جہان بصیرتنوائے خلق

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی فضا کو مکدر کرنے کی سازش

مکرمی!
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بلاشبہ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک منفرد اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جس کے سپوتوں نے عالمی پیمانے پر اپنے نقوش ثبت کیے ہیں۔ یہ ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے متعدد المیوں کا شکار رہا ہے۔ اندرونی وبیرونی خلفشار ،انتشار اور سازشوں کے ذریعہ اس کے وقار کو داغ دار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ کئی میقات سے یونیورسٹی نازک مراحل سے گزری اور متعدد بار بند بھی کی گئی۔موجودہ شیخ الجامعہ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کی آمد کے بعد بھی کچھ عناصر نے یونیورسٹی کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی لیکن شیخ الجامعہ نے ہر بار کمال حکمت سے ان کا قلع قمع کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ وائس چانسلر شپ کا آخری ایک ڈیڑھ سال بڑا آزمائشی ہواکرتا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر اسی دور آزمائش سے دوچار ہیں۔
یونیورسٹی کی موجودہ صورت حال میں ان چند عناصر کے مقابلہ میں یونیورسٹی کے بہی خواہ، طلباء اور دیگر عملہ کوآگے آنا چاہیے اور یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو پراگندہ کرنے والے عناصر کی سازشوں کو نا کام بنانا چاہیے۔ گزشتہ متعدد دہائیوں سے یونیورسٹی کو چند مفاد پر ست عناصر نے یرغمال بنا رکھا تھا ان کی مرضی سے تقرریاں ہوتی تھیں۔ ضمیر الدین شاہ نے اس رویہ پر قدغن لگایا۔آج پھر سے کچھ وہی عناصر ضمیر الدین شاہ کے آخری دور میں انہیں بے دست وپا کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ اپنی اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے محترم شیخ الجامعہ پربڑے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ بے سروپا گھنائو نے اور اخلاقی الزامات عائد کئے جار ہے ہیں۔ یونیورسٹی کے باہر کے عناصر کو اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے بلایا جارہا ہے حتیٰ کہ طلباء کے جذبات کو بھڑکا کر ان کے مستقبل سے کھلواڑکا بھی تجربہ کیا جارہا ہے۔ اس تکلیف دہ صورت حال میں یونیورسٹی برادری کو اس طرح کی سازش کو ناکام بنانے میں ضمیر الدین شاہ کا ساتھ دینا چاہئے۔ جنھوں نے سرسید کے خواب کوشرمندہ تعبیر کرنے کے لیے یونیورسٹی میں متعدد ترقیاتی کام کروائے، مدارس کے فارغین کے لیے برج کورس قائم کیا ، یونیورسٹی کو ایک مخصوص مفاد پرست عناصر کے چنگل سے آزاد کرایا اور عالمی پیمانے پر اس کے وقار کے احیاء کی کوشش کی۔بعض وہ افراد جنہیں یونیورسٹی انتظامیہ سے اختلافات ہیں ،انہیں اپنے اختلافات کو شائستہ اور مہذب انداز میں پیش کرنا چاہئے ۔اور اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ یونیورسٹی کی تعلیمی فضا متاثر نہ ہواور گھر کی بات گھر تک رہے ۔ باہر کے عناصر کی مداخلت اور ذاتیات پر اوچھے حملے پڑھے لکھے افراد کے شایان شان نہیں ہیں ۔ ڈاکٹرمحمداحمد
معاون رابطہ عامہ آفیسر، برج کورس ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker