طب وسائنسمضامین ومقالات

حجامہ: لوگوں کے شبہات

طبیب کے جوابات
ڈاکٹر حافظ عبد المالک
اقصیٰ یونانی دواخانہ
السلام علیکم: لوگ سوال کرتے ہیں حجامہ کے تعلق سے، کہ حجامہ کیا ہے؟ حجامہ کب، کیوں اور کس مرض میں کروایں، اور حجامہ کے فائدے کیا ہیں وغیرہ وغیرہ،اس لیے میں نے یہ محسوس کیا کے حجامہ کے تعلق سے لوگوں کے شبہات کے عام فہم جواب دئے جائیں۔
حجامہ کے معنی کیا ہے؟
سینگی لگانا، پچھنا لگانا، بعض اطباء حجامہ کے معنی صفائی یا درستگی کے بھی لیتے ہیں۔
حجامہ کیا ہے؟
حجامہ ایک قدیم اور بہت مفید طریقئے علاج ہے۔حجامہ استفراغ کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ یونانی فلاسفہ کے لحاظ سے استفراغ آٹھ ”8” ہیں۔ (اسہال، قے کرانا، تعریق، ادرار، تنفیث بلغم کا اخراج، فصد، حجامہ، جونک لگانا)۔
استفراغ سے مراد ان مواد (Evacuation of morbid mater) کا بدن سے نکالنا جن کا بدن میں موجود رہنا انسانی صحت کے لئے مضر ہو سکتا ہے (اصول طب صفحہ: 437)۔ چونکہ مواد و فضلات مرض کو بڑھاتے ہیں اس لئے ان کو جسم سے خارج کرنا ضروری ہوتا ہے۔
حجامہ تاریخ کے آئینے میں:
حجامہ 3000 قبل مسیح سے کیا جارہا ہے۔ اس کے شواہد مصر کی (Ebers payrus) نامی طب کی ایک قدیم کتاب میں موجود ہے۔ اور یونان کے لوگ اسی طریقہ سے علاج کیا کرتے تھے۔ بقراط ”(Hippocrates)” جو کے ابو الطب (Father of medicine) کے نام سے جانا جاتا ہے، حجامہ کے ذریعہ سے بھی علاج کیا کرتا تھا۔ (ہمارے ملک میں حجامہ صرف طبِ یونانی (B.U.M.S) میں پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے اس کے علاوہ دوسرے ہندوستانی طبی نظام جیسے آیوروید، ہومیوپیتھی وغیرہ میں اس کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ چین کا یہ قومی علاج ہے۔ اور یہ علاج عرب ممالک کے علاوہ جنوبی و مشرقی ایشیا کے ملکوں میں بھی رائج ہے۔ اسلام میں مسلمانوں کو حجامہ کے ذریعہ علاج کرنے کی ترغیب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دی اور خود بھی حجامہ کروایا۔
حجامہ اسلام کی نظر میں:
حجامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ میں یہاں چند صحیح احادیث اس عنوان پر نقل کر رہا ہوں۔
1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اس کی مزدوری دی اور ناک میں دوا ڈلوائی۔(صحیح بخاری 5691).
2)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاویَْتُمْ بِہِ الْحِجَامَۃُ ( سب سے بہترین طریقہ جس سے تم علاج کرتے ہو حجامہ ہے۔ (صحیح بخاری).
3) ابو ہریرہ رضی ا للہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تم جن چیزوں سے علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر اور بھلائی ہے تو وہ حجامہ (سینگی) لگوانا ہے۔ (ابن ماجہ:3476)
سوال: جسم کے کن حصوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجامہ کروایا؟
حجامہ کرنے کی جگہیں صحیح احادیث کی روشنی میں:
1) الْأَخْدَعَیْن (گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگیں)، 2) الکَاھِل (کندھے)، 3) وَسَطِ الرَأْسِ (الیایافُوخِ)- سر کے بیچ میں (چندیا، تالو) ، 4) وَرک (سرین)، 5) ظَھْرُ الْقَدَمِ (قدم کی پشت)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔ (سنن ترمذی: 2051؛ سنن ابو داود: 3860؛ سنن ابن ماجہ:3483)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں اپنے سر میں پچھنا لگوایا۔ آدھے سر کے درد کی وجہ سے جو آپ کو ہو گیا تھا۔ صحیح بخاری 5701.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم (احرام کی حالت میں) تھے اپنے سر کے بیچ لحی جمل (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) میں پچھنا لگوایا تھا۔ (صحیح بخاری: 1836؛صحیح مسلم: 1203)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنا لگوایا (سنن ابو داود: 1863)۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔(
تخریج: سنن ابو داود: 1837؛ سنن الترمذی/الشمائل ، سنن النسائی/الحج ۴۹ (۲۸۵۲)، مسند احمد (صحیح)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو ہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چندیا (تالو) میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: ’’بنی بیاضہ کے لوگو! ابو ہند سے تم (اپنی بچیوں کی)شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو‘‘، اور فرمایا: ’’جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے‘‘۔تخریج: ابو داود:۲۱۰۲؛ سنن ابن ماجہ/الطب، مسند احمد(حسن)
حجامہ کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
حجامہ کرنے کے دو طریقے ہیں
1) حجامہ مع شرط (wet Cupping)، اس میں نشتر لگا کر غلیظ مواد (morbid mater) کو نکالا جاتا ہے۔ یہ طریقہ زیادہ مفید ہے۔
2) حجامہ بلا شرط (Dry Cupping)، اس میں نشتر نہیں لگایا جاتا۔ یہ دو طریقوں سے کیا جاتا ہے، حجامہ بنار (آگ کا استعمال کرتے ہوئے): جوڑوں کے درد (joint pain)، sciatic pain، میں زیادہ موثر ہے۔ اس سے (Mobile Cupping) مساج بھی کیا جاتا ھے۔
حجامہ کرنے کے کیا شرائط ہیں؟
1) بدن ردی اخلاط سے بھرا ہوا ہو (full of morbid mater)۔
2) غروبِ آفتاب کے بعد حجامہ نہ کروایں، کیونکہ رات کو اخلاط سکونت اختیار کر تے ہیں اور غلیظ مواد حرکت میں نہیں ہوتا۔
3) موسم گرما میں ڈیڑھ گھنٹہ دن چڑھے اور موسم سرما میں تین گھنٹے دن چڑھے حجامہ کروانا چاہئے۔
حجامہ کن لوگوں کے لئے ممنوع ہے؟
1) کمزور اور بہت زیادہ دبلے افراد حجامہ نہ کروائیں۔
2) اسقاطِ حمل (Recurrent abortion) کے مریضہ حجامہ نہ کروائیں۔
3) قے یا پیچش کے مریض حجامہ نہ کروائیں کیونکہ قے اور پیچش میں بدن کا مواد خارج ہونے کی وجہ سے کمزوری پیدا ہوتی ہے، دست کم ہونے کے بعد حجامہ کروائیں۔
4) دل کے مریض یا pace maker کا استعمال کرنے والے حجامہ نہ کروائیں، البتہ کسی ماہر طبیب کی نگرانی میں ایسا کر سکتے ہیں۔
5) ٹوٹی ہوئی ہڈی (fractured bone) میں یا اس جگہ یا اس کے اوپر حجامہ نہ کروائیں۔
6) کوئی خون کی بیماری جس میں خون نہ رکتا ہو (hemophilia) حجامہ ہرگز نہ کروائیں۔
7) حاملہ عورت کو ابتدائی تین مہینوں میں حجامہ ہرگز نہ کروائیں۔
8) خون کا عطیہ دینے کے فوراً بعد حجامہ نہ کروائیں، تین یا چار ہفتے بعد حجامہ کروائیں۔
9) خون کو پتلا کرنے والی ادویات (warfarin, aspirin) استعمال کرنے والے مریض حجامہ نہ کروائیں، البتہ تین دن تک ان ادویات کو چھوڑنے کے بعد کروائیں۔
10) ذیابطیس کے مریض (diabetic patient) کو حجامہ کروانے سے پہلے sugar test ضرور کروانا چاہئے۔
11) خون کی کمی ہو تو حجامہ نہ کریں۔
12) دست والے مریض کے لئے حجامہ ممنوع ہے۔ 13) دس سال سے کم اور ساٹھ(60) سے زیادہ عمر والوں کے لئے حجامہ ممنوع ھے۔
14) پیشے (جیسے لوہار اور دھوبی کا پیشہ) جن میں مواد زیادہ تحلیل ہوتے ہیں ان میں حجامہ نہ کریں۔

تنبیہ: اگر حجامہ کسی خاص مرض کے علاج کے لئے کروا رہے ہیں تو اس مرض کے مادہ کے لحاظ سے منضج دینا ضروری ہے۔ (اصول طب صفحہ: 441)
حجامہ کے ذریعہ مواد کو بتدریج (Gradually) نکالنا چاہئے۔ زیادہ کپ (cups) نہ لگوائیں۔ کیونکہ اگر مواد کو زبردستی خارج کیا جائے تو مریض نڈھال ہو جاتا ہے اور اس کو کمزوری لاحق ہوتی ہے۔
امراض مزمنہ(in chronic diseases) میں منضج دینا ضروری ہے (اصول طب صفحہ: 443).
منضج کیا ہے اور کیوں ضروری ہے؟
منضج اس دوا کو کہتے ہیں جو مواد کو پختہ کر کے خارج ہونے کے قابل بناتی ہے۔ اس کے لیے غلیظ خلط کو رقیق اور رقیق خلط کو غلیظ کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ منضج کے استعمال سے مادہ صفراء کو غلیظ اور مادہ سوداء کو رقیق بنایا جاتا ہے (اصول طب صفحہ: 443).
منضجِ صفراء: بیخ کاسنی، تخم کاسنی، آلو بخارا، املی، شربتِ نیلوفر، شربتِ بنفشہ وغیرہ۔ منضجِ سوداء: اسطو خودوس، افتیمون وغیرہ۔ منضجِ بلغم: گاو زبان، اصل السوس وغیرہ۔
حجامہ کتنی دفعہ کروانا چاہئے؟
حجامہ ایک بار میں کم نہ ہو تو 5-3 دفعہ یا طبیب کے مشورے کے مطابق کروائیں۔
حجامہ کروانے سے پہلے کونسی احتیاطی تدابیر اپنائیں؟
Blood test, CT, BT, Hb %
اور اگر ذیابطیس کے مریض ہیں تو sugar test ضرور کروائیں۔
حجامہ خالی پیٹ کروائیں، یا کھانے کے 3 – 2 گھنٹے بعد کروایں۔
اگر کوئی شخص کمزور یا صفراوی مزاج کا ہو تو حجامہ سے پہلے انار، سیب یا سنترہ کا شربت پلائیں۔
تنبیہ: اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ گلاس (cups,surgical blade, gloves) نئے ہوں۔
حجامہ کروانے کے بعد کیا احتیاطی تدابیر ضروری ہیں؟
حجامہ کروانے کے ایک دن بعد تک ہلکی غذا استعمال کریں۔ حجامہ کروانے کے فوراً بعد غسل نہ کریں۔ حجامہ کروانے کے فوراً بعد محنت و مشقت کے کاموں سے پرہیز کریں۔
حجامہ کے فائدے کیا ہیں؟ اور کس مرض میں جلد مؤثر ہے؟
حجامہ ہر بیماری میں مؤثر ہے۔ زیادہ اور جلد فائدہ سر درد، گردے میں درد، احتباس حیض، کثرت حیض و نفاس اور نفسیاتی امراض میں ہوتا ہے۔ خصوصاً جوڑوں اور اعصابی دردوں میں منضج لینے کے بعد حجامہ کروانا بہت مفید ہے، جیسے (sciatic pain, Cervical spondylosis, lumbar spondylosis, lower backache, knee pain, heal pain, gout)، عرق النساء، کمر کا درد، گھٹنوں کا درد، گردن کا درد وغیرہ۔ اس جگہ کے دوران خون کو بڑھاتا ھے۔

ایک حجامہ سے دوسرے حجامہ کے بیچ کا وقفہ کتنا ہو؟
مہینے میں ایک مرتبہ اور نسوانی امراض میں 15 دن میں ایک مرتبہ حجامہ کروا سکتے ہیں، (cup) پنڈلیوں پر پچھنا ضرور لگوائیں۔
روزہ کی حالت میں حجامہ کروانا کیسا ہے؟
عبداللہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجامہ کروایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ (صحیح بخاری: 1939)
کیا عورتوں کے لئے حجامہ کرنا یا کروانا جائز ہے؟
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حجامہ کروانے کی اجازت چاہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم فرمایا کہ وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو حجامہ کرے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ابو طیبہ نے کہا کہ وہ ام المو منین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی ہیں یا وہ نابالغ تھے۔ (صحیح مسلم:5708؛ ابوداود: 4102؛ ابن ماجہ: 3480)
حجامہ کونسی تاریخوں میں کروانا افضل ہے؟
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1847
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہترین دن جس میں تمہیں سینگی لگوانی چاہیے، وہ (چاند کا) سترھواں” 17، انیسواں ”19” اور اکیسواں ”21” دن ہے۔ میں معراج والی رات فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے بھی گزرا، اس نے یہی کہا: اے محمد! سینگی لگوانے کا اہتمام ضرور کرنا۔‘‘
حجامہ انہی تاریخوں میں کروانا افضل کیوں ہے؟
مشہور یونانی طبیب شیخ ابو علی سینا نے القانون فی الطب میں کہا ہے کہ دن میں حجامہ کے اوقات دوسرا پہر یا تیسرا پہر ہے البتہ مہینے کے پہلے اور آخری حصے میں نہ کریں۔ کیوں کہ ان تاریخوں میں چاند کی روشنی تیز نہ ہونے کی وجہ سے رطوبات اور اخلاط بدن میں ساکن ہوتے ہیں اور خراب مواد کا اخراج نہیں ہو سکتا، اور اس پر مزید معلومات کیلئے moon pulling effect theroy on Earth دیکھیں۔
اگر کوئی ایمرجنسی(emergency) ہو تو چاند کی تاریخ کا انتظار نہ کریں خون میں شدت ہو تو طبیب کا مشورہ لے کر حجامہ کروا سکتے ہیں۔ جیسے کے جوڑوں کے درد (joint pain) میں یا عرق النساء (sciatica) میں طبیب کو لگے کے مادہ میں نضج ہو گیا ہے تو کسی بھی دن حجامہ کے ذریعہ غلیظ مادہ کا اخراج کر سکتے ہیں۔
حجامہ سے جادو کا علاج؟
اس ضمن میں ایک حدیث بیان کی جاتی ہے. جو ضعیف ہے۔
اب رہا سوال جادو کا علاج حجامہ کے ذریعہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بیماری کی شفاء پچھنا لگوانے میں ہے جیسا کہ اوپر کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔ (امام بخاری رحمہ اللہ نے جادو کو کتاب الطب میں بیان کیا ہے یعنی جادو ایک بیماری ہے) لحاظہ حجامہ، شہد، (کالے دانے) کلونجی، اجوہ کھجور، زیتون کا تیل، گائے کے دودھ، تلبینہ، آب زم زم اور قرآن و حدیث کے روشنی میں رقیہ سے ان شاء اللہ تعالیٰ جادو سے شفا ملے گی۔
حجامہ کن دنوں میں کرانا ممنوع ہے؟
اس ضمن میں آنی والی سبھی روایات ضعیف، منکر اور موضوع درجے کی ہیں جن سے دلیل لینا جائز نہیں ہے۔ جیسے درج ذیل روایات
1) جس نے بدھ یا سنیچر کے دن پچھنا لگوایا پھر اسے جلد میں سفیدی کا مرض (برص) ہوگیا تو اسے خود کو ہی ملامت کرنا چاہیے۔اس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے اس کی سند میں سلیمان بن ارقم ہے جو متروک ہے۔
2): منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا۔ (سنن ابوداود، حدیث نمبر: 3862) اس کی سند میں کبشہ یا کیسہ بنت ابی بکرہ نامی راوی مجہول ہیں۔
3) نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نافع! میرا خون جوش میں ہے، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لادو، جو جوان ہو، ناکہ بوڑھا یا بچہ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے، جمعہ، ہفتہ (سنیچر) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو، پیر (دوشنبہ) اور منگل کو لگاو، پھر چہارشنبہ (بدھ) سے بھی بچو، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بیماری سے دوچار ہوئے، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں۔ (سنن)
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker