جہان بصیرتنوائے خلق

⁠حکومت اب تمہاری باری ہے!

مکرمی!
بہار اسمبلی انتخاب کے نتائج اور حکومت سازی کے مراحل مکمل ہوگئے۔ عظیم اتحاد کی جیت اور لالو نتیش کی حکومت سازی اور اس کے آپسی ملاپ سے عوام جتنی خوش نہیں ہے اس سے کہیں زیادہ بی جے پی کی ذلت آمیز ہزیمت وپسپائ سے مسرت وشادمانی ہوئی ہے اور اس اقبال مندی کا سہرا براہ راست مسلم عوام کے سر باندھنا چاہیے۔ اب سوال سامنے جہاں آپسی رواداری، قومی یکجہتی اور سیکولرزم کی بقاءکا ہے وہیں ترقیاتی اسکیموں کے نفاذ کا بھی ہے ۔عوام کو صبح وشام کا لذیذ و مرغوب کھانا، سر چھپانے کےلئے، گھر درست اور ٹھیک ٹھاک ،راستے، روشنی کے ساتھ ریاست کی نیک نامی کے لیے عمدہ تعلیم چاہیے۔ یہ بات بالکل عیاں ہے کہ نتیش حکومت نے اس سلسلے میں پیش رفت کی تھی جسے موجودہ نتیش اینڈ لالو حکومت ہنوز باقی رکھ پاتی ہے یا نہیں؟یاد رہے کہ عوام اب بیدار ہو چکی ہے۔ خاص طور سے بہار کی عوام جس نے سیاست کے تانے بانے کو سدا سلجھایاہے اور ملک کی سیاسی فضاؤں کا رخ موڑ اہے۔ جب مودی پارلیمانی انتخابی ریلیوں میں خطاب کرتےتھے تو اچھے دن لانے کا راگ آلاپتے تھے، مہنگائ کے خاتمے کا وعدہ کرتےتھے، کالادھن کی واپسی کا یقین دلاتےتھے، سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگاتےتھے، لوگوں نے اس کے کئے وعدوں پہ اعتماد کیا اور اچھے دن کے لیے وکاس اور ترقی کے نام پہ بھروسہ کیا، لیکن ایک سال بھی یہ حکومت نہ گزار سکی کہ مہنگائ آسمان چھو نے لگی، دال، پیاز اورروزہ مرہ استعمال کیے جانے والے اجناس کی قیمتوں کے اضافے نے عوام کو سسکیاں بھرنے پہ مجبور کر دیا ۔علاوہ ازیں جس نے وعدہ کیا تھا کہ دلی کی گدی پر بیٹھ کر ھم چوکیداری کریں گے جناب ملک میں آرام سے پبلک پریشانی حل کرنے کیلے رہتے کہاں ہیں! وہ تو ملکوں ملکوں سیاحت کر رہے ہیں،ایسامحسوس ہوتاہے کہ ملک کی عوام نے انہیں عالمی سیاحت کے لئے ہی منتخب کیا ہواوروہ بھی اس طرح سیروسیاحت میں مصروف ہیں کہ گویا وہ اپنے میعادکے اختتام پر ابن بطوطہ ثانی کا خطاب حاصل کرکے ہی دم لیں گے۔پھر یہ کہ ملک کی سالمیت، گنگا جمنی تہذیب کے لالے پڑے ہوئے ہیں،پورا ملک ھاھا کاری اور بے چینی و بے اطمینانی کی منہ بولتی تصویر بنا ہوا ہے، امن وشانتی کا گلا گھونٹا جارہاہے، منافرت کے شعلہ میں ملک جلنے کو تیار ہے۔ ایسے نازک حالات میں بہار کی عوام نے بیداری اور عقلمندی کا ثبوت دیااور پوری آزادی اور بےفکری کے ساتھ کہ کم از کم اپنی ریاست کو بارود کے ڈھیر پہ نہیں جانے دیں گے،محبت کے نغمے کی آوز زندہ رہے گی، بھائ چارگی کا ماحول باقی رہے گا ،ایسے جذبے کے ساتھ ایک ایسی صبح کا آغاز بہار کے مطلع سے ہوا جس کے آفتاب کی کرن میں مساوات، عدل و انصاف اور ترقیات کا جذبہ ٔ خلوص عیاں ہے…… اللہ کرے یہ پاکیزہ جذبہ بار آور ثابت ہو۔
محمد انس عبادصدیقی قاسمی
جامعہ فاطمۃ الزھراء ململ مدھوبنی بہار

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker