احوال مدارس اسلامیہمضامین ومقالات

دینی مدارس اور ہم؛ غور وفکر کے چند پہلو

☆ مفتی محمد عمرعابدین قاسمی مدنی
دینی مدارس مسلم معاشرہ کےلئے ’’پاورہاؤس‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، کچھ دیر کےلیئے اپنے معاشرہ کی ساخت کو ان مدارس کے بنا دیکھیں!!! آپ کو کیا نظر آئے گا؟؟؟؟نسل نو کے هہاتھوں میں کیا دیکھائی دے رہا ہے؟؟گیتا و بائبل؟؟؟تہذیبی ارتداد؟؟؟اخلاقی اقدار کا فقدان؟؟؟اسلامی شعائرکی بےتوقیری؟؟؟آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا استہزاء؟؟؟؟قرآن اور زبان قرآن سے بے التفاتی؟؟؟بے حیائی و حیا باختگی؟؟؟؟؟ہاتھوں میں زنار؟؟ گلے میں صلیب؟؟جبین نیاز پر قشقہ؟؟؟عائلی (نکاح و طلاق وغیرہ جیسے)مسائل میں غیر اسلامی قوانین کی پیروی؟ ؟ ؟ مساجد کی ویرانی؟؟؟یہ سوالات فرضی یا خیالات سے بالاتر نہیں ہیں، بلکہ تاریخ نے بارہا ایسی مجسم تصویریں ہمیں دیکھائی ہیں ، اگر اسے بہ چشم خود دیکھنا ہوتو: اسپین ہو آئیں،ترکی کی چند سال پیشتر کی صورت حال دیکھ لیں۔قزاقستان و تاجکستان پر ایک نظر عبرت ڈال آئیے۔اور نہ جانے کتنے ملک ہیں جو اسلام سے کاٹ دئیے گئے، کتنے ملک ہیں جہاں اسلام فاتح بن کر داخل ہواتھا، اور برسوں و صدیوں اس خطہ پر حکمرانی کی، مگر آج انہی در ودیوار کےلیئے اجنبی بنا ہوا ہے۔ تاریخ کا گم گشتہ حصہ بنا ہوا ہے۔ اور ہاں اس غلط فہمی کو ذہن میں جگہ نہیں دیجئے گا کہ اسلام ان ملکوں سے سیاسی زوال کے سبب رخصت ہوا!!! بلکہ اس کا راست سبب علماء اسلام اور دینی مراکز کو ختم کیا جانا تھا۔یہ بات مجھ جیسے خاک نشین کی نہیں ہے،یہ بات کسی مدرسہ کے عقیدت مند کی کہی ہوئی نہیں ہے،یہ بات قومی و ملی جذبات سے سرشار ہو کر نہیں کہی جا رہی ہے؛ بلکہ یہ احساس عالمی و صیہونی طاقتوں کاہے۔یہ احساس اس عالمی برادری کا ہے جو اسلام کو اپنے لیئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج یوروپ و امریکہ کے ایوانوں میں ان نہتے مدارس کو لے کر حد درجہ خوف پا یا جاتا ہے۔لاکھوں ڈالر کی لاگت سے مدارس ، ان کے افکار ونظریات اور اہداف و مقاصد پر تحقیقات کروائی جارہی ہے۔ایک امریکی مستشرق نے ترکی پر کتاب لکھی ہے، اور برملا اظہار کیا ہے کہ وہاں اسلامی کی بنیادوں پر کاری ضرب اسی وقت کامیاب ہوپائی جب کہ مدارس اور اہل علم پر پابندی لگائی گئی۔اور نہ جانے کتنی ایسی تحقیقات اور اعترافات ہیںاور بات عالمی صورت حال کی کیا کی جائے، خود وطن عزیز میں نام نہاد سیکولر اور فرقہ پرست حکومتوں نے کیا کسر چھوڑی ؟؟آغاز میں ڈرا دھمکا کرپھر دہشت گردی کے خوساختہ عفریت سے ڈرا کر اور جب یہ سب بےاثر اور بے بنیاد نظر آئے، توکڑوڑوں کی مالی امداد کی پیش کش کی گئی، ان کے صبرو عزم کی قیمت لگائی گئی، مگر قافلہء جنوں نے کبھی اپنی غیرت کا سودا نہیں کیا۔عشق کی راہ اپنائی، خردمندی سے توبہ رکھی۔ان سب باتوں کو لوگ کیوں کر نظر انداز کر دیتے ہیں؟؟؟؟مدرسوں ہی کے حوالے سے کیوں کر سادہ لوحی کا چولہ اوڑھ لیتے ہیں؟؟؟؟ مشکل یہ ہے کہ سطحی قسم کے ہمارے دانشور نہ انہیں پڑھتے ہیں اورنہ چشم بصیرت رکھتے ہیں۔ ہاں محض ان خرقہ پوشوں پر نقد و تنقید سے اپنے نفس کی تسکین کرتے ہیں۔
بہرحال دینی مدارس ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کا ضیاع گویا کہ ملت کا کھوجاناہے،گویا کہ اسلام کو سلام وداع کہنا ہے۔روشنی سے تاریکی کا سفر کرنا ہے۔ اپنے وجود کا سودا کرلینا ہے۔
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو * ید بیضا لیئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
کچھ باتیں اہل مدارس سے بھی کہنا چاہتا ہوں۔کاش در دل پر یہ آہ دستک دے سکے اور دل کے دریچے کو وا کر سکے :جوسرمایہ جتنا قیمتی ہو اس کی حفاظت کا سروساماں بھی اتنا ہی زیادہ کیا جاتا ہے۔ حفاظت کےلئے مستحکم اور زندہ دم نظام اپنایا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ازکار رفتہ نظام پر کاربند رہ کر کب تک اس ورثہ کی حفاظت کی جاسکتی ہے؟؟ نہ’’لسان قوم‘‘ کی تدریس کا اہتمام ہے، نہ معاشرہ سے افادہ و استفادہ کی کوئی راہ ہے۔نہ مقاصد و اہداف کی تحدید ہے،نہ سود و زیاں کا کوئی حساب و کتاب ہے،نہ احساس زیاں ہے،نہ نئے زمانے کے نئے چیلنجس کا ادراک ہے۔آخر اس روش پر کب تلک ہم گامزن رہیں گے؟؟اور کیوں کر اس عظیم اسلامی و تاریخی ورثہ کی حفاظت ممکن ہوگی؟؟؟ یہ احساس سبھی کا ہے کہ ہم سماج اور معاشرہ کے حاشیئے پر جی رہے ہیں!! مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ نبوی اسلوب ہے،؟؟ اور کیا وارث نبی کا تمغہء افتخار اپنے سر لے کر سماج و معاشرہ سے کٹ کر جینا درست ہوسکتا ہے؟؟؟ ہم میں تنقید اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی ہمت ہونی چاہئے۔ تعظیم و تقدیس کا چولہ اوڑھ کر اپنے کردار اور روش کو’’معصوم‘‘ قرار دینا سراسر غیر اسلامی طرز وانداز ہے، جب کہ صحابہ کےلیئے تنظیم و تدبیر مدن جیسے مسائل میں اختلاف رائے کی گنجائش ہوا کرتی تھی۔کمال تو یہ ہے کہ شخصیات اور طریقہء کار پر کی گئی تنقید کو بھی اسلام کے خانے میں ڈال دی جاتی ہے، اور فاسق و فاجر کے تیرو نشتر چلادئے جاتے ہیں۔ اور دین بیزاری کی تہمت سے مجروح کردیا جاتا ہے۔ یہ اسلوب خود ہماری شکست اور بد تہذیبی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اسلام کا احترام ہر کس و ناکس کے دل و دماغ میں جاگزیں ہے ، یہی عام لوگ گستاخان رسول کو کیفر کردارتک پہنچاکر تختہء دار پر جھول جاتے ہیں اور فتوی کی میز پر براجمان اس ’’شہید و مغفور‘‘کےلیئے رقت آمیز دعائے مغفرت کرتے ہوتے ہیں۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق *عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
*** علماء کی ذمہ داری زمانہ آگھی بھی ہے اور جہاں بانی بھی۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں کہ کتنی زمانہ آگہی ہے اور کس قدر جہاں بانی کا فریضہ ادا کیا گیا ہے۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا* ورنہ گلشن میں علاج تنگئی داماں بھی ہے
میری اس تلخ نوائی کو معاف رکھیئے۔ یہ میرے دل کے نالے ہیں جو لوح و قلم کی راہ سے آپ سے تک پہنچے ہیں۔
(بصیرت فیچرس)
*مضمون نگارمشہوراسلامی اسکالر،منصف ٹی وی کے مفتی اورالمعہدالعالی الاسلامی حیدرآبادکے استاذفقہ وحدیث ہیں۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker