مضامین ومقالات

اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار تشویشناک

عارف عزیز(بھوپال)
ملک کو آزاد ہوئے سات دہائی کا عرصہ گزرگیا، لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں کی عدلیہ جو جمہوریت کا اہم ترین ستون ہے، مقدمات کی کثرت، ججوں کی قلت ،ناکافی انفراسٹرکچر اور کم وسائل جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اندوہناک بات یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کا زیادہ وقت ان مقدمات کی نذر ہورہا ہے جن کا تعلق عوام کے حقوق سے نہیں بلکہ حریف گروپوں کے مفادات سے ہے۔ بڑی تعداد میں دیوانی اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے والی سپریم کورٹ مختلف ٹریبیونلوں اور اتھارٹیز کے درمیان مقدمات سے نمٹ رہی ہے۔ ایک مقدمہ میں سپریم کورٹ کی دو ججوں کی بینچ یہ ریمارک دے چکی ہے کہ رِٹ درخواست کی بھرمار سے سپریم کورٹ کو دستور کے تحت مقررہ دستوری رول ادا کرنے میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ یہ رجحان بڑھ گیا ہے کہ ہائیکورٹ یا ٹریبیونل کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی جائے۔ نیچے کی عدالت سے سپریم کورٹ تک مقدمہ بازی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ چند برس پہلے تک یہ مانا جاتا تھا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ناقابل چیلنج فیصلہ کی منزل آچکی ہے لیکن اب خود سپریم کورٹ میں مقدمات کی بھرمار کی وجہ سے درخواست کی فوری یکسوئی تو کیا ہوتی سماعت کی تاریخ مقرر ہونے میں بھی مہینوں بلکہ برسوں درکار ہورہے ہیں۔ کوئی اور نہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس خود اس بات پر رو پڑے کہ ججوں کی کمی کی وجہ سے عدالتوں میں زیرتصفیہ مقدمات کی بھرمار ہے۔ یہ مثل مشہور ہے کہ ’’انصاف میں تاخیر انصاف کا خون ہے‘‘ اور خود چیف جسٹس آف انڈیا اس ناگوار صورتحال پر افسوس اور فکرمندی کا اظہار کئی بار کرچکے ہیں۔ عام طور پر دستور کی تشریح و صراحت کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے تو سپریم کورٹ کا کام قانون کی صراحت اور تشریح کرنا ہے۔ ہمہ اقسام کے مقدمات کی بھرمار اور ججوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے عدلیہ اپنا اصل کام انجام دینے میں دقت محسوس کررہی ہے۔ نیچے کی عدالت سے سپریم کورٹ میں مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر کی وجہ سے عوام میں عدلیہ کا وقار کم ہورہا ہے۔ لوک عدالتوں کے قیام سے مقدمات میں تیزی سے فیصلوں کی سمت میں اہم پہل ہوئی ہے لیکن لوک عدالتوں کے اجلاس بار بار منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف رسانی کا عمل مزید تیز ہوسکے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کے آنسو بہانے کے باوجود ججوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی سمت حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیا حالانکہ سپریم کورٹ ایک بار پھر مرکزی حکومت کی اس بات پر سرزنش کرچکی ہے کہ اس نے ججوں کے تقررات اور تبادلوں سے متعلق کی گئی سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ ایک ریٹائرڈ کرنل نے اپنی درخواست میں نشاندہی کی تھی کہ مختلف عدالتوں میں زیرتصفیہ مقدمات کی اس قدر بھرمار ہے کہ اب ان پر قابو پانا ممکن نظر نہیں آتا۔ 12 اگست 2017ء تک ملک کی عدالتوں میں زیرتصفیہ مقدمات کی تعداد 2 کروڑ 24 لاکھ بتائی گئی ہے۔ مختلف ہائی کورٹوں میں ججوں کی 478 عہدے خالی ہیں۔ خود سپریم کورٹ میں ججوں کے کئی عہدے خالی ہیں۔سابق چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر اور دوسرے دو ججوں پر مشتمل بینچ بھی نشاندہی کرچکی ہے کہ بیشتر ہائیکورٹ ججوں کی منظور شدہ صرف40 فیصد تعداد کے ساتھ کام کررہی ہیں اور لوگ 13 سال سے جیل میں اپنے اپنے کیسوں کی سماعت کا انتظار کررہے ہیں۔ (بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker