شمع فروزاںمضامین ومقالات

وعدہ خلافی — ہمارے سماج میں !

شمع فروزاں:مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے آخرت کا نظام یہ رکھا ہے کہ چیزوں کا مہیا ہونا انسان کی خواہشات کے تابع ہوگا، انسان جو چاہے گا فوراً اس کے لئے وہ چیز فراہم ہو جائے گی : ’’وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَشْتَھِی اَنْفُسَکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَاتَدْعُوْنَ‘‘(حم السجدہ: ۳۱) لیکن دنیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے، یہاں انسان ایک چیز کی خواہش کرتا ہے؛ لیکن وہ اسے بر وقت پورا نہیں کر سکتا، وہ ایک چیز کا ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن وہ چیز اسے بروقت مہیا نہیں ہوتی ؛ اسی لئے انسان ایک دوسرے سے لین دین کا محتاج ہوتا ہے، اس لین دین میں اکثر عہد و پیمان کی نوبت آتی ہے ، اس لئے شاید ہی کوئی انسان ہو جس کو زندگی کے مختلف مراحل میں خود وعدہ کرنے یا دوسروں کے وعدہ پر بھروسہ کرنے کی نوبت نہ آتی ہو، وعدہ کرنے والے پر دوسرا شخص بھروسہ اور اعتماد کرتا ہے اور بعض دفعہ اس اعتماد پر خود بہت سے معاملات طے کر گذرتا ہے، اس لئے وعدہ کی بڑی اہمیت ہے ۔
اسی لئے اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور عہد شکنی کی مذمت کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عہد کو پورا کرو ؛ کیوںکہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہوگا : ’’وَاَفُوْا بِالْعَہْدِ ، اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلاً‘‘ (بنی اسرائیل : ۳۴) قرآن نے ان لوگو ںکی تعریف کی ہے ، جو وعدہ کو پورا کیا کرتے ہوں ، (البقرۃ : ۲۲) ایک اورموقع پر بھی ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو اپنے وعدہ کا پاس و لحاظ رکھتے ہوں : ’’وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَ مٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ‘‘ ( المومنون: ۸ ) خود اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا بار بار ذکر فرمایا ہے، کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتے: ’’ وَلَن یَّخْلِفَ اﷲُ وَعْدَہٗ ‘‘ ( الحج : ۶) اللہ کے نبی حضرت اسماعیل ںکی تعریف کرتے ہوئے خاص طور پر اس کا ذکر فرمایا گیا کہ وہ وعدہ کے سچ تھے، ’’اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْد‘‘ ۔(مریم : ۵۴)
رسول اللہ انے اپنے ارشادات کے ذریعہ بھی ایفائِ عہد کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی بُرائی کو بیان فرمایا ہے ؛ چنانچہ آپ انے فرمایا کہ جس میں تین باتیں پائی جاتی ہوں وہ منافق ہے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اگر امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ، ( بخاری ، حدیث نمبر : ۳۳) نفاق کفر کی ایک قسم ہے اور وعدہ خلافی کو آپ ا نے نفاق قرار دیا ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وعدہ خلافی کس قدر مذموم بات ہے، آپ ا نے اپنے عمل کے ذریعہ ایفائِ عہد کی ایسی مثال قائم کی ہے کہ اس کی نظیر ملنی دشوار ہے، عبد اللہ بن ابی الحمساء سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہا کی بعثت سے پہلے آپ اسے خرید وفروخت کی، آپ کی کچھ چیز باقی رہ گئی ، میں نے وعدہ کیا کہ میں یہ چیزیں یہاں لے کر آتا ہوں، میں بھول گیا، یہاں تک کہ آج اور آئندہ کل کا دن گذر گیا، تیسرے دن میں حاضر ہوا تو آپ اسی جگہ پر تھے، آپ انے صرف اس قدر فرمایا : تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا، میں یہاں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (ابو داؤد، حدیث نمبر : ۴۹۹۶)
وعدہ کی پابندی اور ایفائِ عہد کا یہی سبق آپ اسے آپ کے رفقاء نے پڑھا ، اور اپنی عملی زندگی میں اسے برت کر دکھایا؛ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرصکی وفات کا وقت آیا، تو فرمایا کہ قریش کے ایک شخص نے میری بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام دیا تھا اور میں نے اس سے کچھ ایسی بات کہی تھی جو وعدہ سے ملتی جلتی ہے، تو میں ایک تہائی نفاق یعنی نفاق کی تین میں سے ایک علامت کے ساتھ اللہ سے ملنا نہیں چاہتا ، اس لئے میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا ( احیا ء العلوم : ۳ ؍۱۳۲) — ان واقعات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ا اور آپ کے صحابہ ث کی نگاہ میں وعدہ کو پورا کرنے کی کس قدر اہمیت تھی ، دوست ہو یا دشمن، اپنا ہو یا بیگانہ ، اور مسلمان ہو یا غیر مسلم، ہر ایک کے ساتھ عہد کی پابندی ضروری ہے، رسول اللہ ا صلح حدیبیہ سے جوں ہی فارغ ہوئے حضرت ابو جندل صخون میں لہو لہان اور پاؤں میں بیڑیاں لگی ہوئی تشریف لے آئے، اور مسلمانوں سے عرض کناں ہوئے کہ انھیں مدینہ لے جایا جائے، آپ انے اہل مکہ کو راضی کرنے کی کوشش کی، کہ اس دفعہ سے جو مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ جانے والوں کو واپس کرنے کے سلسلہ میں ہے، حضرت ابوجندل ص کو مستثنیٰ رکھا جائے؛ لیکن اہل مکہ نے نہیں مانا؛ چنانچہ بالآخر آپ نے انھیں واپس فرمادیا ، اسی طرح جن غیر مسلم قبائل سے آپ کے معاہدات ہوئے، آپ نے ان معاہدات کا پورا خیال رکھا؛ بلکہ بعض دفعہ مخالفین کی عہد شکنی کو برداشت کرتے ہوئے بھی آپ اپنے عہد پر قائم رہے ۔
افسوس کہ اخلاقی انحطاط اور پستی کی وجہ سے آج سماج میں وعدہ خلافی کی نوع بہ نوع صورتیں مروج ہوگئی ہیں اور لوگوں کے ذہن میں اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ہے ، عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض وغیرہ کے لین دین ہی سے وعدہ کا تعلق ہے، حالاںکہ ہم زندگی کے تمام مراحل میں عہد و پیماں سے گذرتے ہیں، معاملات جتنے بھی ہیں، نکاح ، خرید و فروخت ، شرکت اور پاٹنر شپ ، دو طرفہ وعدہ ہی سے عبارت ہے ، اسی لئے معاملات کو عقد کہا جاتا ہے، عقد کے معنی دو طرفہ وعدہ اور معاہدہ کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ مواقع پر ایفاء عقود کی طرف متوجہ فرمایا ہے : ’’وَاَوْفُوْا بِالْعُقُوْدَ‘‘( المائدۃ : ۱) نکاح کے ذریعہ مرد عورت کے ساتھ حسن سلوک اور اس کے اخراجات کی ادائیگی کا عہد کرتا ہے اورعورت جائز باتوں میں شوہر کی فرماں برداری کا وعدہ کرتی ہے ؛ لہٰذا اگر شوہر بیوی کے ساتھ حق تلفی کرے یا بیوی شوہر کے ساتھ حکم عدولی تو نہ صرف حق تلفی اور عدول حکمی کا گناہ ہوگا ؛ بلکہ وہ وعدہ خلافی کے بھی گناہ گار ہوں گے ، بیچنے والا گاہک سے مال کے صحیح ہونے اور قیمت کے مناسب ہونے کا وعدہ کرتا ہے ، اگر وہ گاہک سے عیب چھپا کر سامان بیچے یا قیمت میں معمول سے زیادہ نفع وصول کرلے اورگاہک کو جتائے کہ اس نے معمولی نفع پر سامان فروخت کیا ہے ، تو یہ عقد تجارت کے ذریعہ فریقین ایک دوسرے کے ساتھ جو عہد کرتے ہیں، اس کی خلاف ورزی ہے ۔
جب آپ کہیں ملازمت کرتے ہیں تو سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ میں جو اوقات کار متعین ہوں، آپ ان اوقات میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا عہد کرتے ہیں، اگر آپ ان اوقات کی پابندی نہ کریں ، دیر سے دفتر پہنچیں ، پہلے دفتر سے نکل جائیں ، یا درمیان میں دفتر چھوڑ دیں ، یادفتر کے اوقات میں مفوضہ کاموں کو انجام دینے کے بجائے اپنے ذاتی کام کرنے لگیں ، تو یہ بھی وعدہ کی خلاف ورزی میں شامل ہے، بعض شعبوں میں ملازمین کو خصوصی الاونس دیا جاتا ہے ، کہ وہ پرائیوٹ طور پر کوئی اور کام نہ کریں ، خاص کر میڈیکل شعبہ میں گورنمنٹ چاہتی ہے کہ ڈاکٹر کی پوری صلاحیت سرکاری دواخانے میں آنے والے مریضوں پر خرچ ہو ؛ کیوں کہ انسان کی قوت کار محدود ہے، اور جو شخص ہسپتال میں آنے سے پہلے اپنی قوت ڈھیر سارے مریضوں کو دیکھنے پر صرف کر چکا ہو، یقینا اب جو مریض اس کے سامنے آئیں گے ، وہ کما حقہ، اس کی تشخیص نہیں کر سکے گا ، اب اگر کوئی شخص گورنمنٹ سے الاؤنس بھی حاصل کرے او رنجی کلینک اور نرسنگ ہوم بھی چلائے تو یہ وعدہ خلافی ہی کے زمرے میں آئے گا اوریہ بات تو ستم بالائے ستم ہوگی کہ جب کوئی مریض سرکاری دواخانہ میں آئے ، تو معالج اس سے ایسی بے اعتنائی برتے ، کہ وہ اس کے پرائیوٹ دواخانہ سے رجوع ہونے پر مجبور ہو جائے ، یہ وعدہ خلافی کے ساتھ ساتھ عوام پر کھلا ہوا ظلم بھی ہے ۔
آج کل بعض سواریوں کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے میٹر لگے ہوئے ہیں، اس میٹر میں فریقین کی رعایت ملحوظ ہے ؛ لیکن ہوتا یہ ہے کہ پسنجر کی مجبوری او رضرورت کو دیکھتے ہوئے میٹر سے زیادہ پیسے طلب کئے جاتے ہیں ، یہ بھی وعدہ خلافی کے زمرہ میں داخل ہے ؛ کیوں کہ گورنمنٹ کا ٹیکس لائسنس ٹیکس کے قواعد و ضوابط کے ساتھ مربوط ہے ، گویا لائسنس لینے والا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ گورنمنٹ کی ہدایت کے مطابق ہی پیسے وصول کرے گا ، لوگوں کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے زائد پیسوں کا طلب گار ہونا اس عہد کی خلاف ورزی ہے۔
وعدہ کا تعلق ہماری تقریبات ، جلسوں اور دعوتوں سے بھی ہے، مثلاً دعوت نامہ میں لکھا گیا کہ نکاح عصر کے بعد ہوگا؛ لیکن جب تقریب میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ نوشہ صاحب اپنی شانِ خاص کے ساتھ عشاء کے بعد تشریف لائے ، دعوت نامہ میں لکھا گیا کہ طعام ولیمہ ۸ بجے شب میں ہے ؛ لیکن حقیقت معنوں میں دعوت کی ابتداء دس بجے شب سے ہوئی ، کیا یہ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ غور کیجئے کہ لوگ ایسی تقریبات میں شرکت اپنے تعلقات کی پاسداری میں کرتے ہیں، کسی کے یہاں بیماری ہے ، کوئی خود بیمار ہے، کسی نے تقریب کے وقت کے لحاظ سے آئندہ پروگرام بنا رکھا ہے، ایسے مواقع پر یہ تاخیر اس کے لئے کس قدر گراں گذرتی ہے آکر واپس ہونے میں میز بان کی ناگواری کا اندیشہ اور انتظار کرنے میں دوسرے پروگرام متأثر !
افسوس کہ دینی جلسوں اور پروگراموں میں بھی ہم اس کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتے، اعلان ہوا کہ نمازِ عشاء کے فوراً بعد جلسہ شروع ہوگا؛ لیکن عملاً مزید دو گھنٹہ تاخیر سے جلسہ کا آغاز ہوا، دعوت نامے میں صبح ۹ بجے سے جلسہ کا اعلان کیا گیا؛ لیکن جلسہ کا آغاز ہی ۱۱ بجے کے بعد ہوا ، یہ وعدہ خلافی بھی ہے اور وقت کی ناقدری بھی، کچھ یہی حال بعض مقررین کا ہوتا ہے، مقرر صاحب کو وقت ۲۰؍ منٹ کا دیا گیا ؛ لیکن جب مائک ان کے ہاتھ میں آیا تو انھیں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ اس پروگرام میں ان کے سوا کسی اور کو تقریر کا حق نہیں، اور اس طرح دوسرے مقررین کے لئے یا تو وقت نہیں بچا ، یا سامعین کے صبر کا امتحان ہوتا رہا ؛ حالاںکہ اسلام نے تمام عبادتوں کو وقت کے ساتھ مربوط رکھا ہے، نماز کے لئے اوقات مقرر ہیں، وقت گذر جائے تو نماز قضاء ہو جائے گی ، وقت سے پہلے پڑھ لی جائے تو نماز ادا ہی نہ ہوگی، روزہ بھی وقت سے متعلق ہے ، دو منٹ پہلے افطار کر لے تو روزہ درست نہیں ہوگا ، دو منٹ بعد سحری کھائیں تب بھی روزہ فاسد ہو جائے گا ، حج بھی پانچ مقررہ ایام میں کیا جاتا ہے اور حج کے تمام افعال کے لئے ایام و اوقات مقرر ہیں ، زکوٰۃ کا تعلق بھی مال پر سال گذرنے سے ہے ، عجیب بات ہے کہ جس دین میں وقت کا اتنا پاس و لحاظ ہو ، اسی دین کے ماننے والوں میں وقت کی اس درجہ ناقدری اور نا حق شناسی یہ سب باتیں وعدہ خلافی میں داخل ہیں !
ہم جب کسی ملک کی شہریت اختیار کریں تو یہ اس ملک کے قوانین پر عمل کرنے کا عہد کرنا ہے ؛ لہٰذا جب تک وہ قوانین اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ ہوں یا صریحاً ظلم پر مبنی نہ ہو ان قوانین کا پابند رہنا ہم پر واجب ہے اور اس کی رعایت نہ کرنا ملک کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی ہے، اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے — غرض ، سماجی زندگی میں ہم ہر جگہ ایک عہد کے پابند ہیں، بعض عہد ہم اپنی زبان سے کرتے ہیں ، بعض عہد ملک کے شہری ہونے کے لحاظ سے از خود ہم سے متعلق ہو جاتا ہے، بعض عہد کسی معاملہ کی وجہ سے شرعاً ہمارے ذمہ ہوتا ہے اور بعض سماج کے عرف و رواج کی بنیاد پر بھی ہمارے لئے واجب العمل ہوتا ہے، ہم پر ان سب کی پاسداری ضروری ہے، مگر زندگی کے کتنے ہی مراحل میں ہم اپنے عہد و پیمان توڑتے ہیں اور وعدے وفا نہیں کرتے، اس پر دقت ِنظر کے ساتھ غور کرنے اور وعدہ خلافی وبدعہدی کے گناہ سے بچنے کی ضرورت ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker