مضامین ومقالات

کاش یہ بات تیرے گوش گراں تک پہونچے!!!

(قسط:1)
مولاناسراج اکرم ہاشمی
راقم نے اپنی زندگی میں حضرات علمائے کرام کے بہت سے اختلافات دیکھے سنے پڑھے اور برتے؛ لیکن دل کبھی اس طرح خون کے آنسو نہیں رویا جیسا ابھی حالیہ چند دنوں سے رو رہا ہے،آنکھوں سے اشک ہائےغم بہ رہے ہیں،ہاتھ دعاؤں کےلیے اٹھ رہے ہیں اور یہ گناہوں سے آلودہ پیشانی دلوں میں الفت ومحبت پیدا کرنے والی ذات کے سامنے جھکی ہوئی بار بار یہ کہ رہی ہے کہ خدایا!ہندوستان کے موجودہ اختلافات کو دور فرما،بورڈ کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا، اس کی خامیوں کو دورکرکےملت کا اعتماد اس پر مزید بڑھا،ہماری عقیدت ومحبت کے مرکز حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کو جمہور امت کے ساتھ چلنے کی توفیق ارزانی کر اور ملت کی ہر شش جہت سے مادی ومعنوی حفاظت فرما!آمین ـ
یہ بات کسی بابصیرت، دور اندیش،باریک بیں اہل علم پر مخفی نہیں کہ بابری مسجد کا مسئلہ بڑا حساس،نازک اور دوقوموں کے مذہبی جذبات سے جڑا ہوا ہے،اسی لیے حکومت اور عدالت دونوں ابھی تک کسی واضح فیصلے سے گریزاں رہی ہے،مقدمہ عدالت میں اپنی طبعی رفتار سے بھی آہستگی کے ساتھ جاری تھا ،فی الوقت عام لوگوں کی اس سے کوئی دل چسپی نہیں رہ گئی تھی؛ بلکہ ہر دو مذاہب کے ماننے والے اپنے قائدین پر اعتماد کر کے بیٹھ گئے تھےکہ جو ہوگا یہ حضرات سمجھیں گے؛لیکن مولانا محترم کے مسلسل بیانات نے اسے ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے،جس میں نقصان سرا سر مسلمانوں کا ہے ،جیسے:
(1)مولانا کے بیان سے پہلے بابری مسجد کے حوالے سے تقریبا پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کا موقف ایک تھا؛ لیکن مولانا کے بیان کے بعد ملت میں اختلاف و انتشار پیدا ہواـ ۔
(2)پچھلے 70 سالوں میں ’’رام مندر ‘‘کے لیے وہ پیش رفت نہ ہو سکی اور اس تحریک کو وہ استحکام نہ مل سکا جو مولانا کے بیان کے بعد صرف چند دنوں میں مل گیا ہے۔
ـ (3)علمائے دین کی باہمی محاذ آرائی اور آپسی رسہ کشی کی وجہ سے عوام پہلے ہی سے بدظن چلی آرہی تھی، اس واقعہ نے اسے مزید ہوا دیدی ہے اور عوام کا اعتماد علماء سے تقریبا اٹھنے لگا ہے ۔
(5)مسلم پرسنل لا بورڈ کا وجود پہلے ہی سے ’’ارباب اقتدار‘‘کی آنکھوں کا کانٹا تھا، اب وہ ہمارے داخلی انتشار سے فائدہ اٹھا کر اسے توڑنے،کم زور کرنے اور مشکوک ٹہرانے کی کوشش کریں گے اورکررہے ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ اس میں کام یاب بھی ہو جائیں جو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک ایسا عظیم نقصان ہوگا جس کی تلافی بظاہر ممکن نہیں۔
ـ(6)کچھ اپنے بھی جاہ ومنصب کی طلب،خود کے بارے میں بے جا خوش فہمی ،بےبنیادخبر، یا فطری حسدوعداوت کی بنا پر ’’بورڈ‘‘سے پہلے ہی سے خار کھائے بیٹھے تھے، وہ بھی براہ راست میدان میں کود پڑے ہیں،اپنےدل کی بھڑاس نکال رہے ہیں اور ’’بورڈ ‘‘ کو بدنام کرنے کی سعی نامحمودکررہےہیں۔
(7)مولانا اپنی رائے،اپنے موقف یا فیصلے کے اظہار میں وہی پیرایۂ بیان اختیار کررہے ہیں جو ’’تحریک پاکستان‘‘کے زمانے میں لیگیوں نے اپنایا تھاکہ ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘،’’کافر ہے تو کانگریس میں جا‘‘،مولانا کا بھی ٹھیک یہی طرز عمل ہےکہ جو ان کی رائے سے اختلاف کرے،ان پر سنجیدہ تنقید کرے، وہ امن وآشتی کا دشمن،محبت واخوت کا مخالف اور نفرت وعداوت کا سوداگر ہے؛لیکن “تحریک پاکستان “کے نتائج ہمارے سامنے ہیں، مولانا کے انداز بیان کے نتائج کےلیے مستبقل کا انتظار کیجیے ۔
(8) ملک کی تقسیم کے نتیجے میں اکثریت کےذہن میں جو معاندانہ فضا پیدا ہوئی تھی، مولانا کے حالیہ بیانات سے عام مسلمانوں کے تئیں اس سے کہیں زیادہ زہریلی اور مسموم فضاتیار ہو رہی ہے؛ لیکن اپنے موقف کی صداقت وحقانیت اور واقعیت کے جوش میں شاید مولانا کو اس کی سنگینی کا احساس نہیں۔
(9)اگر ہم نے سونے کے طشت میں سجا کے بابری مسجد کی ملکیت برادران وطن کو پیش بھی کردی، انھیں رام مندر کا حسین تحفہ بھی دےدیا، پھر بھی مولانا کے بیانات نےغیر دانستہ طور پر چند ہی دنوں میں حامیان بابری مسجد کے خلاف اکثریت کاجو ذہن تیار کردیا ہے وہ بآسانی تبدیل نہیں ہو گا،برادران وطن ہمیشہ اسے یاد رکھیں گے کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے رام مندر کی مخالفت کی تھی،اور مستقبل میں ہر شخص کو یہ ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ وہ رام مندر کا مخالف نہیں تھاـ اے کاش مولانا نے اپنی رائے کے اظہار سے پہلے رائے عامہ کو استوار کرلیا ہوتا، تو ان برے نتائج کے امکانات پیدا نہیں ہو تے۔
(10)عداوت و دشمنی سے تو اب کسی صورت میں مفر نہیں، فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آئے یا ان کے خلاف،وہاں مسجد بنے یا مندر، بہر دو صورت مسلمانوں کو اکثریت کی نفرت کا شکار ہونا پڑے گا،اس نفرت کو اگر کوئی چیز بدل سکتی ہے تو وہ اسلام کی سچی عملی تصویر ہے کہ ہر مسلمان پیکر عمل ہوکر غیب کی صدا بن جائے۔
(11)صلح حدیبیہ کا ایک بڑا،بلکہ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ انسان اپنے قائد وکمانڈر کے سامنے سر تسلیم خم کر دے،خواہ قائد کی بات اس کے ذہن ومزاج کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہو پھر’’فتح مبین‘‘اس کے لیے سراپا انتظار ہے،کمانڈر کے حکم سے (غیر شعوری ہی سہی) سرتابی نہ کی جائے؛ورنہ احد کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑےگا ۔(جاری)
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker