ہندوستان

متنازعہ بیان کے لیے سادھوی پرگیہ سنگھ پرکاروائی کا مطالبہ

مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آبادنے سادھوی کے شہر میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا
اورنگ آباد : ۲۳؍ فروری (رفیع الدین رفیق کی رپورٹ)
مالیگائوں بم دھماکوں کی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے بابری مسجد کو شہید کرنے والے اقبالیہ بیان کو لے کر ایک مرتبہ پھرہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔ اس بیان کی سخت مخالفت کرتے ہوئے شہر اورنگ آباد کی کل جماعتی مسلم نمائندہ کونسل کے ایک وفد نے سڈکو پولس اسٹیشن میںشکایت درج کروائی ۔ شکایت میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر فی الحال ضمانت پر رہا ہے اور اس نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ ۱۹؍ فروری کو اپنے اورنگ آباد دورہ کے دوران سادھوی نے راشٹرہت جن آدھار وشو ست منڈل کی جانب سے جانو بھائورانگڑے میموریل ڈے پروگرام میں شرکت کی تھی ۔ سڈکو ناٹیہ گرہ میں منعقدہ جلسہ میں سادھوی نے اپنے بیان میں کافی متنارعہ باتیں کہیں ۔ جس میںسادھوی نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ بابری مسجد توڑنے والوں میں شامل تھی اور اب رام مندر بنانے بھی جائوں گی۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہواہے ۔ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس طرح کے بیان مسلمانو ں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں ۔ ایسے بیانات کے سبب دو سماجوں کے درمیان تفرقہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ اسی وجہ سے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے خلاف اور پروگرام کے آرگنائزس کے خلاف معاملہ درج کیا جائے ۔ مسلم نمائندہ کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مستقبل میں حکومت کو چاہیے کہ سادھوی ایس متنازعہ بیانات نہ دے سکے اس لیے اس پر سخت سے سخت کاروائی کی جائے اور اس کے شہر اورنگ آباد میں داخلے پرپابندی عائد کی جائے ۔ سڈکو پولس اسٹیشن میں دی گئی شکایت کی نقل پولس کمشنر اورنگ آباد اور وزیرداخلہ کو بھی روانہ کی گئی ۔ نمائندہ کونسل کے صدر ضیاء الدین صدیقی نے ممبئی اُردونیوز کوبتایا کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو مالیگائوں بم دھماکوں کے معاملہ میں مشروط ضمانت حاصل ہے ۔ اس لیے سادھوی کا یہ بیان سپریم کورٹ میں اس کی ضمانتکو منسوخ کرنے والا بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ وفد میں صدر مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آباد ضیاء الدین صدیقی کے علاوہ ، جاوید قریشی ، اویس احمد ، معراج صدیقی ، ڈاکٹر سیف الدین ، کامران علی خان ،ایڈوکیٹ خضر پٹیل ، و دیگر ذمہ داران موجود تھے ۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker