سیرت وشخصیاتشخصیاتمضامین ومقالات

سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ : نامور ادیب، معروف صحافی

راحت علی صدیقی قـاسمی
خوبصورتی، دل کشی، رعنائی، زیبائی کا انتہائی اعلیٰ نمونہ اگر دیکھنا ہو تو کشمیر ہی کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ مثالی قوتِ حافظہ ، علمی درک، علمِ حدیث میں اعلیٰ درجے کی مہارت، مشکل ترین مسائل کا آسان حل، پیچیدہ مسئلوں کی تحقیق وتفتیش درکار ہو تو ایک ہی نام دماغ پر دستک دیتا ہے، اس عظیم شخصیت کا نام ان عظمتوں کاحامل ہے کہ جہاں الفاظ کا دائرہ تنگی کے احساس سے شرماجاتا ہے اور اقبال جیسا شخص یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ گذشتہ پانچ سو سالوں کی تاریخ میں کوئی اس درجہ اور اس پایہ کی شخصیت کائنات کو میسر نہ آسکی۔ زمین و آسمان ترس رہے ہیں، احبابِ علم و دانش ایسی عظیم ہستی کی تلاش میں سر گرداں مگر منزل کی قربت کے آثار نظر نہیں آتے، یہ یگانۂ روزگار شخصیت حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہٗ کی ہے، جو چلتی پھرتی لائبریری تھے، جو باتیں عام افراد کی سماعتوں سے ٹکرا کر ہوا ہوجاتی ہیں ان کے ذہن میں سالہا سال تک ایسے محفوظ رہتیں گویا ابھی چند ساعتیں گذری ہوں، اس عظیم صفت اور بے شمار علمی کمالات کے ذریعہ انہوں نے دین کی بے پناہ خدمات انجام دیں، ان کے بعد بھی خانوادۂ انوری پر رونق اور سبزہ زار چمن کی طرح ہے کہ جہاں ویرانی کا احساس نہیں ہوا اور یہاں سے ساری کائنات کی فضا معطر ہوتی رہی۔ علمی، تحقیقی اورتصنیفی خدمات کا طویل سلسلہ اس خانوادہ کی پہچان قرار پایا اور حضرت علامہ کی وفات کے بعد جب یہ گماں ہورہا تھا کہ شاید یہ خانوادہ بھی تاریخ کے صفحات کی زینت بن کر رہ جائے گا ،کون جانتا تھا کہاں تصور کی پرواز اتنی بلند تھی اور سوچا بھی کیسے جاسکتا تھا آپ ایسے دوراہے پر چھوڑ گئے تھے جہاں کشتی موجوں میں ہچکولیں کھا رہی تھی۔ ریت پر نقوشِ پا بنانا کوئی کمال نہیں مگر چٹانوں پر ایسے نشانات قائم کرنا ٹیڑھی کھیر ہے اور انہیں مٹانا کوئی آسان کھیل نہیں، ایسی شخصیات ذہن کے دریچوں میں محفوظ رہتی ہیں جو اپنے اعمال و افکار سے آنے والی نسلوں کے لئے ایک راستہ چھوڑ کر جاتی ہیں، وہ راستہ جومنزل کا پتہ ہی نہیں بلکہ کامیابی کا ضامن ہو، ایسی ہی ایک عظیم شخصیت حضرت مولانا سید ازہر شاہ قیصر کی ہے جو تمام عمر لوگوں کی رہنمائی میں مصروف رہے، جن کے بارے میں بغیر کسی تامل کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ سنگریزوں کو تراشنا ان کا شوق تھا، نہ جانے کتنے قلم کار ان کی دین ہیں جو قلم کی آبر وثابت ہوئے اور امت مسلمہ کی اپنے قلم کے ذریعہ بے لوث خدمات انجام دیتے رہے۔ رجال ساز افراد پیدا کرنا ان کی سرشت میں داخل تھا، ہر شخص اس بات کا معترف ہے کہ آپ ایک عظیم مربی تھے، آپ کی نگاہ اتنی بلند تھی کہ ’’ہیرے کی پہچان جوہری کو ہوتی ہے‘‘ مثال آپ پر پوری طرح صادق آتی ہے، آپ ابتدائی مرحلہ میں بھانپ لیا کرتے تھے کہ کون کس صلاحیت کا حامل ہے۔ وہ افراد جو چند سطروں کے لکھنے پر قادر نہیں ہوتے تھے ان کو آپ نے مضمون نگاری کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔ شاہ جی جیسے عظیم افراد ہی کے لئے کہا گیا ہے :
ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے
شرط اتنی ہے سلیقے سے تراشا جائے
حضرت نے بہت سے پتھروں کو تراش کر ہیرا بنایا۔ جب ان کی کیفیت یہ ہے کہ بہت سے افراد ان کی نگاہِ انتخاب کے رہینِ منت آسمانِ صحافت کے نجوم ثابت ہوئے تو ان کے قلم کی روانی کا اندازہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ شاہ جی کے قلم میں روانی تھی، الفاظ پرشوکت، تعبیرات دل نشیں،سلیس انداز، حقائق کو کھولتی تحریریں شاہ جی کی پہچان ہیں۔ آپ نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی، کہانیاں لکھیں، افسانے لکھے جو مقبول ہوئے، آپ قلم کے شہنشاہ تھے، جس کا اندازہ آپ کی تحریروں سے ہوتا ہے، آپ نے علوم اسلامیہ کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنے قلم کا استعمال کیا، آپ کا قلم حقائق کو عیاں و بیاں کردیتا تھا، آپ جب کسی مسئلہ کو چھیڑتے تھے تو تشنگی کو اس سے کوسوں دور کردیتے تھے، خداوند قدوس نے وہ ملکہ عطا کیا تھا کہ ہر موضوع اور عنوان پر لگاتار لکھتے چلے جاتے تھے، اسی سے آپ کی انشاء پردازی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آپ ایک عظیم انشاء پرداز تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے رسالہ کے عرصۂ دراز تک مدیر رہے اور بے مثل خدمات انجام دیتے رہے اور بہت سے اخبارات و رسائل آپ کے مضامین سے اپنی زینت بڑھاتے رہے۔ دور رس نتائج اپنے مضامین میں پرو دیا کرتے تھے اور ملک کے مسائل اور حالات کو بے غبار کردیا کرتے تھے۔ آج بھی ان کی تحریریں تازگی اور شگفتگی کی حامل ہیں اور موجودہ ملکی و عالمی احوال کی نمائندہ کرتی ہیں جنہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ یہ ان کی خدادا دوراندیشی تھی، سیاسی حالات پر لکھتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ آپ نہ صرف حقائق سے پورے واقف بلکہ ایک قائد ہیں، کوئی گوشہ ایسا نہیں جس سے آپ کا قلم خالی ہو۔ ہر صنف بغیر کسی پریشانی کے لکھنے پر قادر۔ نصف صدی اپنی تحریروں سے کائنات کو فیضیاب کرتے رہے۔ چار ہزار سے زائد مضامین لکھے اجو ہزاروں رسالوں میں باضابطہ شائع ہوئے۔ اگر سب کا تذکرہ کروں تو کئی صفحات سیاہ ہوجائیں۔ آپ کا خصوصی وصف شخصیت نگاری، اہل اسلام کی عظیم شخصیتوں کا تعارف آپ کے قلم کی وہ عظیم خدمت ہے کہ ہر شخص جس کا معترف ہے۔ شاہ جی شخصیت کے ہر گوشے کو پوری طرح نمایاں کردیتے تھے، معاملہ فراز کے اس شعر کی طرح ہوتا تھا ؎
غزل میں جیسے تیرے خدو خال بول اٹھیں
کہ جس طرح تیری تصویر بات کرنے لگے
ان کی شخصیت نگاری کا انتہائی عظیم پہلو ہے جو دیگر افراد کے یہاں نظر نہیں آتا، نمونہ کیلئے چند سطریں پیش خدمت ہیں:
’’مجھے جگر صاحب سے عقید ت نہیں تھی، جگر صاحب عقیدت کے قابل کوئی چیز بھی نہیں تھے یا یوں سمجھئے کہ میری زندگی اور میرے ذہن میں عقیدت کا کوئی خانہ ہی نہیں، مگر ہاں جگر صاحب سے ایک تعلق تھا، ان کے مزاج کی آشفتہ سری اور ناہمواری کے باوجود ان سے محبت تھی، ان کے وحشت ناک چہرے اور بے تکے بالوں کے باوجود ان سے لگائو تھا اور کچھ ایسی محبت تھی جیسے محبت کرنے والوں کو اپنے کسی حسین اور خوش وضع اور خوبصورت محبوب سے ہوتی ہے۔ ان کی غزل نظر پڑتی تو اسے دامنِ دل میںچھپاتا، کبھی ریڈیو پر ان کی آواز سنائی دیتی تو لپک کر اور دوڑ کر سنتا، وہ خود کہیں ملتے تو ان کے پاس سے جانے اور اٹھنے کو دل نہیں چاہتا، ان کا خط آتا تو ہفتوں اسے بار بار پڑھتا۔ ‘‘ (یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ، ص۸۰)
اس اقتباس سے جگر صاحب کی شاعرانہ بلندیوں کا اظہار ہورہا ہے۔ بہرحال شاہ صاحب کا یہ بلند کارنامہ ہے کہ انہوںنے شخصیت نگاری کو صرف تعریف یا برائی کے دائروں میں قیدنہیں کیا بلکہ حقائق کو اس خوبصورتی سے بیان کیا کہ نہ دل آزاری ہوئی، نہ جھوٹ اور نہ آپ پر کوئی تعریف و مبالغہ آرائی سے کام لینے کا الزام دھر سکتا ہے۔ شاہ صاحب ایک عظیم ادیب، مضمون نگار اور انشاء پرداز تھے اور سب سے عظیم خصوصیت جو آپ کی تحریروں میں نظر آتی ہے۔ آپ کے مضامین میں نیرنگیاں ہیں، تنوع ہے، اسلوب میں چاشنی ہے، جاذبیت سے قاری اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا اور آپ کی تحریر میں قید ہو کر رہ جاتا ہے اور اپنے ذہن و دماغ کو الگ ہی دنیا میں محسوس کرتا ہے جو ایک قلم کار کا عظیم سرمایہ ہے۔ ہر کسی کو یہ خوبی میسر نہیں ہوتی ہے جہاں آپ قلم کے دھنی تھے، وہیں اخلاق و عادت میں بھی بے مثال، لوگوں کی آنکھوں سے آنسو ختم کرنا آپ کا شوق اور قہقہوںکی سوغاتیں لٹانا آپ کی عادتِ شریفہ۔ جب جب بھی آپ کو یا آپ کے بارے میں پڑھتا ہوں تو آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں اور یہ آرزو کرنے لگتا ہوں کہ میں نے بھی اس عظیم شخصیت کا دیدار کیا ہوتا ۔
دیوبند کی قلمی، تحریری، ادبی تاریخ کے وہ عناصر خمسہ جنہیں ہم جمیل مہدی، انور صابری، عامر عثمانی، محبوب رضوی، سید محمد ازہر شاہ قیصر کے نام سے جانتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس دنیا میں موجود نہیں، سب اپنے خالق کی بارگاہ میںپہنچ چکے ہیں۔ فکر دیوبند اپنے ان نامور، انسانوں کے کاموں اور کارناموں کا بوجھ اپنے سینے پر محسوس کرتا اور تاریخ ادب و صحافت ان پرنازاں ہے۔ سید محمد ازہر شاہ قیصر نے ادب و صحافت کے راستے میں جو چراغ روشن کئے وہ ہمیشہ جلیں گے، کبھی شاہین جمالی کی صورت میں، کبھی اعجاز عرفی کی شکل میں، کبھی جمیل الرحمن ہاپوڑی کی شخصیت میں، کبھی نسیم اختر شاہ قیصر کے پیکر میں اور کبھی ان قلم کاروں کی تخلیقات میں جنہوںنے قدم قدم پرمولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر مرحوم سے استفادہ کیا۔
رابطہ 9557942062
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker