روبرو

خصوصی ملاقات ابھرتی ہوئی قلمکار تبسم ناڈکر کے ساتھ

مدثراحمد
ایڈیٹرروزنامہ آج کاانقلاب
اردو ادب کی دنیا میں کچھ سال قبل ہی قدم رکھنے والی قلمکار سیدہ اطہر تبسم منظور ناڈکر نے اپنے قلم کے ذریعے سے سماج میں ایک نئی سوچ و فکر کو پید اکیا ہے، ان کے قلم سے لکھے جانے والے مضامین ہندوستان کے مختلف اخبارات میں شائع ہونے کے علاوہ سوشیل میڈیا پر ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔ان کی کرناٹک آمد کے دوران خصوصی بات چیت کی،اس گفتگو کے کچھ اقتباسات ہم اپنے قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں۔
روزنامہ:تبسم جی ہمارے قارئین کو اپنا مختصر تعارف پیش کریں؟
تبسم ناڈکر:میر ا نام سید اطہر تبسم منظور ناڈکر ہے اور میرے والد سیداقبال احمد اور والدہ خیر النساء ہیں،ہمارا گھرانہ تعلیم یافتہ ہے،والد بطور معلم خدمات انجام دیتے رہے اور لکھنے کا ذوق ہمارے خون میں شامل ہے،ویسے میں نے لکھنے کا سلسلہ چند ایک سال قبل ہی شروع کیا ہے،جبکہ میں بچپن سے ہی لکھنے کی خواہشمند تھی،لیکن زندگی کی مصروفیات ،خانہ داری کی ذمہ داریاں اور اولاد کی پرورش و سرپرستی میں اس کام کیلئے وقت ہی نکالنا مشکل ہوگیا،اب چونکہ میں اپنے خانہ داری کے امور سے فارغ ہوچکی ہوں تو لکھنے کا سلسلہ شروع کیا،جس کیلئے مجھے پوری تائید ملک رہی ہے۔خصوصا ً میرے شوہر منظور ناڈکرمیری ہمت ،میری طاقت اور میرا غرور ہیں،آج انہیں کی بدولت میں کچھ لکھنے کے قابل ہو پائی ہوں،میرے شوہر میرے سارے مضامین ہر جگہ میل کرتے ہیں اور جب بھی میں کوئی مضمون لکھتی ہوں تو سب سے پہلے میرے شوپر کو ٹیچر کے طو رپر اصلاح کیلئے دکھاتی ہوں۔
روزنامہ:آپ نے لکھنا شروع کیا تو کس طرح سے لوگوں کے درمیان پہنچنے لگے؟
تبسم ناڈکر: ابتدا ء میں میں اپنے مضامین کو اپنے پاس ہی رکھنے لگی،لیکن بعد میں ممبئی کے روزنامہ انقلاب میں میرے مضامین کو شائع کرنا شروع کیا،جیسے جیسے وہ مضامین شائع کرتے گئے اسی طرح سے میری ہمت افزائی ہوتی رہی۔پھر آہستہ آہستہ ملک کے مختلف اخبارات میں میرے مضامین شائع ہونے لگے او رلوگ ان مضامین کو بڑی ہی دلچسپی سے پڑھنے لگے،اس طرح سے اخبارات ہی مجھے لوگوں کے درمیان پہنچنے کا ذریعہ بنے۔
روزنامہ:جس طرح سے آپ سماجی و قومی مسائل پر کڑوی نکتہ چینی کرتی ہیں اس کا کیا ردِعمل ہے؟
تبسم ناڈکر:99فیصد قارئین نے ہمیشہ میری ستائش کی ہے،میر ی سوچ او رفکر کی تائید کی ہے،آج بھی دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو سچائی اور حقیقت کو جاننا ،پڑھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔اس وجہ سے میرے مضامین لوگوں کے درمیان مقبول ہیںاور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ سماج کاحقیقی آئینہ ہم دکھائیں۔
روزنامہ:آپ کے مضامین میں کن مدعوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے؟
تبسم ناڈکر:میرے مضامین کو اکثر مسلم معاشرے کی تجزیہ کاری ہوتی ہے،قوم کی زبو حالی،انسانی رشتوںکی ناسپاسی،تعلیمی پسماندگی،جدید علوم کی اہمیت اور ضرورت کے تعلق سے لکھنے کے علاوہ میںاصلاح و معلومات کیلئے لکھا کرتی ہوں۔
روزنامہ:آزادی نسواں کے تعلق سے آپ کاخیال ہے؟
تبسم ناڈکر:آزادی نسواں ہونی چاہیے ،لیکن یہ دینی دائرے میں ہو نہ کہ مغربی طرز اس پر حائل ہو۔آج مسلم معاشرے میں عورتوں کو ان کی صلاحیتوں کوعوام کے درمیان پیش کرنے کاموقع کم ہی دیا جاتا ہے ،اگر اہل خانہ کی مکمل تائید خواتین کوملے اور انہیں حدود اللہ کے ماتحت اپنی صلاحیتوں کولوگوںکے سامنے پیش کرنے کا موقع دیا جائے تو ا س سے اچھے معاشرے کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔اگر عورتیں ترقی کرنے لگیں گے تو ان کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کی بھی ترقی ہوگی۔جو عزت عورتوں کو ملے گی، وہی عزت ان کے اہل خانہ کوبھی۔ہمیں یہ سوچنا نہیں چاہیے کہ اگر عورت آگے نکل آئے تو ان کی وجہ سے ہماری عزت کم ہوجائیگی،بلکہ عورتوںکو عزت ملنے سے پورے خاندان کو عزت ملتی ہے۔
روزنامہ:طلاق ثلاثہ پر آپ کو کیا موقوف ہے؟
تبسم ناڈکر:طلاق ثلاثہ شریعت کا معاملہ ہے،اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قرآن کے ذریعے سے ایک کامل دین عطا کیا ہے۔حلال اور حرام چیزیں اسی میں درج ہیں۔طلاق ایک ایسی بدترین چیز ہے جو حلال ہوکر بھی اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے،یہ رحمت بھی ہے اور یہ زحمت بھی۔ایسے میں حکومت کو اس مدعے پر مداخلت کرنے کی ہرگز بھی ضرورت نہیں۔علاوہ ا س کے دیگر سماجی مسائل پر حکومت توجہ دے۔
روزنامہ:نوجوانوں کے نام آپ کیا پیغام ہے؟
تبسم ناڈکر:نوجوانوں سے میں اتنا ہی کہونگی کہ وہ مطالعہ کی عادت ڈالیں،جب تک ہم مطالعہ نہیں کرتے اُس وقت تک ہماری سوچ وسیع نہیں ہوتی اور ہم محدود دنیا میں رہنے لگتے ہیں۔
روزنامہ:آپ کی تصنیفات کونسی ہیں؟
تبسم ناڈکر:میں نے سال2016 سے لکھنا شروع کیا ،اس دوران تقریباً36منتخب مضامین کو میں نے کتابی شکل دی ہے اور اس کتاب کانام گلستانِ تبسم ہے ۔حال ہی میں اس کتاب کارسم اجراء ہوا،اس کتاب کا پیش لفظ معروف اردو دان پروفیسر عبدالستار دلوی نے لکھا ہے،تبصرہ نگینہ ناز منصور ساکھرکر نے پیش کیا ہے،جبکہ رشحات قلم معروف اردو ادیب ہدایت جمعدار نے لکھا ہے،جبکہ اس کتاب کا مجموعی تاثر معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق نے لکھا ہے۔آنے والے چند دنوں میںاور ایک تصنیف منظر عام پر آنے والی ہے۔
روزنامہ:کیاہمارے قارئین آپ سے رابطہ کرسکتے ہیں؟
تبسم ناڈکر:جی ہاں! بالکل ایک قلمکارکیلئے قارئین اور عوام ہی بیش قیمتی خزانہ ہے،جب بھی ہمارے قارئین یا عام لوگ ہم سے رجوع کرنا چاہیں اس نمبر پرابطہ کرسکتے ہیں۔ 9221271871

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker