ہندوستان

مسابقہ کا مقصد قرآن کی تعلیمات کو سیکھنے کا شوق وذوق اور قرآن سے رغبت پیدا کرنا ہے

مولانا ارشد مدنی و مولانا غلام محمد وستانوی کا علماء وعوام سے خصوصی خطاب
آل مغربی یوپی واتراکھنڈ سہ روزہ مسابقۃ القرآن الکریم بخوبی اختتام پذیر
دیوبند،20؍ فروری(ایس۔چودھری) جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا مہاراشٹر کے اشتراک سے مولانا حسین احمد مدنی مدرسہ انبہٹہ پیر سہ روزہ مسابقۃ القرآن الکریم والعلوم الدرسیۃ بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا ،مسابقہ میںمغربی یوپی و اتراکھنڈ کے تقریباً تین سوپچاس مدارس سے نو سوچالیس مساہمیں کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستان کے علاوہ دیگر مدارس کے علماء ،ائمہ اور ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔پروگرام کی صدارت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے کی جبکہ سرپرستی خادم القرآن والمساجد مولانا غلام محمد وستانوی نے فرمائی پروگروم دو نشست میں منقعد کیا گیا، نشست اول میں علماء وائمہ حضرات سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے مولاناسید ارشد مدنی نے مسابقہ کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسابقات سے جہاں طلباء کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا جاتا ہے وہیں ارباب مدارس کو اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ کس مدرسہ و ادارہ میں کس معیار کی تعلیم دی جا رہی ہے اور اس معیاری تعلیم کے لئے کیا طریقۂ کاردر کار ہے ،انہوں نے کہاکہ جوں جوں قیامت قریب آرہی ہے مدارس کا دائرہ کار تنگ ہوتا جار ہا ہے جو در اصل دین اسلام کی حفاظت کے آہنی قلعے ہیںمگر اللہ کا فضل ہے کہ زمانۂ نبوت سے آج تک دین محفوظ ہے اور تا قیامت محفوظ رہے گا یہ خصوصیت کسی اور دین کی نہیں ہے۔پروگرام کے سرپرست اور جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کے روح رواں خادم القرآن مولانا غلام محمد وستانوی نے اپنے خصوصی خطاب میںمسابقۃ القرآن کی خصوصیت پر بولتے ہوئے کہاکہ مسابقۃ القرآن کے انعقاد سے ہمارا مقصد طلباء میں قرآن کی تعلیمات کو سیکھنے کا شوق وذوق اور قرآن سے رغبت پیدا کرنا ہے محض کسی ایک مدرسہ کو ہائی لائٹ کرنا نہیں ہے ،الحمدللہ مسابقات کا یہ سلسلہ نہایت ہی صاف شفاف طریقہ پر جاری ہے خود مساہمین وسامعین اس بات کا بحسن وخوبی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کونسا مساہم پوزریش حاصل کریگا ،مولانا وستانوی نے مدارس کی افادیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کا مقصد باشعور افراد پیدا کرنا ہے اور الحمد للہ مدارس اس میں کامیاب ہیں اگر کوئی آدمی مدارس اور مدارس کی تعلیم کو بیکار کہتا ہے اس کے ایمان کا خطرہ ہے ،مولانے مزید کہا کہ مدارس کے نظام ،طلباء کی تعلیم وتربیت پر مکمل نگرانی کی ضرورت ہے اور قرآن کی تعلیم کا مدارس میں عام ماحول بنانا چاہئے۔مسابقہ میں دارالعلوم دیوبندسے تشریف لائے مہمانان خصوصی دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی اوردارالعلوم کے مایہ ناز استاذ مولانا مفتی راشد اعظمی کا بھی قرآن کی فضیلت ومسابقہ کی افادیت پر پرمغز بیان ہوا،اسی طرح مولانا ازہر مدنی ودیگر مؤقر علماء حضرات نے بھی ماسابقۃ القرآن کی اہمیت افادیت اورضرورت پر تفصیلی بیانات کئے ۔ جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے مہتمم مولانا اختر قاسمی نے کہا کہ مسابقۃ القرآن درحقیقت ایک تحریک ہے جو اس دور میں نہایت ضروری ہے، بادشاہی باغ سے تشریف لائے مہمانی خصوصی مفتی عبدالغنی نے کہا کہ روئے زمین پر کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس کی قرآن سے زیادہ خدمت ہور ہی ہو،ریاست پنجاب کے تاریخی شہر مالیر کوٹلہ کے مفتی اعظم مفتی ارتقاء الحسن کاندھلوی نے کہاکہ دورحاضر کی اہم ضرورت یہ ہیکہ کہ مدارس کا ماحول ایسا پاکیزہ اور صاف شفاف بنایا جائے کہ مضبوط اور اونچے گھرانے بھی مدارس سے قریب ہوں اور اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔ پروگرام کے کنوینر اور مولانا حسین احمد مدنی مدرسہ کے ناظم اعلی مولانا سید حبیب اللہ مدنی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور مسابقۃ القرآن کریم کی اہمیت پرروشنی ڈالی۔قبل ازیں مسابقہ کی اختتامی نشست کا آغازدارالعلوم دیوبندکے استاذ مولانا قاری محمدآفتاب صاحب کی تلاوت اور ادارہ کے ایک ہونہار طالب علم کی نعت پاک سے ہوا ، جبکہ نظامت کے فرائض ادارہ کے ناظم اعلیٰ مولاناسید حبیب اللہ مدنی اورمفتی خبیب الحسینی نے مشترکہ طور پر انجام دیئے۔مسابقہ میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کرنے والے طلباء کے نام کا اعلان کل ہند مسابقۃالقرآن الکریم کے کنوینرونگراںمولاناعبدالرحیم فلاحی نے کیا،فرع اول(الف)مکمل قرآن شریف میںاول پوزیشن محمد فاضل پٹھیڑکلاں(مدرسہ فیض العلوم مرزاپورسہارنپور)دوم پوزیش محمد حذیفہ فتحپور(مدرسہ فیض رحمانی سنسارپورسہارنپور)سوم پوزیشن محمد تسلیم ارشاد انبہٹہ پیر (مولانا حسین احمد مدنی مدرسہ انبہٹہ پیر سہارنپور)فر ع اول (ب)مکمل قرآن شریف میں اول پوزیشن محمد زید موروںوالا(مدرسہ دار ارقم آزاد کالونی دہرادون)دوم پوزیشن محمد عزیر بلیل پور(دارالعلوم صدیقیہ نلہیڑہ ہریدوار)سوم پوزیشن محمد صادق مدھیاپور(جامعہ مصباح النور چوسانہ شاملی)فرع ثانی (الف)نصف قرآن میں اول پوزیشن محمد یحی آگرہ (مدرسہ زینت القرآن آگرہ)دوم محمد الطاف امروہہ (جامعہ معارف القرآن امروہہ)سوم محمد مسیب پاجرائیپور(جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ سہارنپور)فرع ثانی (ب) نصف قرآن میں اول پوزیشن محمد مدثر گڑھی دولت(جامعہ بدرالعلوم گڑھی دولت شاملی)دوم مجتبیٰ میرٹھ (مدرسہ روح العلوم میرٹھ)سوم حنظلہ غازی آباد (جامعہ محمودالمدارس مسوری)نے حاصل کی ۔واضح رہے کہ یہ مسابقہ کل آٹھ فروعات پر مشتمل رہا شروع کی چار فروعات میں ایک سے پانچ تک اور آخری چار فروعات میں ایک سے تین تک پوزیشن نکالی گئی، تمام فروعات میںامتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کرنے والے تقریبا ً پینتالیس طلباء کو جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کی جانب سے نقد انعام اور منتظم ادارہ کی جانب سے گراں قدر تشجیعی انعامات سے نوازا گیا نیز کامیاب مساہمین میں سے پوزیشن حاصل کرنے والے چودہ طلباء کو۱۳؍۱۴ ؍۱۵مارچ میں جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے ا ندر منعقد ہونے والے کل ہند مسابقۃ القرآن الکریم کے لئے منتخب کیا گیا ۔ دوران پروگرام ادارہ کا علمی،ادبی و صحافتی ماہنامہ ’’عزم حسین ‘‘ اور ادارہ کے استاذ مفتی محمد راشد مظاہری کی فن صرف میں مرتب کردہ کتاب’’تیسیرالصیغہ فی اصطلاحات علم الصیغہ‘‘ کا اجراء سرکردہ علماء کے ہاتھوں انجام پذیر ہوانیزمدرسہ ہذا سے حفظ قرآن مکمل کرنے والے انسٹھ حفاظ کرام کی دستار بندی بھی مؤقر علماء کے ہاتھوں عمل میںآئی ۔جبکہ پروگرام کے اختتام پر اس کے کنوینر مولانا سید حبیب اللہ مدنی نے تمام مساہمین و مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker