طب وسائنسمضامین ومقالات

امراض گردے کی تشخیص اوراس کا ہومیوپیتھی علاج

8مارچ ’عالمی کڈنی ڈے‘ کے موقع پر خاص مضمون
ڈاکٹر لبنیٰ کمال(ایم ڈی)
جسمانی اعضاء میں گردوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ ہمارے جسم میں چھلنی کا کام کرتے ہیں،جوجسمانی خون میں موجود زہریلے اور ناپسندیدہ مادے کو چھان کرپیشاب کے راستے باہر نکالتے ہیں۔ انہیں جسم کاکیمسٹ بھی کہاجاتا ہے۔ کرونک کڈنی ڈسیز(CRF) یارینل فیلیور(CRF) گردے کی ایک ایسی بیماری ہے جس میں رفتہ رفتہ گردوں کے کام کرنے کی صلاحیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔اس میں مہینے سے لیکرکئی سال تک لگ سکتے ہیں۔اس کا پتہ بالواسطہ طورسے خون میں سیرم کرییٹینائین(S. Creat) کی مقدار سے لگتا ہے، جب سیرم کرییٹینائین(S. Creat) 1.5 mg/dlسے زیادہ ہو جاتا ہے تو دونوں گردے50%سے زائد خراب ہوچکے ہوتے ہیں اور گردے ایک طرح سے سکڑنے لگتے ہیں۔
عام طور پر زیادہ تر مریض گردے کے کام کرنے کی صلاحیت میں 70%سے زائد کمی آنے پر ہی مرض کی علامات محسوس کرپاتے ہیں۔یہ تین طرح سے ہوسکتا ہے۔پری-رینل، رینل اور پوسٹ رینل سی ۔آر۔ ایف۔
پری-رینل سی۔آر۔ایف:-خاص طور پر لیور فیلیور، ہارٹ فیلیور ہو جانے سے ہوسکتا ہے۔
رینل سی۔آر۔ایف:- گردے کے اندرپوشیدہ ناپسندیدہ تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔جیسے ڈائیبٹیک نیفروسکلروسس، گردے میں سسٹ(ADPKD)، ہائیپرٹینسو نیفرو پیتھی۔
پوسٹ رینل سی۔آر۔ایف:- عام طورسے پیشاب کرنے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ آنے سے ہوسکتا ہے۔جیسے پوسٹیٹ گلینڈ میں ورم یا پتھری۔
علامات:-جب خون میں کرییٹینائن کی سطح 1.5سے زائد ہونا شروع ہوتی ہے تو بھوک نہ لگنا، الٹی آنا، جی متلانا اور کمزوری جیسے ہلکے پھلکے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔دھیرے دھیرے چہرے اور پیروں پر ورم آنے لگتا ہے، بلڈ پریشر بڑھتا ہے،انیمیا، سانس پھولنا نیزپیشاب کی مقدار میں کمی آنے لگتی ہے۔
حل:-کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ’’ پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘۔صرف سیرم کرییٹینائن وپیشاب میں پروٹین کی جانچ سال میں ایک بار کروانے سے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ نینو ہومیو پیتھی انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ویلفیئر،نرالا نگر،لکھنؤ میں HIGH RISK GROUP(وہ لوگ جن کے گردے خراب ہونے کی امید زیادہ ہے) کی جانچ مفت میں ہوتی ہے۔
گردے خراب ہو جانے پر خون میں سیرم یوریا اور کرییٹینائن کی سطح، الٹراسائونڈ کے ذریعہ گردے کی شکل وصورت،گلومرولوفلٹریشن کی شرح،نیز گردے کی بایوپسی سے بھی گردے کوہوئے نقصان کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔خون اور پیشاب کی جانچ باقاعدگی سے کروانی پڑتی ہے۔
علاج:جدید وماڈرن علاج کے طریقۂ کار میں گردے کی خرابی کو دھیما کرنے پر ہی پورا علاج مرکوز رہتا ہے۔ڈائیلسس اور گردے کا ٹرانسپلانٹ ہی واحد علاج ہے۔ایسی کوئی دوا نہیں ہوتی جس سے خون میں کرییٹینائن نیزیوریا کی مقدار کو کم کیا جاسکے۔
ہومیو پیتھی علاج:عام طور پر گردے کوپہنچے نقصان کی تلافی ہونا ناممکن ہے لیکن ہومیو پیتھی طریقۂ علاج میں گردے کے لئے کئی موثر دوائیاںدستیاب ہیں۔دیگر طریقۂ علاج میں مریض کو جو بھی دوائیاں دی جاتی ہیں اس میں کچھ نہ کچھ زہریلا مادہ ضرورہوتا ہے۔اس دوائی کو گردے کوہی چھان کرجسم سے باہر نکالنا ہوتا ہے، لیکن خود گردے ہی متاثر ہونے کی صورت میںیہ اس پر ایک غیر متحمل بوجھ پڑتاہے۔
Consitutionalہومیو پیتھی دوا(CHM) سے جسم میں موجود ایڈلٹ اسٹیم سل کومتحرک کیا جاسکتا ہے۔ یہ سل جسم کے کسی بھی نقصاندہ ٹیشوزکوبحال اوران کو ٹھیک کرسکتی ہے۔ ہومیو پیتھی دوائیاں گردے میںپہلے سے موجود اسٹیم سل(STEM CELL) کو متحرک کرتی ہیں جو کہ نیفرون یا گردہ سل کو مضبوط کرتاہے۔نتیجتاً گردے کے کام کرنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔
ہومیو پیتھی طریقۂ علاج میں کئی موثر دوائیاں دستیاب ہیں جو:-
1۔ گردے کو پہنچے نقصان کوروک سکتی ہے۔
2۔ گردے کے کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے۔
3۔ طویل وقت سے ڈائیلسس کروارہے مریضوں کوبھی پیشاب ہونا شروع ہوجاتا ہے اور پیشاب کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔
4۔ ڈائیلسس کومکمل روکنے یا کم کرنے کے لئے بھی ہومیوپیتھی دوا ئیاںکارگر ہیں۔
5۔ گردہ ٹرانسپلانٹ (TRANSPLANT)کوروکا جاسکتا ہے یا ہومیو پیتھی دوائیوںکی مدد سے تاخیرسے بھی کروایا جاسکتا ہے۔
6۔ مریض کی زندگی یقینی طور پربہترہو سکتی ہے۔
ایپس،ایپوسائنم،فورسفارس،آرسینک،نیٹمیور اور کئی ہومیو پیتھی دوائیاں نہایت مفید ہو سکتی ہیں۔کسی ہو میو پیتھی اسپیشلسٹ سے صلاح لینے سے نیزاس کی ہدایت کے مطابق کھانے پینے میں پرہیز کرنے سے امید افزانتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔گردے کے مریض ٹرانسپلانٹ جیسی تکلیف دہ صورتحال سے بچ سکتا ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker