جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

ملت کے شیرازہ کو بکھرنے سے بچائیں

مظفر احسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، اظہار رائے کی آزادی یہاں ہرایک کو یکساں حاصل ہے، کوئی کسی کی زبان نہیں پکڑسکتا ہے, لیکن بعض ایسے ملی مسائل ہیں جس سے متعلق اظہار رائے سے اجتناب کی کوشس کی جاتی ہے , ڈر اس بات کی ہوتی ہے کہ کہیں ہماری رائے جسے ہم درست جانتے ہیں اس کی وجہ سے ملت کا نقصان نہ ہوجائے اور ملت میں انتشار کی کیفیت پیدا نہ ہوجائے، شاید ہندوستانی تاریخ کا وہ دن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس دن بابری مسجد سے متعلق ملک کے باوقار عالم دین اورخاندان حسینی کے چشم وچراغ,مختلف تنظیم وتحریک کے ذمہ دار ندوۃ العلماء لکھنو کے استاد حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی دامت برکاتہم نے ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ کے قدیم موقف کے بالکل خلاف اپنی رائے پیش کرکے پورے ملک کی فضاکومکدر کردیا اور ہراس شخص نے اس رائے سےتکلیف محسوس کیا جو سیکولر ذہنیت کے ساتھ صاف ستھرا اورمعتدل ذہن رکھتے ہیں، مسلم پرسنل لا بورڈکا ماننا ہے کہ مسجد کی جگہ اللہ کی ملکیت ہے اور ازروئے شرع اللہ کی ملکیت کو کسی کے حوالے کرنا درست نہیں ہے، بابری مسجد جسے ایک منظم سازش کے تحت یہ کہ کر شہید کردیا کہ یہ رام جنم بھومی ہے، اب وہ جگہ مسجد کی ہے؟ یا پھر رام جنم بھومی کی؟ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے اب ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کریں گے، جب کہ مولانا سلمان ندوی صاحب کا یہ ماننا ہے کہ ملک کے موجودہ پس منظر میں انسانی جان کی حفاظت کے پیش نظر بابری مسجد کو ہندووں کے حوالے کرکے اس کے بدلے دوسری جگہ زمین لے کر” مسجد اسلام” کی بنیاد کے ساتھ بڑی تعلیمی درسگاہ کی بنیاد رکھی جائے جس میں ہندوستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کو پڑھنے کا اختیار رہے گا ۔
دونوں نظریئے بالکل مختلف ہیں اور نظریئے کے اس دوسرے پہلو کو مولانا سلمان صاحب نے زبردستی تھوپنے کی اب کوشس کی ہے جب کہ حضرت مولانا بورڈ کے عاملہ کے رکن ہیں گویا بورڈ کی رائے سے وہ ہمیشہ متفق رہے ہیں اب اچانک باغیانہ اس تیور کو کیا نام دیا جائے، بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ انہیں کس طرح راضی کیا جائے۔
یہ ایک سچ ہے کہ حیدرآباد کے اجلاس کے شروع دن کو جب مولانا تشریف لائے تو ان سے ذمہ داروں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ گفت وشنید کے ذریعہ سمجھانے کی کوشس کی لیکن انہیں نہیں ماننا تھا نہیں مانے،اس گفتگو میں ملک کے ایک باوقارعالم اور فقیہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب بھی تھے جو اپنے معتدل مزاج کے لئے جانے جاتے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کے آبگینہ دل کا خیال رکھا ہے، اور تو اور ان کا یہ مزاج ہے کہ ان کے شاگردوں کا بھی دل نہ دکھے، ہر ایک کا خیال گویا ان کی فطرت کا ایک حصہ ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے مولانا محترم سے ملت کے شیرازے کو بکھرنے سے بچانے کے لئے منت وسماجت کئے، لیکن مولانا اپنی بات پر قائم رہے ,انہوں نے ایک دولوگوں کے بارے میں کہا کہ پینٹ بوٹ والے ہمیں شریعت بتانے لگے، ہلڑبازی، ہنگامہ، شورشرابہ کرنے لگے، ہمیں بات کرنے تک کا موقعہ نہیں دیا یہ باتیں اس پس منظر میں ہوسکتا ہے کہ ہو لیکن اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور پھر اس مجمع میں صدرمحترم حضرت مولانا رابع حسنی ندوی، حضرت مولانا سید ارشد مدنی، حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی، حضرت فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور زعمائے امت موجود تھے ایسے موقعہ پر ہلڑ بازی اور ہنگامہ کا کیا مطلب ہے۔
وقت بھی عجب ہے ایسی باتیں جس سے ملت بکھرجائے اور ٹوٹ جائے شاید مولانا نے کبھی نہ کیا ہو انہوں نے تو ہمیشہ ملک میں بھائی چارگی اور آپسی اتحاد کی دعوت دیا ہے، اب ایسے وقت میں جب کہ ہرچہار جانب مظلوم مسلمانوں کو مولاناسلمان ندوی جیسےہوشمند عالم کی ضرورت تھی انہوں نے اپنا سارا ہوش جذبات کے حوالے کردیا اور قوم کو منجھدار میں چھوڑکر خود تنہا ہوگئے۔
افسوس اس بات پر ہیکہ بعض لوگ خواہ مخواہ مولانا کے اس کام کو سراہ کر چاپلوسی کی کوشس کررہے ہیں جب کہ اس کا کوئی حاصل نہیں ہے، وقت کا یہ تقاضاہے کہ ان کو اس بات کے لئے راضی کیا جاتا کہ جوہوگیا اسے بھلاکر واپس آنے کی کوشس کی جائے ہم سمجھتے ہیں کہ یہی حقیقی ہمدردی ہے۔
آج ہم نے اپنے ایک ایسے عالم نوجوان فاضل دوست کی تحریر کو پڑھا جس سے ہم اچھی امید مستقبل میں رکھتے تھے لیکن وہ بھی جذبات میں آکر بورڈ کے ایک رکن کی تقریر کے حوالے سے ایسی باتیں لکھ دی جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا یہ ہمیں اس ویڈیو کو سننے کے بعد احساس ہوا جو حیدرآباد کے دارالسلام میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کے موقعہ پر ریکارڈ کیا گیا تھا، آخرکیا مقصد ہے ایسی تحریروں کا جس سے دلوں کی بستی میں بھونچال آجائے اور دلوں میں قربت کے بجائے دوریاں پیدا ہوجائے ۔
ہمیں آج بھی امید ہے اپنے قوم کے قائد سے کہ وہ اپنی راہ پھر لوٹیں گے اور قوم کی قیادت کے حوالے سے وہ کام انجام دیں گے جس کی امید قوم کو آج بھی ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker