مضامین ومقالات

سسکتی جمہوریت اور چیختی روحیں

محمد عامر مظہری، جالے
ملک کے موجودہ حالات میں جمہوریت اور سیکولرزم کی حفاظت کے لیے مکمل یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ سیکولر ذہنیت کو آگے آنے کی ضرورت ہے، محرومیوں کی طویل ترین اندھیری رات میں سیکولر ذہنیت کی چیختی روحوں کی صداؤں کو تقویت پہنچائی جائے، تاکہ ہندوستان میں عوام کے لیے بہتر امکانات کے ساتھ ایک نئی اور روشن صبح طلوع ہو، اس وقت جب کہ فسطائی طاقت کے چنگل میں پھنسا ہوا ہمارا یہ ملک جس طرح سے سسک رہا ہے، اور دنیا کے سب سے برا جمہوری ملک ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف جارحیت تمام حدود کو پار کر گئی ہے، فسادات کی موجیں سروں سے گزر رہی ہیں، متعصب ہندؤں کے لیے خون دل کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں، فرقہ پرستوں کی تنگ نظری سیکولر ذہنیت کے منھ پر کالک توپی جارہی ہے، اور مسلمانوں کے دفاعی قلعوں پر جو خاص طور سے مدارس کی شکل میں موجود ہیں چوطرفہ حملے کیے جارہے ہیں، تاکہ مذہب اور ایمان کی حفاظت کی دیوار ٹوٹ جائے، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جارحیت کی علمبردار مسلم دشمن طاقتوں کو اقتدار کی کرسی بھی نصیب ہو گئی ہے، اور جمہوریت کی جماعتی گاڑی کا رخ نشیب کی طرف ہے جس کی آخری منزل پر بریک نہ لگایا گیا اور اگر سارے نظام پر نگاہ ڈالی جائے تو انسان، عام شہری اس نظام میں کہیں بھی نظر نہیں آتے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اس جمہوریت کے فریم سے جمہور غائب ہیں اور باقی ریت ہی ریت ہے، حکومت کی کسی پالیسی، منصوبہ بندی اور مستقبل بینی میں بنیادی اکائی یعنی انسان عام شہری اور جمہوریت اولین ترجیح نظر نہیں آتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت جمہور کے بغیر مضبوط ہو سکتی ہے؟ کیا کوئی سیاسی نظام عام شہری کو زندگی مہیا کیے بغیر پھل پھول سکتا ہے؟ یہ ایک بڑا المیہ ہے، ایسا شخص جو فکر وتدبر کا مالک ہے اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے لوگوںمیں مقبول ہے، وہ اپنی سلامتی پر خطرہ محسوس کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے دانشوروں نے ملک کے موجودہ پس منظر میں اپنے قیمتی ایواڑ احتجاجاً واپس کیے ہیں، جو ملک کے آبرو کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، اور خود ہمارے صدر محترم نے متعدد بار اس کا اظہار کیا، ہفتہ کو انہوں نے کہاتھا کہ دنیا اب ’عدم رواداری کے بدترین صدمے سے نمٹنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے اور یہ آج کے ہندوستان کی پیچیدہ تنوع کو متحد رکھنے والے اقدار کو تقویت فراہم کرنے اور دنیا بھر میں اسے فروغ دینے کا وقت ہے۔ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے مکھرجی نے لوگوں کو ان خیالات کی یاد دلائی جس کے لئے ہندوستان جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سوامی وویکانند کا یہ پیغام دہرایا کہ ’دنیا کو اب بھی ہندوستان سے نہ صرف رواداری، بلکہ تعزیت کا خیال سیکھنا ہے۔ صدر نے کہا کہ ہم آج ایسے واقعات سے روبرو ہو رہے ہیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں تھی، جب دنیا عدم رواداری اور نفرت کے بدترین صدمے سے نمٹنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے، جن سے انسانی ذات کبھی روبرو نہیں ہوئی تھی۔ صدر نے کہا کہ ایسے وقت میں خود کو اعلی اقدار، تحریری اور غیر تحریر شدہ اقدار، فرائض اور طرز زندگی کی یاد دلانے سے بہتر کوئی راستہ نہیں ہو سکتا جو ہندوستان کی روح ہے۔ صدرجمہوریہ نے اس پر بھی زور دیا کہ ’یہ تہذیب کے اقدار کو تقویت فراہم کرنے کا وقت ہے جو آج کے ہندوستان کے پیچیدہ تنوع کو ایک ساتھ جوڑتا ہے اور اپنے عوام اور دنیا میں اسے فروغ دینے کا وقت ہے۔ دادری میں پیٹ پیٹ کر قتل کرنے اور اس کے بعد کے واقعات سے ہی مکھرجی عدم رواداری اور تکثیریت کے لئے اپیلیں کر رہے ہیں۔ صدر نے تین روزہ کانفرنس میں حصہ لے رہے دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ قدیم زمانے سے سیکھنے تک سمٹے نہیں رہیں یا لوگوں کو ہندوستان کے شاندار ماضی کی بس یاد دلاتے نہیں رہیں بلکہ ’اسے واضح کریں کہ کس طرح تکثیریت ہندوستانی عوام کے مرکز میں ہے۔ اب تو ہندوستان میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ان ممتاز شخصیات کی فہرست بھی روز بروز لمبی ہو رہی ہے جنھوں نے حکومت کی خاموشی پر ناراضی ظاہر کرنے کے لیے اپنے اعزازات واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس صورتِ حال میں ملک تیزی سے دو حصوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ معاشرے کو ایک منظم انداز سے تقسیم کیا جا رہا ہے، اظہار خیال کی آزادی خطرے میں ہے اور اقلیتوں میں خوف کا احساس بڑھ رہا ہے۔
دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی، حکمران بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں ہیں جن کا کہنا ہے کہ سب ٹھیک ہے، بس کچھ لوگ اپنی سیاست چمکانے کے لیے سازش کر رہے ہیں۔تاہم ان لوگوں کی فہرست تیزی سے بڑھ رہی ہے جنھیں موجودہ حالات پر تشویش ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے والے تازہ ترین نام بالی وڈ کے سپرا سٹار شاہ رخ خان کا ہے، جو غیرمعمولی بات ہے کیونکہ فلم اسٹار اکثر تنازعات سے دور رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ ملک میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے اور ایسے ماحول میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔اور اب اداکار عامر خان کے عدم برداشت سے متعلق بیان پرانہیں چوطرفہ تنقیدکاشکارہوناپڑرہاہے۔شاہ رخ خان اورعامرخان کے بیان پرتوالیکٹرانک میڈیاسے لے کرسوشل میڈیاپربحث چھڑجاتی ہے لیکن یہی بیان جب ملک کے اولین شہری صدرجمہوریہ دیتے ہیں توپھرفرقہ پرستوں کی زبان بندہوجاتی ہے۔چنانچہ عامرکے بیان کوموضوع بحث بنانے کے درمیان یہ آوازبھی اٹھ رہی ہے کہ بیان پراختلاف کاپیمانہ کس وجہ سے بدل جاتاہے کیایہ بذات خودعدم تحمل کی دلیل نہیں ہے اورفرقہ وارانہ ماحول کومتاثرکرنے کی
کوشش نہیں ہے۔ عدم برداشت کے معاملے پر مسٹر پرفیکشنسٹ بالی ووڈ اداکار عامر خان کے بیان پر ہنگامہ مچ گیاہے۔انوپم کھیر،کرن رجیجو،شہنوازحسین ،مختارعباس نقوی اوراسمرتی ایرانی نے بیان کی سخت تنقیدکی ہے۔منگل کودہلی کے نیواشوک نگر تھانے میں عامر کے خلاف ایک ڈاکیو منٹری ساز نے شکایت درج کرائی ہے۔وہیں بی جے پی لیڈروں اورفلم دنیاکی شخصیات نے بھی عامر خان کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ، تو کئی نے ان کی حمایت بھی کی ہے۔صبح سے ہی عامرٹویٹرپرٹرینڈ کر رہے ہیں۔وہیں پہلے بھی مودی حکومت کی حمایت میں آگے آچکے اداکار انوپم کھیر نے کہاکہ ہندوستان چھوڑ کر عامر کہاں جائیں گے؟۔مرکزی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کہا ہے کہ عامر کے اس تبصرہ سے ملک کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔پیر کی رات انڈین ایکسپریس کے آٹھویں رام ناتھ گوئینکا ایوارڈتقریب میں عامر نے کہا تھاکہ ملک کا ماحول دیکھ کر ایک بار تو بیوی کرن رائو نے بہت بڑی اور ڈرائونی بات کہہ دی تھی۔کرن نے پوچھا تھا کہ کیا ہمیں ملک چھوڑ دینا چاہئے؟ کرن بچے کی حفاظت کے حوالے سے خوف زدہ محسوس ہو رہی تھیں۔عامر نے یہ بات وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی موجودگی میں کہی تھی۔
اداکار عامر خان کے عدم برداشت کے معاملے پر دئیے گئے بیان کے بعد منگل کو مرکزی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ملک کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش بتایا۔رجیجو نے کہا کہ یہ بحث ایک غلط سمت میں جا رہی ہے۔اس معاملے پر معاشرے کو متحد رکھنے اور ساتھ آنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کے لیڈروں کے کچھ بیانات کو عدم برداشت بتا کر بے وجہ دنیا بھر میں ہندوستان کی شبیہ خراب کی جا رہی ہے۔رجیجو نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں اعداد و شمار دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ این ڈی اے کی حکومت میں اس طرح کے واقعات میں کمی آئی ہے۔وہیں دہلی کے وزیر اعلی نے ٹوئٹ کر کے کہاکہ ہرلفظ جو عامر نے کہا ہے ، وہ صحیح ہے۔میں ان کا اس معاملے پر بات کرنے کے لیے احترام کرتا ہوں۔بی جے پی کو گالیوں اور دھمکیوں کے ذریعے آواز کو خاموش کرنے کی کوشش بند کرنی چاہیے۔یہ وقت ہے جب مرکزی حکومت لوگوں میں تحفظ کا احساس لانے کے لیے اقدامات کرائے۔
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker