اسلامیاتمضامین ومقالات

رب کے بندوں کی رب سے محبت

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی
دنیا وآخرت کی کامیابی رب کو راضی کرنے میں ہے تمام کے تما م انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام ؓ اور اولیاء عظام نے اس نعمت عظمیٰ کو حاصل کیا اپنے رب کو راضی کیا پھر ان پرانعامات کی بارشوں کا نزول ہوا،کامیابی وکامرانی نے ان کے قدموں کو چوما۔یہ مقام ومرتبہ انہیں رب کی محبت کی وجہ سے ملا جب بندہ کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی ہر بات کو سرتسلیم خم قبول کرتا ہے اور یہ محبت جب رب سے ہوجائے تو پھر رب کہے آگ میں چلانگ لگا لگادیتاہے ، سولی پہ چڑھ کا چڑھ جاتاہے ،آرے کے ساتھ چر جا چر جاتا ہے ،تپتی ریت کے اوپر لیٹ جا لیٹ جاتاہے ،بچے کے گلے پہ چھری چلا چلادیتاہے ، بیت اللہ کو تعمیر کر کر دیتاہے ،اپنے وطن اصلی کو چھوڑ دے چھوڑ دیتاہے ،بچے کو پانی کے حوالے کر کر دیتا ہے ،پھر وہ رب کی رضا وخوشنودی ومحبت کو حاصل کرنے کے لیے ہر وہ کام کردیتاہے جس کا اسے حکم ہوتاہے ۔
اللہ تعالیٰ سے محبت اصل میںوہ مقام و مرتبہ ہے جس کے لئے صالح اور نیک وکار مسلمان آپس میں مقابلہ آرائی اور سعی و جہد کرتے ہیں۔یہ محبت ان کے دلوں اور روح کے لیے غذا کی حیثیت اور ان کے آنکھوں کے لیے ٹھنڈک کا باعث ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے محبت ہی وہ زندگی ہے کہ اگر کسی میں نہ ہو تو وہ باوجود زندہ ہونے کے مردہ نعش کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ وہ روشنی ہے کہ اگر کسی میں موجود نہ ہوتو وہ انتہائی تاریکی میں ڈوبا رہے گا۔ یہ وہ شفا اور علاج ہے کہ اگر کسی میں نہ پائی جائے تو وہ بیمار ہے۔ یہ وہ خوشی اور مسرت ہے کہ اگر کوئی اس سے محروم ہوجائے تو وہ دل و دماغ کی بے انتہا تنگی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا رہے گا۔ یہ دراصل عقیدہ اور اعمال صالحہ کی روح ہے جس کے ذریعہ بندہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قربت حاصل کرتا جاتا ہے ۔اللہ تعالی کی محبت کی کچھ علامتیں اور اسباب ہیں جو کسی دروازے کی کنجی اور کلیدی نوعیت کی حامل ہیں جو کہ درج ذیل ہیں
1۔پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و رہنمائی کی اتباع و پیروی کرنا
اللہ تعالی نے اپنی مقدس کتاب میں فرمایا :ترجمہ :”کہہ دیجئے!اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو(یعنی اسلامی عقیدہ توحید کو قبول کرو، قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ کی اتباع کرو)، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والامہربان ہے”
2۔مومنین کے تئیں رحمدلی اور نرم گوشہ اختیار کرنا اور اللہ تعالی کے ماسوا کسی سے نہ ڈرنا
اللہ تعالی نے مومنین کی ان خصوصیات کا ذکر ایک ہی آیت میں فرمادیا:ترجمہ:”اے ایمان والو!تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لے آئے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وہ نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے، یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والااور زبردست علم والاہے(سورۃ المائدہ، آیت 54)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے محبت کرنے والے مومنین کی خصوصی صفات کو واضح کردیا اور جس میں ان کی سب سے پہلی خوبی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے تئیں انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ کبھی کسی طرح کی ترش روی اور سخت گیری کا رویہ اختیار نہیں کرتے ، اس کے برعکس وہ کفار کے خلاف (ان کے کفر و شرک کی نجاستوں کی بنا پر)سخت گیر ہوتے ہیں اور ان کے روبرو کبھی بھی ذلت و خواری اور عاجزی کا اظہار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والے اس کی خوشنودی کی خاطر کفر و شرک کے تمام شیاطین اور فاسقین کے خلاف جہد مسلسل کرتے رہتے ہیں۔ نیز وہ خود اپنی نفسانی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے بھی (جہاد بالنفس)جدوجہد کرتے ہیں۔ انہیں کسی ملامت گر کی ملامت کا کوئی خوف نہیں رہتا کیونکہ جب وہ اپنے مذہبی و دینی احکامات کی پیروی کرتے ہیں، انہیں نہ کسی تمسخر کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی کسی ملامت کا خوف لاحق ہوتا ہے۔
3۔نفلی عبادات ادا کرنا
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوۃ)اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔(صحیح البخاری: 6502)
نوٹ:نفلی عبادات میں نفلی نمازیں، صدقات و خیرات، عمرہ و حج اور روزہ شامل ہیں
اس حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت کے کئی فوائد ذکر کئے گئے ہیں جیسے :
“میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے” یعنی وہ اپنے کانوں سے وہی سنتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔
“اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے” یعنی وہ اپنی آنکھوں سے صرف وہی حلال چیزیں دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔
“اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے” یعنی اس کے ہاتھ ان کاموں کی جانب اٹھتے ہی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی پسند کے خلاف ہوں۔
“اس کے قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے” یعنی وہ اپنے قدم ان کاموں کی جانب اٹھاتا ہی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی پسند نہ ہوں۔
” پھر مجھ سے کچھ مانگے تو میں اسے یقینا ضرور دوں گا” یعنی میں اس کی دعائوں اور مطالبات کو ضرور پورا کروں گا۔
” اگر مجھ سے پناہ مانگے تو میں لازمی طور پر اسے پناہ دونگا” یعنی تمام ضرر رساں چیزوں سے اس کو محفوظ کردوں گا۔
4۔اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے باہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھنا اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنا، ایک دوسرے کی (معاشی)مدد کرنا اور انہیں مفید مشورے دینا
ان خصوصی صفات کو پیغمبر اسلام محمدﷺ نے ایک ہی حدیث قدسی میں جمع فرما دیاکہ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ “میں ان دو افراد کو اپنی محبت کی ضمانت دیتا ہوں جو میری خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہوں ؛ میری خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے کی (معاشی)مدد کرتے ہوں اور جنہوں نے میری خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیاہو۔(مسند احمد، ترمذی ،الترغیب و الترھیب)
ایک دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ملاقات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی باہمی ملاقاتیں اور محبت اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول یا اس کی عبادت میں باہمی تعاون کی غرض سے ہوتی ہیں۔
رحمٰن کا رحم اور ماں کی رحمدلی
ایک ماں اپنے بچے کے لئے کتنی رحم دل ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور میرا اللہ اس سے بھی بہت بڑھ کر اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے اور قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی اس نے قیدیوں میں اپنے بچے کو پایااس نے اسے اٹھا کر اپنی چھاتی سے لگایا اور اسے دودھ پلانا شروع کردیا
رسول اللہﷺنے ہمیں فرمایا’’تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے گی..؟
ہم نے عرض کیا’’اللہ کی قسم !جہاں تک اس کی قدرت ہوئی ہے اسے نہیں پھینکے گی‘‘
تو رسول اللہﷺ نے فرمایااس عورت کے اپنے بچہ پر رحم کرنے سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر رحم فرمانے والاہے (صحیح مسلم)
یہ ایک انسان کے رحم کی مثال ہے اور دنیا کی تمام مخلوق سے زیادہ اللہ اپنے بندوں سے محبت اور رحم کرتا ہے یہ بندوں کی بدبختی ہے کہ وہ اللہ سے محبت نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے حکموں کی تابعداری کرتے ہیں پھر بھی اللہ اپنے رحم و کرم سے بندوں کو نوازتا ہے ۔
میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ رہتاہوں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺنے فرمایا :اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ رہتا ہوں ، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اکیلے ہی یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی گروہ میں یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر گروہ میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میری رحمت گز بھر اس کے قریب ہوجاتی ہے اور اگر وہ گز بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میری رحمت دونوں ہاتھوں کے پھیلائو کے برابر اس کے قریب ہو جاتی ہے اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میری رحمت دوڑ کر ا س کی طرف جاتی ہے(سبحان اللہ)
5۔آزمائشوں میں مبتلا کیا جانا
کسی انسان پر نازل ہونے والے سخت مصائب و مشکلات اور آسمانی آفات دراصل ابتلا و آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک طرح کا انسانی نفوس کا تزکیہ اور علاج ہے جس کے سخت ناگوار اور تکلیف دہ ہونے کے باوجود آپ اس کے آگے بے بس اور اس کو گوارا کرنے پر مجبور ہیں اور اپنے کسی عزیز ترین فرد کے لئے بھی اس ناگوار چیز کو گوارا کرلیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات مقدسہ اپنی مخلوق کے اوصاف و خصائص سے سب سے زیادہ واقف ہے۔
ایک صحیح حدیث میں مروی ہے، آپ ﷺنے فرمایا “جس قدر آزمائش عظیم ہوگی، اسی کے مطابق جزا دی جائے گی، جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور جو کوئی ان آزمائشوں میں پورا اترتا ہے ، اس کو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوجاتی ہے اور جو شکوہ و شکایت کرتا ہے تووہ اس کے شدید غضب کا شکار ہوجاتا ہے۔ (الترمذی، ابن ماجہ)
مومن کا مصائب اور مشکلات میں مبتلا ہونااس سے کہیں بہتر ہے کہ آخرت میں اس کے لئے سخت ترین عذاب تیار کیا جائے۔ دوسری جانب وہ لوگ کس قدر خوش نصیب ہوں گے جو دنیوی زندگی میں مصائب و آلام میں مبتلا رہے اورقیامت کے دن انہیں اس حال میں اٹھایا جائے کہ ان کے سارے برے اعمال مٹادئیے گئے ہوں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو دنیا میں اس پر مصائب نازل کرتا ہے اور جب وہ اپنے بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو بندہ کو اس کے گناہوں میں امہال اور ڈھیل دے دیتا ہے یہان تک کہ اس کو اس کے گناہوں کے ساتھ قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے۔(الترمذی)
علما کرام نے ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ جن افراد سے مصائب و آلام اور آزمائشوں کو روک دیا گیا ، وہ مشرکین ہیں کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مشرکین سے اپنا عذاب روکے رکھتا ہے تاکہ روز قیامت میں ان کے گناہوں کی سزا دے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ اللہ تعالی ٰسے ہمیشہ دعاگو رہیں کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنادے جن سے تو محبت رکھتا ہے۔
یقیناکامیاب وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں رب کی محبت سما جاتی ہے اور روب تعالیٰ ان سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اللہ پاک ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمادے جو رب تعالیٰ کے محبوب ترین بندے اور نبی پاک ﷺ کے بہترین امتی ہوں (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین )
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker