالک میں سے ایک فقہہ حنبلی میں اس بات کی گنجائش ہےکہ ضرورت کےپیش نظر مسجد کی جگہ تبدیل کی جاسکتی ہے ۔ رام ایک قابل احترام شخصیت کا نام ہے، ان کے نام پر عمارت بنتی ہے تو ہم مسلمانوں کو خوشی ہوگی ،رام مندر میں بھی ایک ایشور کی پوجا ہوگی اور ہم مسلمان بھی ایک ہی ایشور کے قائل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ بابری مسجد کی اراضی رام مندر کو سوپننے کے لیے ہماری جدوجہد ساری دنیا تک پہنچے ،امریکہ اور یوروپ کے لوگ بھی اسے جان لیں،سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو بھی ہماری اس عظیم کوشش کی خبر مل جائے اور پھر ہم آخری ملاقات وزیر اعظم نریندر مودی سے کریں گے، انہیں تفصیلات سے آگاہ کریں گے کہ جو کام برسوں میںنہیںہوسکا اسے ہم نے انسانیت کے علمبر دار شری شری روی شنکر کی قیادت میں حل کرلیا ہے۔‘‘
لیکن بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے لیے حوالے کرنا چند شرطوں پر ہو گا ۔ مولانا سلمان الحسینی ندوی کے الفاظ میں ’’ اس سودے کے عوض ہم ایک معاہدہ نامہ بھی بنائیں گے جس میںیہ وضاحت ہوگی کہ اب آئندہ ہماری کسی مسجد ،درگاہ،قبرستان اور مدرسہ پر قبضہ نہیں کیاجائے گا ،قصورواروں کو سزا دینے کی بھی بات کی جائے گی اور مسلمانو ں کے لیے ایک یونیو رسٹی کے قیام کا بھی وعدہ ہوگا کیو نکہ ہم مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔‘‘
مولانا محترم کی تجویز پر کوئی تنقید نہیںکرنی ہے بس یہ کہناہے ’’ کتنے بھولے ہیں مولانا سید سلمان الحسینی ندوی کہ ان عناصر سے جن کے ایجنڈے میں سرفہرست ہندوتوا کا فروغ اور ملک کو ’ہندو راشٹر‘میں تبدیل کرنا ہے ، امید لگا ئے بیٹھے ہیںکہ وہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے لیے سونپے جانے کے بعد کرشن جنم استھان یعنی متھر ا کی شاہی مسجد اور وارنسی کی گیان واپی مسجد ، جسےشیو مندر قرار دیا جارہا ہے، بھول جائیںگے اور ملک میں کسی بھی مسجد ،درگاہ،قبرستان پر برُی نظر نہیں ڈالیں گے ۔‘‘ مولانا کیسے بھولے ہیںکہ انہیں یہ توقع ہے کہ مسلمانوں کو یو نیورسٹی کے لیے جگہ فراہم کی جائے گی تاکہ تعلیمی میدان میںان کا جو پچھڑا پن ہے وہ دور ہوسکے ،حالانکہ ان کی نظروں کے سامنےمسلمانوں کی دویو نیو رسٹیاں ،علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ہیں جنہیں ہڑپنے کی ہر ممکنہ تیا ر یاں کرلی گئی ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ایک سرسید احمد خان نے بنوائی اور دوسری کے لیے شیخ الہند ؒ اور ڈاکٹر ذاکر حسین نے محنت کی ۔ مسلمانو ں کے روپئے سے مسلمانوں کی زمینوں پر بنی ہوئی یہ یو نیورسٹیاں فرقہ پرستوں کو کھٹک رہی ہیں اور مولانا محترم ایک نئی یو نیو رسٹی کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔یقیناً مولانامحترم کو مسلمانوں کی جان ومال کی فکر ہے، وہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں مسلمان تباہ ہوں، وہ چاہتے ہیں کہ بھائی چارہ کی فضا بننے تاکہ مسلمان ترقی کریں۔ ہم مولانا سید سلمان الحسینی کے اس جذبے کی قد رکرتے ہیں اور سمجھتے ہیںکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی ان کی تجویز مسلمانوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہی ہے۔ ان پر شک وشبہہ نہیں ہے ۔پر ان کے بھولے پن پر کچھ ہنسی آرہی ہے اور کچھ غصہ بھی۔ مسلمان تو یہاں بار بار اجاڑا گیا ہے، تو کیا آئندہ نہ اجڑنےکے لیے وہ اپنی عبادت گاہو ں کا سودا کرنا شروع کردے؟اور کیا واقعی اگر کوئی معاہدہ ہوا ،کوئی ڈیل ہوئی تو مسلمان آئندہ اجاڑا نہیں جائے گا ؟کیا مو دی سے ملاقات مسئلے کا حل ہے؟ اور کیا واقعی بابری مسجد کے قصورواروں کو سز دی جائے گی؟آج تو مظفر نگر اوریوپی کے قصور وار چھوڑے جارہے ہیں۔ گجرات اور گورکھپور کے قصوروار راج کررہے ہیں!کیا سنگھ پریو ار کا ’ایجنڈا‘ دریا برد کردیا جائے گا ؟ کیا وہ ’شدت پسند‘ جو ملک کو ’ہندو راشٹر ‘ میں تبدیل کرنے سے کم کسی اور بات پر راضی نہیں ہیں اس سودے سے بہل جائیں گے؟یہ مسئلہ انتا آسان نہیںہے۔ اور اب جبکہ سپریم کورٹ میں آخری سماعت شروع ہوچکی ہے تو مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگیاہے۔ اب حل صرف ایک ہے، مولانا محترم اگرچاہتے ہیںکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کےلیے دے دی جائے تووہ شری شری روی شنکر کے ساتھ جاکر جج صاحبان سے ملیں اور کہیں کہ فیصلہ رام مندر کے نام پر کردیا جائے۔ اور اگر یہ وہ نہیں کرسکتے تو بیٹھیں،عدالتی فیصلے کا انتظار کریں ۔ ہاں وہ یہ کوشش کرسکتےہیںکہ فریقین سےملیں اور ان پر زور دیںکہ عدالتی فیصلہ چاہے تمہارے خلاف ہی کیوں نہ آئے، اسے قبول کریں کہ یہی انصاف ہے۔ کیا مولانا سید سلمان الحسینی ،مودی جی اور سنگھی لیڈروں کو اس بات کےلیے قائل کریں گے؟
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker