جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

امارت شرعیہ اور امیرشریعت کا انتخاب

فکرامروز:مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
ملت اسلامیہ کے بے لوث خادم اور نبض شناس عالم دین ،رموز فقہ وفتاوی کے شناور،امت مرحومہ کے لئے دھڑکتا دل رکھنے والے عالم ربانی ،حضرت ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہار کے پٹنہ شہر میں 1926ء میں امارت شرعیہ کی داغ بیل ڈالی ۔اس موقعہ پرامام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ،مولانا حبیب الرحمن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ ،علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ، مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرےاس وقت کے متبحراور ممتاز علما ءموجود تھے۔
اسلام میں شتر بےمہار کی حیثیت سے زندگی گذارنے کی کوئی اجازت نہیں ہے ،اگر مسلمانوں میں خلافت یا امامت کبری موجود نہ ہو اور اقتدار سے وہ محروم ہوں جب بھی شرعی احکام کے مطابق زندگی گذارنے، جمعہ قائم کرنے زکوٰۃ وصدقات کو صحیح مصارف میں خرچ کرنے ،شرعی عدالتیں قائم کرنے اور حسب موقعہ امارت کبری کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کے لئے از روئے شرع ایک امیر کے تحت زندگی گذارنا اور امارت کا نظام قائم کرنا ضروری ہے ۔شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ’’مسلمانوں کو اس طرح منتشر چھوڑنا کہ ان کا کوئی امیر نہ ہو جو ان کے حالات کی تدبیرو تنظیم کرے ،جائز نہیں ،نہ دارالاسلام میں نہ ہی دارالحرب میں ‘‘۔
ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی لکھتے ہیں کہ ’’شریعت کی روشنی میں مسلمانوں کو منتشر گروہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ مربوط اور منظم جماعتی حیثیت سے زندگی گذارنا چاہئے، چنانچہ مسلمانوں کے لئے کتاب وسنت میں ملت ، امت اور جماعت وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور یہ تمام الفاظ منظم جماعتی زندگی پر دلالت کرتے ہیں ۔
میزان شریعت میں منتشر گروہ کی خواہ اس کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو ا سکی کوئی اہمیت نہیں ،جماعتی زندگی اختیار کرنے اورتفرقہ وانتشار سے بچنے کا حکم حدیث میں موجود ہے ،اس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ’’اگر تم میں سے کسی سے ممکن ہوسکے کہ بغیر کسی امام کو مقرر کئے رات بھی نہ گذارےتو وہ ایسا ضرور کرے ‘‘۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ’’ جماعتی زندگی کے بغیر اسلام کا تصور ادھورا ہے اور کوئی جماعت امارت کے بغیر نہیں ہوتی اور امارت کے لئے سمع وطاعت از بس ضروری ہے ‘‘۔
یہی وجہ ہیکہ جب ہندوستان میں انگریزی اقتدار مضبوط ہوگیا تو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتوی دیا اور مسلمانوں کو نصب امیر کا مشورہ دیا ،کیونکہ وہی ان سب کا ولی ہوتا ہے ،جن کا کوئی ولی نہیں ہوتا ،وہی قاضی مقرر کرتا ہے ،اور مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت اس کے سپرد ہوتی ہے ،اور مسلمان دارالحرب میں بھی مادی قوت کے جبر سے نہیں بلکہ اپنی رضا اور اختیار سے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔دارالاسلام سے باہر زندگی گذارنے کے احکام فقہ وفتاوی کی کتابوں میں موجود ہیں اور ان کتا بوں میں شرعی امارت کا حکم بھی پایا جاتا ہے ۔حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے کے بعد ہندوستان میں نظام شرعی کے قیام کی پہلی جدوجہد سید احمد شہید اور انکے رفقا نے کی ۔سید احمد شہید کے ہاتھ پربیعت امارت کی گئی تھی ،بالا کوٹ میں ان کی شہادت کے بعد ایک طویل عرصے تک امارت کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے بعد منقطع ہوا ۔انقطاع امارت کی حالت علماء اسلام کو بے چین رکھتی تھی۔ 1857 ء کے بعد حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کو امیر بنایا گیا تھا لیکن انکی ہجرت اور رفقا ءکی گرفتا ری کے بعد یہ امارت باقی نہیں رہی ۔اس سلسلے میں مسلمانوں کی قیادت اور رہنمائی کی سعادت حضرت ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حصے میں آئی اورحضرت مولانامحمد علی مونگیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مشورے سے سب سے پہلے امیر شریعت حضرت مولانا شاہ بدرالدین صاحب منتخب ہوئے ۔ اس موقعہ پرامام الہندمولانا ابولکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ نے امارت اورامیر شریعت کے عنوان سے دو گھنٹے امت سے خطاب فرمایا ۔ اس وقت سے آج تک امارت شرعیہ نے جو خدمات انجام دیئے ہیں وہ ملک کے کسی بھی فرد سے پوشیدہ نہیں ہے ،امارت کے ذریعہ عظیم کا موں کو سراہتے ہوئے مفکراسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :’’اگر مجھے ہندوستان کے کسی صوبہ پر رشک آتا ہے تو بہار پر اور اگر بہار پر رشک آتا ہے توامارت شرعیہ کی وجہ سے ،کہ وہاں مسلمان اس کی بدولت ایک ایسی زندگی گذار رہے ہیں جو معتبر اسلامی زندگی سے قریب تر اور جاہلی اور غیر اسلامی زندگی سے بعید تر ہے ‘‘۔
قیام کے بعد ایک لمبے عرصے تک امارت شرعیہ تنگ وتاریک کمروں میں اپنی زندگی کے قیمتی دنوں کو گذارتا رہا ۔امارت شرعیہ کو ایک ایسے قائد کی ضرورت تھی جو ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکے ،امیر شریعت ثالث کے وصال کے بعد ہر ایک کی نگاہ حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کی طرف اٹھ رہی تھی اور مولانا اس عظیم منصب کے لئے تیا ر نہیں تھے ۔آخر ان کے استاذ فقیہ امت حضرت مولانا عبدالصمد صاحب نائب امیر شریعت نے اس منصب کے قبول کے کرنے کا حکم دیا کہ آپ اس منصب کو قبول کریں اورفرمایا کہ بلا طلب اگر کسی کو ذمہ داری سپرد کی جاتی ہے تو اللہ کی خاص نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔چنانچہ اس قول فیصل کے بعد حضرت مولانا نے اپنی آمادگی کا اظہار فرمایا اور انتخاب امیر کے خصوصی جلسہ میں آپ چوتھے امیر شریعت منتخب کرلئے گئے ،جس وقت آپ امیر شریعت منتخب ہوئے اس وقت امارت شرعیہ کے کیا حالات تھے حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی سنئے ۔قاضی صاحب لکھتے ہیں : ’’جس وقت آپ امیر شریعت منتخب ہوئے ،امارت شرعیہ کی مالی حالت نہایت خراب ہوچکی تھی ،امارت شرعیہ کا رابطہ عوام سے ٹوٹ چکا تھا ،لوگوں کے ذہنوں میں امارت شرعیہ کا تصور دھندلا سا گیا تھا ۔ایسے نازک حالات میں جب اس کشتی کا کھیون ہار آپ کو مقرر کیا گیاتو اہل ہوس اور کچھ ارباب سیاست کو یہ سب کچھ پسند نہیں آیا اور طرح طرح سے امارت کی مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔کچھ لوگوں نے متوازی امارت کھڑی کرنے کی کوشس کی، کچھ لوگوں نے امارت شرعیہ کا چندہ روکنے کی کوشس کی ،کچھ لوگوں نے اپنی اپنی خانقاہی وابستگیوں کا حوالہ دے کر یہ کہنا شروع کیا کہ اب تو امارت شرعیہ فلاں خانقاہ سے فلاں خانقاہ میں چلی گئی ،غرض یہ کہ تنظیم امت کے اس وسیع سمندر کو اپنے محدود ذہن کے ساتھ ایک چھوٹی سی حد بندی میں محدود کرنے کی کوشش کی گئی ،ذاتیات پر حملوں ،اخباری مراسلوں ،گم نام اور فرضی خطوط اور امارت شرعیہ کے مبلغین اور کار کنوں کو تنگ اور پریشان کرنے کی کوششیں تک کی گئیں ،طوفان سخت تھا ،رات تاریک تھی ،کشتی امارت بیچ موج اور گرداب میں گھری ہوئی تھی ،ایسے وقت میں تنہا وہ مرد زیرک اللہ پر اعتماد کی پتوار لےکر امارت کو اس بھنور سے نکالنے کے لئے مشکل صورت حال سے نبرد آزما تھا۔آخر وہ مرد درویش جسے اللہ نے نگہ بلند ,سخن دل نواز ,جاں پر سوز کی دولت سے نوازا تھا ،اس کشتی کو بھنور سے نکال لایا ،امارت شرعیہ کو فعالیت کی حرارت اور روح تازہ بخشی اور آج امارت شرعیہ بہار،جھارکھنڈو اڑیسہ ہی نہیں پورے ملک میں بلکہ عالم اسلام میں اپنی امتیازی شناخت کے ساتھ متعارف ہے ۔
حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب کا انتقال ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ پورا ملک زعفرانی رنگ میں رنگا ہوا ہے ۔فسطائی قوتیں اس بات کے لئے پورا زور لگا رہی ہیں کہ یہ ملک دوٹکڑوں میں دوبارہ تقسیم ہوجائے اور ہندو ازم قائم ہوجائے جس کے لئے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے کے لئے تخریبی ذہنیت پورے شدو مد کے ساتھ کوشاں ہے ،ایسے وقت میں امیر شریعت کے انتخاب میں پوری سنجیدگی کے ساتھ فکر کرنی ہوگی ،اس وقت پورا ملک ایسی شخصیت کی جانب ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے ،جن کی اولوالعزمی ،فکری تموج ،اصابت رائے اورجو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ،اور وہ عظیم شخصیت ،پیر طریقت ،انقلابی فکر کے حامل سجادہ نشیں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکا تہم کی ذات عالیہ مقدسہ ہے ،جو مسلمانان ہند کے لئے قدرت کا عظیم عطیہ ہیں ،وہ انقلابی فکر اور صحیح سمت میں صحیح اور فوری اقدام کی جرأت رکھتے ہیں ،جس کام کو صحیح سمجھتے ہیں اس سے انہیں لوگوں کی ناراضگی کا خوف روک نہیں سکتا ہے ،عظیم اور ملی مقاصد کے لئے سرگرم عمل رہنے کا جذبہ انہیں اپنے خاندانی پس منظر سے ملا ہے۔خدا کرے وہ دن جلد آئے جب پوری امت حضرت کے ہاتھوں پر اس بات کے لئے بیعت کریںکہ بحیثیت امیر شریعت آپ کا ہر حکم ہمارے لئے آخری ہوگا ۔
(بصیرت فیچرس)
استاذ :دارالعلوم سبیل الفلاح جالے دربھنگہ بہار
امام وخطیب جالے جامع مسجد ,رابطہ نمبر 09431402672

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker